اردو‎ > ‎

خواتین


Buy Books. Do Good. Support Local Charities IHG_VisitDubai Winter Wander Japan 2018

آزاد کشمیر میں  جبری شادی اور خواتین کو جائیداد میں حصہ نہ دینے کے خلاف قانون کی منظوری

وزیر اعظم آزادکشمیر کے ترجمان راجہ وسیم کے مطابق اس قانون کی منظوری کابینہ کے اجلاس میں دی گئی جس کے تحت جبری شادی اور خواتین کو وراثت میں حصہ نہ دینے پر تین سے دس سال تک قید اور جرمانے کی سزا رکھی گئی ہے۔

کابینہ کی طرف سے منظور کیے گئے قانونی مسودے کے مطابق جبری شادی اور ونی یا بدلے سربدلے کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے تین سے سات سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوگئی، جبکہ عورتوں کو وراثت سے حصہ نہ دینے کی سزا پانچ سے دس سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ مقرر کی گئی ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک قانون دان راحت فاروق  نے عالمی خبر رساں ادارے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حکومت کی طرف سے ایسے قوانین کا بنانا خوش آئند ہے کیونکہ پاکستانی کشمیر میں اس سے قبل جبری شادیوں اور وراثت میں حصہ نہ دینے خلاف قوانین موجود نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے مذہب میں عورتوں کے لیے وراثت میں حصے کے بارے میں احکامات موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ مذہب سے دوری ہے۔

راحت فاروق نے بتایا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ونی کے واقعات نہ ہو نے کے برابر ہیں۔

پاکستانی کشمیر میں خواتین کی شرح خواندگی پاکستان کی نسبت زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود جبری شادی واقعات منظرعام پر آتے رہتے ہیں، اور وراثت میں حصے نہ دینے کے واقعات بہت زیادہ ہیں-


کشمیری لڑکیاں اور مارشل آرٹ

گزشتہ برس سری لنکا میں منعقد ہونے والی تیسری جنوبی ایشیائی سقے چیمپئن شپ میں ایک ایک سونے کا تمغہ اپنے نام کرنے کے بعد  بھارتی مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی سکینہ اختر اور سلمیٰ راشد متعدد کشمیری لڑکیوں کے لئے وجہِ تحریک بن گئی ہیں۔

   قدیم روائتی کشمیری مارشل آرٹ  ایک ایسا کھیل ہے جس میں  ماہر کھلاڑی ایک تلوار اور ڈھال کے ساتھ ساتھ مقابلہ کے لئے ضرب لگانے، ٹھوکریں، مکّے، پیچ اور کاٹنے جیسے متنوع حربے استعمال کرتے ہیں۔

یہ دونوں سری لنکا میں تیس رکنی بھارتی ٹیم کا حصہ تھیں اورانہوں نے ملک کے لیے آٹھ میں سے دو سونے کے تمغے حاصل کیے۔  مزید پڑھیے



خواتین پر تشدد کے خلاف پریس فار پیس کی آگاہی مہم


پریس فار پیس باغ نے خواتین پر تشدد کے خلاف آگاہی مہم شروع کی ہے جس کا مقصد عورتوں پر ہونے والے تشدد، امتیازی سلوک اور دیگر تعصبات کے خلاف عوام میں شعور کی بیداری ہے۔اس دوران کانفرنسین، اجتماعات، سیمناررز اور دیگر سرگرمیا ں کی جائیں گی۔اس مہم کا اعلان پریس فار پیس باغ کے سینئر عہدے داران زاہد گیلانی،شوکت تیموراور فریال حمیدبٹ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انھوں نے کہاکہ پریس فار پیس باغ نے سیودی فیوچر(ایس ٹی ایف ) کے اشتراک سے خواتین پر تشدد کے خلاف مہم شروع کی ہے جو خواتین پر تشدد کے خلاف جاری پندرہ روزہ اقوام متحدہ مہم کا حصہ ہے۔ مزید پڑھیے

Comments