خطرے سے دوچار صاف پانی


ااقوام متحدہ کا ماحولیاتی پروگرام اس دنیامیں پانی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔اس کے مطابق اس وقت ہر چھ میں سے ایک شخص ، 2025میں دنیا کے آدھے ممالک اور2050میں ہر پانچ میں سے تین شخص پانی کی کمی کا شکار ہوں گے۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ وہ 26 فیصدتازہ اور60فیصد استعمال شدہ پانی دوبارہ صاف کرکے استعمال رہا ہے۔ بھارت کے 14بڑے دریا ؤں کی 33فیصد لمبائی رقبہ آلودہ ہو کر کسی بھی شعبے کے لئے ناقابل استعمال ہو گیا ہے۔بھارت میں پانی کی دستیابی کی کمی44فیصد ریکارڈ ہوئی ہے۔ پانی سے متعلق امور، اس کے ذخیرہ ، اس کی ری سائیکلنگ ، انفراسٹرکچراور استعمال کو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ اکثر ممالک میں پانی ایک ایسا عنصر ہے جسے اسے انسانی ضرورت کے عنصر یا بنیادی حقوق کے حصے کے طور پر نہیں سمجھ کر انتظام نہیں کیا جاتا۔ زیر زمین پانی کے نکالنے کا کوئی ضابطہ نہیں ہے، جس کا جہاں اور جتنا دل چاہے زمین سے پانی نکال سکتا ہے۔ صرف بھارت میں دو کروڑ ٹیوب ویل ہیں جوکسی ریگولیشن کے بغیر چل رہے ہیں۔ ان ٹیوب ویلوں کے علاقوں میں زیر زمین پانی کا لیول مسلسل گر رہا ہے۔صنعتی اور زرعی صارفین کے جہالت خود غرضی اور برے انتظام کی بدولت دریاؤں، نہروں اور زیر زمین پانی کی آلودگی بڑھ رہی ہے۔
جنوبی ایشیاء میں پانی کے معاملات اور چیلنجز اپنے تنوع، قدرتی، سیاسی، سماجی، معاشی، تاریخی اعتبار سے بہت پیچیدگی کے حامل ہیں۔ جس کا نتیجہ سیلاب، خشک سالی اور پانی کی کمی، موسمی تغیرات گلیشئر کے پگھلاؤ اور ارضی ماحول کی صورت میں اکثر نکلتا ہے۔ دریاؤ ں میں گار، نمکیات، کھارا پن، اور آلودگی بڑھ رہی ہے جس کے باعث یہ پینے اور زراعت کے لئے ناقابل استعمال ہو رہا ہے۔پانی کے زراعت کے استعمال میں بد انتظامی/ضیاع، زیر زمین پانی میں مسلسل کمی، زراعت کے پانی کی تقسیم کا متروک انفرا سٹرکچر بڑی وجوہات ہیں۔ اس صورت حال کو بارش کے پانی کوذخیرہ کر کے ،پانی سے متعلق فرسودہ قوانین کے خاتمہ، غیر سرکاری تنظیموں کی معاونت، سماجی ذمہ داریوں کی ترویج اور پانی کی نجکاری اور واٹر منیجمنٹ ٹیکنیکوں کا استعمال، پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانا اور سمندری پانی کی ٹریٹمنٹ سے ختم کیا جا سکتا ہے۔

میٹھے پانی کے موجودہ ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ پانی کے وسائل میں بد انتظامی، زیر زمین گنجائش سے زیادہ پانی کی نکاسی، بڑھتی ہوئی آبادی، موسمی تغیر، ماحولیاتی تبدیلی، کم ہوتی بارشیں برفانی تودوں کا پگلاؤہے۔ بری انتظامیہ، فرسودہ قوانین، صنعتی، زرعی ، حیواناتی انسانی فضلہ، آبادی میں اضافہ نے اس صورتحال کومذید گھمبیر کیا ہے۔ جن سے اناج کی کمی، پانی کے اندرون ملک اور دیگر ممالک سے تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔ 
زندگی کو بچانے کے لئے میٹھے پانی کو بچانا ہو گا۔ہمیں آج ہی سے پانی کے گھریلو، زرعی اور صنعتی استعمال میں سائنسی انداز اپنانا ہو گی۔ پانی کے دستیاب وسائل اور بارش کے پانی جو کرۂ ارض پر میٹھے پانی کا سب سے بڑاذریعہ ہے کوضائع ہونے سے بچانا ہو گا۔ پانی سے متعلق قوانین کو جدید دور کے مطابق ڈھالنا ہو گا۔ بے ہنگم طور پرزیر زمین پانی کی نکاسی پر پابندی عائد کرنا ہو گی۔ میٹھے پانی کے غیر انسانی استعمال سے متعلق قواعد بنانے ہوں گے صنعتی، تعمیراتی ، گاڑیوں، گھروں کی دھلائی پر مکمل پابندی لگانا ہو گی۔، صنعتی، زرعی اور گھروں کے فضلہ زدہ اور مضر ماحول کیمیکل والے پانی کو میٹھے پانی میں شامل ہونے سے قبل صاف کرنا ہو گا۔ پانی کی سپلائی لائینوں کو ٹھیک حالت میں رکھنا ہوگا اور اس کو گٹر کی لائنوں سے ملنے اور رسنے سے روکنا ہو گا۔ پانی کی راشن بندی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سرکاری طورپر بہم پہنچائے جانے والے پانی کی قیمت کاحقیقت پسندانہ تعین کرنا ہو گا تاکہ اس کی بے قدری اور ضیائع کو روکا جا سکے۔ زرعی مقاصدکے لئے70فیصد سے 94فیصد تک میٹھا پانی استعمال ہوتا ہے۔ جدید طرز اپنانے سے یہ شرح 50فیصد تک آ سکتی ہے۔ صنعتی پانی کے استعمال کو باقاعدہ بنانے سے آلودگی کا خاتمہ ممکن ہے جس سے میٹھا پانی دیگر مقاصد کے لئے زیادہ استعمال ہونا ممکن ہے۔سب سے زیادہ توجہ آلودگی کے خاتمہ، ایسی فصلوں کی کاشت جن میں کم سے کم پانی درکار ہو، موسمی تغیرات اور ماحولیاتی تبدیلیوں پر دینا ہو گی تا کہ ، گلیشئرز کے حد سے ذیادہ پگھلاؤ ، سطح سمندر کی بلند ہوتی سطح پر قابو پایا جا سکے ۔اس کے ساتھ ساتھ ہمیں پانی کے استعمال سے متعلق عوام کے رویوں میں تبدیلی لا نی ہو گی ۔ ان اقدامات سے ہم اپنی آئیندہ نسلوں کے لئے قدرت کی اس نعمت اور بنیادی ضرورت کو بچا سکیں گے۔ 
جنوبی ایشیاء کے نو ممالک افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت، ایران، نیپال، پاکستان، سری لنکا، مالدیپ میں دنیا کی ایک چوتھائی آبادی رہتی ہے۔ دنیا کے انتہائی غریب افراد کا 50فیصد یہاں رہتے ہیں۔ جن کی یومیہ آمدن ایک ڈالر سے بھی کم ہے۔اگرچہ جنوبی ایشیاء میں کل زمین کے ایک تہاتی قابل استعمال پانی کے ذخائر ہیں لیکن یہاں کے لوگوں کو کل کرۂ ارض کے 43,659ارب مکعب میٹرسالانہ قابل استعمال پانی کا صرف 4.2فیصد یعنی 1945ارب مکعب میٹرپانی
دستیاب ہے ۔ 
زراعت کے لئے عالمی سطح پر70فیصداستعمال کے برعکس اس خطہ میں تقریباً 90 سے 95فیصد پانی زراعت کے مقاصد کے لئے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ جبکہ صنعتی اور گھریلو استعمال کی شرح خاصی کم ہے۔ شرح نمود کی نسبت پانی کی دستیابی کے لئے سرمایہ کاری کی شرح عالمی سطح پر پانچ بڑے ممالک برازیل، چین، فرانس میکسیکو اور امریکہ کے 24ڈالر فی معکب میٹر پانی کی نسبت جنوبی ایشیاء میں یہ شرح1.4 سے 4ڈالر ہے۔ اس خطہ میں انسانی آبادی اورصنعتی سرگرمیوں کا شدید دباؤ ہے۔ پانی کے استعمال میں توازن رکھنے کے لئے یہاں پانی کے دستیاب زخیروں سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے آبادی کو صاف پانی کی فراہمی ، نکاسی آب، زراعت و خوراک، بجلی کی پیداوار، سیلابوں پر قابو، سیم و تھور اور موسمی تغیرات سے بچاؤ، ماحولیاتی آلودگی، بڑے ایشو ہیں۔
جنوبی ایشیاء میں میٹھے پانی کے ذخائر کی صورت حال خاصی تشویشناک ہوتی جارہی ہے۔ جنوبی ایشیاء میں گنگا-برہمن پتراء-میگنا، سندھ اور ہیلمند طاس بڑے دریائی سلسلے اور تازہ پانی کی فراہمی کے ذرائع ہیں۔ بھارت دنیا کی آبادی کا چھٹا حصہ ہے لیکن اس کے پاس دنیا کا صرف پچیسواں حصہ پانی ہے۔ بھارت اس وقت 829ارب کیوبک میٹر پانی استعمال کر رہا ہے۔ 2050میں اس کی ضرورت 1.4ٹریلین کیوبک میٹرہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ 2025تک اس کی شہری آبادی 30فیصد سے بڑھ کر50فیصد ہو جائے گی جوپانی کی دستیابی کے موجودہ بحران کو سنگین تر بنا دے گی۔ دریاؤں اور جھیلوں کا پانی آلودہ تر اور زیر زمین پانی قریب الختم ہو جائے گا ۔ حکومت میں اتنا دم خم نہیں ہو گا کہ وہ دریائی پانی کو صاف کر سکے یا کوئی اور طریقہ استعمال کرے۔ دیہی معیشت بھات کی دو تہائی پر مشتمل ہے۔ جو بھارت کے کل پانی کا 90فیصد استعمال کرتی ہے۔ پانی میں آلودگی کے بڑھتے ہوئے تناسب کی وجہ سے 80فیصد پانی زیر زمین نکالا جاتا ہے اس وقت 35بھارتی ریاستوں میں سے صرف7میں پینے کے پانی کی حالت تسلی بخش ہے 30فیصد دیہی آبادی پینے کے صاف پانی کی سہولت سے محروم ہے۔ بین الحکومتی پینل برائے ماحولیاتی تبدیلی IPCC کے مطابق گزشتہ سو سالوں کے دوران ارضی درجہ حرارت میں 1ڈگری اضافہ ہو چکا ہے۔ گلیشر جو گنگا، سندھ، برہما پتر، میکانگMekong، تھنلونگThanlwin، ینگ زیYangtze، زرد دریا ؤں کا بنیادی ماخز ہیں 33سے49فٹ سالانہ کے حساب سے کم ہو رہے ہیں۔ درجہ حرارت بڑھنے سے غیر متوقع بارشیں، مون سون کا دورانیہ اور سیلابوں کی شرح بڑھ رہی ہے۔ 
دہلی سمیت بھارت کے دس لاکھ سے زائد آبادی والے 35شہر ایسے ہیں جو چند گھنٹوں سے زیادہ پانی ذخیرہ نہیں کر سکتے۔ دلی کو 36ملین کیوبک میٹر روزانہ پانی کی ضرورت ہے جبکہ دلی آب رسانی کا محکمہ صرف 30ملین فراہم کر رہا ہے جس میں سے 17ملین صارفین تک درست طور پہنچ رہا ہے۔ کیونکہ 5600میل لمبی پائپ لائنوں میں سے 40فیصد ٹوٹی ہونے کے باعث ان سے پانی رس جاتا ہے۔جس سے 27فیصد دلی کے گھریلو صارفین کو ناکافی پانی مل رہا ہے۔ انتظامیہ پائپوں کو ٹھیک کرنے کے بجائے ٹینکروں کے ذریعہ پانی فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے جس سے شہریوں کے مسائل تو حل نہیں ہوتے البتہ محکمہ آب رسانی اور پرائیویٹ ٹینکر کمپنی والوں کی چاندی ضرور ہو رہی ہے۔ اسی طرح دلی ہر روز 3.6ملین کیوبک میٹر سیوریج پیدا کرتا ہے جس میں سے صرف 50فیصد ہی کی ٹریٹمنٹ کی جا سکتی ہے۔ دراصل دلی کی 45فیصد آبادی پبلک سیوریج سسٹم سے منسلک ہی نہیں ہے نتیجہ جمنا دریا میں مسلسل بڑھتی ہوئی آلودگی جواس کے پانی کو ناقابل استعمال بنا رہی ہے۔ بھارت میں 21فیصد وبائیtransmissible امراض غیر محفوظ پانی کی بدولت پروان چڑھ رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق بھارت کی800ملین آبادی فراہمی و نکاسی آب کی مناسب سہولیات سے محروم ہے۔ دلی آب رسانی کی آڈٹ رپورٹ نے تو بیچ بازار بھانڈہ پھوڑا کہ 200ملین ڈالر خرچ کرنے کے باوجود شہر میں پانی کی آلودگی کے خاتمہ اور فراہمی سے متعلق کوئی بہتری نہیں آئیْ سیوریج، صنعتی فضلہ، زرعی ادویات، آرسینک اور فلورائیڈ کے ذرات نے صاف پانی کو پینے، زراعت اور صنعتوں کے لئے آلودہ کر دیا ہے۔ 

تحریر : طارق درانی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 2010کی قرارداد کے مطابق صاف، محفوظ پانیکی فراہمی اور گندے پانی کی نکاسی بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہیں۔ پانی زندگی کا جز لاینفک ہے۔اس کے بغیر کسی قسم کی انسانی، حیوانی، زرعی یا صنعتی سرگرمیاں ناممکن ہیں۔ اگرچہ کرۂ ارض کا75فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے لیکن اس پانی کا 97.5فیصد حصہ کھاراہے جبکہ صرف 2.5فیصد میٹھا ہے۔ میٹھے پانی کی فراہمی میں گلیشیئرز کا حصہ 68.7فیصد، زیر زمین 30.1فیصد، ُ Permaforest 0.8 فیصد اور زمینی اور بخاراتی پانی کا تناسب 0.4فیصد ہے۔ پانی کی کمی سے خوراک میں کمی، مال مویشی کی ہلاکتیں، بڑے پیمانے پر آبادی کا انخلاء اندرون و بیرون ملک ہجرت، انسانی صحت اور خوشحالی، بچوں میں پانی سے پیدا ہونے والی بڑھتی ہوئی بیماریاں، عدم استحکام معاشی اور سیاسی حالات میں بگاڑ پیدا ہوتے ہیں۔

   ۔ جنوبی ایشیاء سمیت اکثر ریجنوں میں پانی کے مسائل قدرتی وجوہ کی بناء پر نہیں بلکہ بری گورنس کی بدولت ہیں۔ 

میٹھے پانی اور آبادی کا تناسب ہر براعظم میں یکساں نہیں ہے ۔ شمالی اور وسطی امریکہ دنیا کی کل آبادی کا 8فیصدہیں لیکن اس کے پاس کل دنیا کے 15فیصد پانی کے ذخائر ہیں۔جنوبی امریکہ دنیا کی کل آبادی کا 6فیصدہیں لیکن اس کے پاس 26فیصد پانی کے ذخائر ہیں۔
یورپ کل آبادی کا 13فیصدہیں لیکن اس کے پاس8فیصد پانی کے ذخائر ہیں۔ آسٹر یلیا کل آبادی کا 1فیصدہیں لیکن اس کے پاس 5فیصد پانی کے ذخائر ہیں۔افریقہ کل آبادی کا 13فیصدہیں لیکن اس کے پاس 11فیصد پانی کے ذخائر ہیں۔ ایشیاء کل آبادی کا 60فیصدہیں لیکن اس کے پاس 36فیصد پانی کے ذخائر ہیں۔ہر سال کرۂ ارض پر 0.11ٹریلین لیٹر بارش ہوتی ہے جس کا 92فیصد مختلف وجوہ کی بناء پر ضائع ہوجاتا ہے۔ اس وقت فی کس پانی کی دستیابی کی شرح6000کیوبک میٹر سالانہ ہے انسانی، زرعی ، صنعتی اور ماحولیاتی ضرورت کے لئے 1000کیوبک میٹر سالانہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ امریکہ میں پانی کا سالانہ استعمال 3000کیوبک میٹرہے۔ شام اردن میں 500اور یمن میں 200کیوبک میٹر سالانہ پانی دستیاب ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں پانی کے فی کس استعمال کی شرح زیادہ ہے لیکن پانی کے بہترانتظام کی تکنیکوں اور عمل کی بدولت وہ اپنی آبادی کی مستقبل کی ضروریات پورا کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔



انسانی آبادی سال1927میں صرف2ارب تھی جو 2011میں بڑھ کر 7ارب ہو گئی ہے 2050میں یہی آبادی9.3ارب ہو جائے گی۔ جس کے لئے پینے،زراعت ، ،توانائی ،خوراک صنعت کے لئے صاف پانی کی مزیدذخیروں کی ضرورت ہو گی۔ عالمی ادارہ خواک کے مطابق2050تک آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے خوراک کی پیداوار میں70، انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق تونائی کی پیداوار میں2035تک 36فیصد اور عالمی واٹر ریسورسز گروپ کے اندازوں کے مطابق تازہ پانی کے ذخائر میں نمایاں اضافہ کرنا ناگزیر ہے۔اندیشہ ہے کہ2025تک 3ارب لوگ پانی کی کمی کا شکار ہوں گے۔ جس میں ایشیاء اور افریقہ کے لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہو گی۔
دنیا کے مختلف ممالک میں پانی استعمال کرنے کی شرح مختلف ہے۔روزانہ گھریلو، صنعتی اور زراعت کے لئے امریکہ میں فی کس استعمال 1313لیٹر، چین میں 1521لیٹر اور بھارت میں1166لیٹر ہے۔2040میں یہ شرح امریکہ میں1167لیٹر، چین میں 2192لیٹراور بھارت میں2463لیٹر ہو جائے گی۔یوں اس وقت چین امریکہ سے16فیصد زیادہ پانی استعمال کر رہا ہے جبکہ 2040میں یہ شرح 88 فیصد ہو جائے گی۔ بھارت امریکہ کے مقابلے میں فی الوقت42فیصد جبکہ 2040میں111فیصد زیادہ پانی استعمال کرے گا۔ بھارت میں گندم، چاول اور گنے کی پیداوار کے لئے مجموعی طور 4663لیٹر جبکہ عالمی سطح پریہ شرح 3800لیٹر ہے۔یہ فرق جدید اور فرسودہ تکنیکوں اور انتظامات کی وجہ سے ہے۔ تحقیق کے مطابق ایک کپ چائے کی پیالی کے لئے150، ایک کپ کافی کے لئے6000اور ایک کلو بیف کے لئے15000لیٹر پانی خرچ ہوتا ہے لیکن اسکا مطلب ہرگزیہ نہیں کہ چائے، کافی یا بیف کوممنوع کر دیاجائے البتہ ان کی پیداوار میں سائنسی انداز اپنانا چاہیئے۔ جدید طریقہ کا ر اپنا کر زرعی مقاصد کے لئے50فیصد تک پانی کی بچت ممکن ہے۔

Comments