درختوں کی کٹائی اور تباہی سے باغ اجڑ رہا ہے۔

بہاروں اور سرسبز نظاروں کی سرزمین باغ سے سیّد عمران حمید گیلانی کی رپورٹ
آزاد کشمیر کو اللہ تعالٰی نے قدرتی جنگلات کی دولت سے مالا مال کر رکھا ہے اس خطے کے سرسبزوشاداب رکھنے میں جنگلات کا مرکزی کردار ہے ۔فلک بوس پہاڑ، ٹھنڈے میٹھے چشمے،گھنے سدا بہار جنگلات آزاد کشمیرکی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہیں مگرباغ آزاد کشمیر کے مضافاتی پہاڑوں پر خوبصورتی میں اضافے اور ماحولیاتی توازن میں اہم کردار اداکرنے
والے سرسبز درخت بڑی تیزی کے ساتھ کاٹے جارہے ہیں جس کی  بہت سی وجوہات ہیں۔ 
ضلع باغ میں اس وقت محکمہ جنگلات 10بلاکس،32بیٹس میں تقسیم ہے اور سالانہ تقریبا 22.73ملین اخراجات کا تخمینہ ہے،
قدرتی جنگلات کے خاتمہ میں مقامی آبادی کا بڑا عمل دخل ہے کیونکہ دیہی علاقوں کی آبادی اپنی ضروریات( مکانات کی تعمیر، فرنیچر،ایندھن وغیرہ) کیلئے بے دریغ درختوں کی کٹائی کرتی ہے۔اسی طرح قدرتی آفات بھی کسی حد تک جنگلات کو ختم کرنے میں ایک اہم عنصر رہا ہے مگر محتاط اندازے کے مطابق اس کی شرح محض 2سے 5 فیصد تک ہو سکتی ہے ۔
اس کے علاوہ اکتوبر ۲۰۰۵ء کے زلزلے میں جنگلات پر مشتمل بہت سا ر قبہ بھی تباہ ہوگیا۔ علاوہ ازیں محکمہ جنگلات کے اہلکاران بھی مبینہ طور پرسمگلنگ وغیرہ کی سرپرستی کرکے اس سنگین جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ حالانکہ اس محکمہ کے قیام کے بنیادی مقاصد میں جنگلات کا تحفظ،ماحولیات کی بہتری اور ،معاشرے کے ذریعے پائیدار ترقی شامل ہیں ۔
ضلع باغ میں اس وقت محکمہ جنگلات 10بلاکس،32بیٹس میں تقسیم ہے اور سالانہ تقریبا 22.73ملین اخراجات کا تخمینہ ہے، ضلع باغ آزاد کشمیر جو 225602ایکڑ رقبہ پر محیط ہے اس میں سے 129321ایکڑ رقبہ پر قدرت نے جنگلات جیسی اہم دولت سے سرفراز کیا ہے مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں دیگر اضلاع کی طرح باغ 

کے جنگلات بڑی تیزی کے ساتھ ختم ہورہے ہیں ۔
فلک بوس پہاڑ، ٹھنڈے میٹھے چشمے،گھنے سدا بہار جنگلات آزاد کشمیرکی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہیں
، جنگلات کو کاٹنے ،اس عظیم نعمت کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا سنگین جرم کون کر رہا ہے؟ عوام۔۔۔۔۔؟ محکمہ جنگلات کے
اہلکاران۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ یا پھر قدرتی آفات( آتشزدگی، سیلاب،لینڈ سلائیڈنگ وغیرہ ) ۔۔۔۔؟؛ ہمیں مل جل کر اس کا حل تلاش کرنا ہے۔
ہمارے بنی حضرت محمدﷺ نے فرمایا کہ جس نے ایک درخت لگایا اس نے جنت میں اپنا گھر بنایا ،بحیثیت مسلمان اور ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ان قدرتی جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اور درختوں کی غیر قانونی اور بے دریغ کٹائی کرنے والے ٹمبر مافیا کا محاسبہ کریں، اپنی ضروریات کیلئے متبادل ذرائع کا استعمال کریں تب جا کر یہ خطہ آزاد کشمیر بالخصوص باغ حقیقی معنوں میں باغ کہلائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
( سیّد عمران حمید گیلانی انسانی ترقی اور امن کے فروغ کے لیے کوشاں غیر سرکاری تنظیم پریس فار پیس کے عہدے دار اور فری لانس رپورٹر ہیں۔)
Comments