ضمیر کا قیدی: سپاہی مقبول حسین


تقریباً چالیس سال تک بھارتی مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنے والا تراڑکھل کا سپاہی مقبول حسین جب ۱۷ ستمبر ۲۰۰۵ء کو آزادکشمیر رجمنٹل سینٹر کے کمانڈنٹ کے سامنے اپنی کٹی ہوئی زبان کے ساتھ ڈیوٹی پر حاض ہونے کا انکشاف کر رہا تھا تو کون جانتا تھا کہ اس جیسے کئی مقبول حسین آزاد فضاوء ں میں سانس لینے کے لئے ابھی اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں ۔ ظلم ، بربریت اور چنگیزیت کے طوفان کے سامنے عزم ، حوصلے ، استقلال اور جوانمردی کی داستان رقم کرنے والا مقبول حسین ۱۶ ستمبر۱۹۶۰ء کو آزادکشمیر رجمنٹ میں بھرتی ہوا، ۱۹۶۵ ء کی پاک بھارت جنگ میں کشمیر کے محاذ پر لڑ تے ہوئے بھارتی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہو کر جنگی قیدی بنا مگر اس کا نام جنگی قیدیوں کی فہرست میں ڈالا گیا اور نہ کسی دوسری فہرست میں ۔۱۹۴۹ء کے جینیواکنونشن، عالمی عدالت انصاف اور اقوام متحدہ کے ضابطوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اسے انسانیت سوز مظالم کانشانہ بنایا گیا ۔ وہ چار دہایؤ ں تک پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتا اور بھارتی جیلروں کے سیاہ چہروں پر تھوکتا رہا ۔ پاکستانی فوج ، دفتر خارجہ اور مقبول حسین کی منگیتر نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا ، مگر اس کی ماں یہ ماننے کو تیار نہ تھی کہ اس کا بیٹا شہید ہو چکا ہے ۔ وہ مرتے دم تک مقبول حسین کی فاتحا نہ مسکراہٹ کے ساتھ واپسی کا انتظار کر تی رہی۔ آزادکشمیر رجمنٹ نے اس کا نام ان افراد کی فہرست میں ڈال دیا جنہیں شہید تصور کر لیا گیا تھا ۔ جنگ ختم ہوگئی ،نائیک کے معمولی عہدے سے ترقی کر کے چیف آف آرمی اسٹاف بننے والے جنرل موسیٰ ھلال پاکستان کا تمغہ لے کر مغربی پاکستان کے گورنر بن گئے ۔مقبول حسین کسی کو یاد نہ رہا۔ ۱۹۷۱ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد ۹۲۰۰۰ سے زائد جنگی قیدیوں کی فہرست میں بھی مقبول حسین کا نا م جگہ نہ پا سکا ۔ تاہم ۲۰۰۵ء میں جب اسے جیل کی کال
کوٹھڑی پر بوجھ سمجھ کر آزاد فضاء میں لایا گیا تو وہ اندھیروں کا اس قدر عادی ہو چکا تھا کہ پاکستانی فوج کے فراہم کردہ وی آ ئی پی گیسٹ ہاوئس کے نر م وگداز بستر کے بجائے اس نے زمین پر لیٹنے ہی کو ترجیع دی ۔
سپاہی مقبول حسین کی بھارتی عقوبت خانوں سے رہائی کے ٹھیک چھ سال بعد مقبوضہ کشمیر میں قائم بھارتی سپریم کورٹ کے مقامی بنچ نے آزاد کشمیر کے ضلع پونچھ کے مزید چار شہریوں کی ۴۶ سال بعد غیر قانونی حراست سے رہائی کا حکم سنا یا ہے ۔ رہائی کا حکم پانے والوں میں سخی محمد ولد لال دین ، عالم شیر ولد بگا خان ،برکت حسین ولد سید محمد اور بگا خان ولد الٰھی شامل ہیں ۔ بھارتی میڈیا کے ذریعے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مذکورہ افراد کی تاریخی رہائی کے پیچھے حکومت پاکستان کا نہیں بلکہ پاکستانیوں اور آزادکشمیر کے لوگوں میں بالکل ہی غیر معروف شخصیت پروفیسر بھیم سنگھ کا کردار ہے ۔ 
۱۹۶۵ء سے ۲۰۱۱ء تک وجود میں آنے والی آزادکشمیر کی ۳غیر منتخب اور ۹منتخب جمہوری حکومتیں ، سوویت یونین کے زوال کے بعد جہاد افغانستان میں فتح کے تمغے سجانے والی آئی ایس آئی اور ۱۹۴۹ء میں بننے والا جینیوا کنونشن جو کام نہ کر سکا وہ بھیم سنگھ نے کر دکھایا ۔یہ بھیم سنگھ آخر کون ہے ؟ اور کشمیریوں سے اس کا کیا رشتہ ہے ؟ بھارت میں رہنے والوں کے لئے وہ ایک دانشور ، مصنف ، وکیل ، صحافی ، انسانی حقوق کا علمبردار اور ایک جرات مند انسان ہے ، جبکہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کے لئے وہ ایک سیاسی جماعت کا سربراہ ، سپریم کورٹ کا چوٹی کا وکیل اور امن کا داعی کشمیری راجپوت ہے ۔ امن پسندوں کے ہاں اس کی شناخت ایک ایسے باہمت شخص کی ہے جو جذبہ امن کے فروغ کی خاطر ۱۲۰ ممالک کا سفر موٹر سایئکل پر کر چکا ہے اور اسی موٹر سایئکل پرصحراء صحارا کوبھی عبور کر چکا ہے ۔
جنرل موسیٰ سے لے کر جنرل کیانی تک پاکستانی فوج نے کشمیر کے موضوع پر کیا کچھ سیکھا اور آپریشن جبرالٹر سے کارگل تک کتنے کشمیری نوجوان طالع آزما جرنیلوں کی مہم جوئی کی نذر ہوئے ، اس کا شما ر تو تاریخ خود کرے گی ، البتہ کشمیریوں کے جذبہ حریت اور دھرتی کی خاطر اپنا تن ، من اور دھن قربان کرنے کی روش نئی تاریخ رقم کر رہی ہے ۔ ان قربانیوں کا اعتراف تو یوں ہونا چاہیے تھا کہ سپاہی مقبول حسین کی بھارتی زندانوں سے رہائی کے بع
عالمی عدالت انصاف کے دروازے کھٹکھٹا ئے جاتے ، اسٹراسبرگ اور ھیگ میں انسانی حقوق کے علمبرداروں کو بھارت کا مکروہ چہرہ دکھایا جاتا ۔ اور کچھ نہیں تو بھارتی سپریم کورٹ کو ہی ایک خط لکھ دیا جاتا کہ پتہ لگائے وہ کونسی کال کوٹھڑی ہے جس سے باہر نکلنے والا انسان زندوں میں شمار ہوتا ہے نہ مردوں میں ۔ اگر ایسا ہو جاتا تو ضمیر کے ان قیدیوں کے پس دیوار زنداں دن کچھ کم ہو جاتے اور آزاد کشمیر کے ضلع پونچھ کے محمد ایوب کو ۲۰۱۱ء میں بھیم سنگھ کو درخواست لکھنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔
گزشتہ چھ سالوں میں بھارتی مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں جنم لینے والے المیے تو کم نہیں ہوئے ، البتہ ان عقوبت خانوں سے زندہ یا مردہ باہر آنے والوں نے کشمیریوں کو اپنے پرائے کی پہچان ضرور کرا دی ہے ۔ پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے مقبول حسین ڈرامہ سیریل بنا کر اور اسے تمغہ ء شجاعت دے کر اپنی ذمہ داری پوری کر لی مگر جب وہ ۴۰ سال کے دکھ اپنے آنسووء ں میں اگل کر کشمیر پالیسی کے اوراق پر سجا رہا تھا تو کسی نے اس سے تب بھی نہ پوچھا کہ ابھی اور کتنے مقبول حسیں تمہارے بعد واپس آئیں گے ؟

Comments