Urdu site‎ > ‎

دنیا تبدیلیوں کی زد میں

دنیا تبدیلیوں کی زد میں ہے ۔میڈیا کی وسعتوں نے عوام کی سطح ِشعور کو بلند کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنے حقوق مانگنے کے سلیقے اور ڈھنگ سے بھی آشنا کیا ہے ۔ ایک دور میں اپنے سیاسی حقوق مانگنے والوں کو غدار قرار دینے میں لمحوں کا تامل نہیں کیا جاتا تھا لیکن طویل اور تلخ تجربے نے ثابت کیا کہ اس روش نے کف افسوس ملنے کے سوا کچھ نہیں دیا۔کیونکہ حق مانگنے والوں کو دیوار سے لگا دینے کا نتیجہ ردعمل کی صورت میں برآمد ہوتا ہے اور یوں معاشرے میں ایک خوفناک تقسیم جنم لیتی ہے۔مشرقی پاکستان سے بلوچستان تک ہماری قومی تاریخ بے شمار داغ ہائے سینہ سے عبارت ہے۔ آزادکشمیر گو کہ پاکستان کا آئینی اور انتظامی یونٹ نہیں ۔دونوں خطوں کے درمیان تعلق کو آزادکشمیر کے آئین عبوری ایکٹ 1974میں بیان کیا گیا ہے۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس آئین میں ترمیم کی ضرورت محسوس کی جانے لگی ہے ۔اس ضرورت کا احساس وادراک جہاں پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ہونے لگا ہے وہیں کئی ایک ادارے اور تنظیمیں اس ضرورت پر مکالمے کا انعقاد کر کے تلخ حقیقتوں کے اظہار کو ایک مہذب اور باوقار راستہ فراہم کر رہی ہیں۔اس سلسلے میں ایک غیر سرکاری تنظیم سنٹرفار پیس ڈولپمنٹ اینڈ ریفارم ( سی پی ڈی آر ) بہت قابل قدر کام سر انجام دے رہی ہے ۔یہ تنظیم اسلام آباد سمیت آزادکشمیر کے تمام شہروں میں اسلام آباد اور مظفر آباد کے درمیان آئینی تعلقات کی تشکیل نو اور ان تعلقات کو وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی بحث اور مطالبے کو پرامن اور غیر جذباتی ماحول فراہم کررہی ہے ۔ایسی ہی ایک کوشش آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں تنظیم کے زیر اہتمام آزادجموںوکشمیر اورپاکستان کی حکومتوں کے مابین آئینی،انتظامی اور مالی انتظامات کے موضوع پرشائع کردہ رپورٹ پرمنعقدہ گول میز کانفرنس بھی تھی ۔جس میں آزاد کشمیر کے دانشوروں ،وکلا،سیاسی شخصیات،خواتین نمائندوں،ریٹائرڈججزاورریٹائرڈبیوروکریٹس، آئینی ماہرین نے شرکت کی۔جن میں مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی بیرسٹر افتخارگیلانی،سابق سپیکر قانون ساز اسمبلی عبدالرشید عباسی ،سابق وزیر حکومت اور پیپلزپارٹی کے راہنما خواجہ فاروق احمد ، مسلم کانفرنس کے رہنما عثمان عتیق خان ،سٹی ڈویلپمنٹ فاونڈیشن کے چیئرمین زاہد امین،سابق صدر بار ایسوسی ایشن شاہد بہا رایڈووکیٹ،سا بق جج سپریم کورٹ جسٹس بشار ت شیخ ،سپریم کورٹ بار کے صدر رضا علی خان ایڈووکیٹ، کے ڈی خان ایڈووکیٹ،ذوالقرنین نقوی ایڈووکیٹ ،بیگم تنویر لطیف نے بھی خطاب کیا۔سمینار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس بشارت احمد شیخ نے کہا کہ کشمیر کونسل کے انتظامی اختیارات کوختم کیے بغیرآزادکشمیر میں ایک بااختیار اور باوقار حکومت کے قیام کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتاہے انہوں نے کہا کہ کشمیر کونسل آزادکشمیر کے اندر سے سات ارب روپے ٹیکس کی مد میں جمع کرتی ہے لیکن ان کے استعمال پر آزادکشمیر کے اداروں کا کوئی اختیار نہیں ہے۔یہ رقم من مانے اور شاہانہ انداز سے اڑا لی جاتی ہے۔ بشارت شیخ نے کہا کہ کونسل نہ آزادکشمیر کے عدالتوں اور حکومت کے سامنے جواب دہ ہے اور نہ ہی حکومت پاکستان کے۔جس کی بدولت یہ ادارہ آئین سے بالادست ادارہ بن چکاہے جس کا احتساب کیا جاسکتاہے اور نہ ہی اسے کسی قاعدے قانون کا پابند کیا جاسکتاہے۔ جسٹس(ر) بشارت احمد شیخ نے کہا ہے کہ ایکٹ 1974میں فوری طور پر بنیادی ترامیم متعارف کرائی جائیں کیونکہ یہ ایکٹ آزادکشمیر کے شہریوں کے حقوق غضب کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ سی پی ڈی آر کے چیئر مین طارق مسعود نے کہا کہ وہ آزادکشمیر کے شہریوں کو بیدار کررہے ہیں تاکہ وہ اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرسکیں ۔ انہوں نے شرکا کو بتایا کہ سی پی ڈی آر کی رپورٹ پر ابھی بہت مثبت ردعمل سامنے آیا ہے اور ذمہ دار حلقوں میں اس کا سنجیدگی سے نوٹس لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آزادکشمیر کے موجود ہ آئین ایکٹ 1974 میں فوری طور پر ترمیم کا بل اسمبلی میں پیش کیا جائے تاکہ آزادکشمیر میں ایک بااختیار حکومت قائم کی جاسکے جو آزادی کے ساتھ اپنا نظام حکومت چلاسکے۔آزادکشمیر کونسل کے انتظامی اختیارات کے خاتمے، آزادالیکشن کمیشن کی تشکیل،مہاجرین کی نشستوں پر شفاف الیکشن کے انعقاد اور ججوں کی تقریری کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا گیا ہے۔ سابق سپیکرعبدالرشید عباسی نے کہاکہ 1974 کا ایکٹ ایک غیر جمہوری ، غیر شفاف اور دوہراحکومتی نظام قائم کرتاہے اور منتخب حکومت کا کردار محدود کردیتاہے۔انہوں نے مزید کہاکہ کشمیر کونسل کو انتظامی اختیارات دینے کا کو ئی جواز نہیں ہے۔کشمیر کونسل کا دائرہ کار محض حکومت آزادکشمیر اور پاکستان کے مابین رابطہ کا ر کا ہوناچاہیے۔ مسلم لیگ ن آزادکشمیر کے رہنما اور ممبر اسمبلی بیرسٹر افتخار گیلانی نے کہا کہ ان کی جماعت آزادکشمیر میں آئینی اصلاحات لانے کی پہلے بھی جدوجہد کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت بڑی آسانی کے ساتھ آئینی ترمیم کراسکتی ہے کیونکہ آزادکشمیر کے آئین میں محض سادہ اکثریت سے ترمیم کی جاسکتی ہے۔مسلم کانفرنس کے نوجوان رہنما سردارعثمان عتیق نے کہا کہ آزادکشمیر کی سیاسی جماعتوں میں اتنی سیاسی اور اخلاقی جرات نہیں ہے کہ وہ آئینی اصلاحات کا مطالبہ کرسکیں لہٰذا سول سوسائٹی کو یہ کام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مشترکہ طور پر جدوجہد کریں کیونکہ کوئی ایک جماعت یہ کام نہیں کروا سکتی ہے۔سابق سفیر عارف کمال نے کہا کہ آزادکشمیر کو پاکستان کا پانچوں صوبہ اس لیے نہیں بنایا جاسکتاہے کہ اس طرح تحریک آزادی سے وابستہ قوتوں کو دھچکا پہنچ سکتاہے اور مسئلہ کشمیر کی عالمی حیثیت ختم ہوجائے گی ۔ سابق وزیر اور پیپلزپارٹی کے رہنما خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ کشمیر کونسل کے اختیارات ضرور ختم ہونے چاہیں لیکن یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ حکومت آزادکشمیر کے پاس جو اختیارات ہیں وہ کتنے موثر طریقے سے استعمال ہوئے ہیں جو ہم مزید اختیارات کا مطالبہ کررہے ہیں ۔کشمیر کونسل کو آزادکشمیر حکومت اور عدالتوں کے دائرہ اختیار میں لایا جانا چاہیے ۔اس کام کے لیے تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے مابین مذاکرات ہونے چاہیں۔ صدر سی پی ڈی آر ذوالفقار عباسی نے آزاد کشمیر کے معاشی مسائل اور مستقبل کی ضروریات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ تمام ادارے جن سے آزادکشمیر کی معاشی حالت میں سدھارلایا جاسکتا ہے وہ کشمیر کونسل کے پاس ہیں۔بالخصوص ٹیکس ، سیاحت، پن بجلی کی پیداوار اور بینکنگ ۔لیکن کشمیر کونسل نے شعبوں کو ڈولپمنٹ پر کوئی توجہ نہیں دی جس کی باعث آزادکشمیر معاشی طور پر ایک بدحال ریاست ہے۔۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں قائم قومی بینکوں کو پاپند کیا جائے کہ وہ آزادکشمیر سے جمع ہونے والے پیسے کا کم ازکم بیس فیصد مقامی صنعت اور کاروبار کی ترقی کے لیے خرچ کریں ۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر سی پی ڈی آر ارشاد محمودنے کہا کہ آزادکشمیرکی سیاسی قیادت ایک انجانے خوف کا شکار ہے اور اپنے حقو ق کی جدوجہد میں عوامی جدبات کی ترجمانی نہیں کرتی ہے بلکہ ہمیشہ اسلام آباد کی طرف دیکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کے پاس یہ سنہرا موقع ہے کہ وہ آزادکشمیر کے آئینی مسائل حل کرکے تاریخ میں اپنا نام لکھوائے۔کیونکہ لوگ اب اسٹیٹس کو کسی کو بھی صورت میںقبول نہیںکرنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پی ڈی آر اہم قومی ایشوز پر آگاہی پیدا کرنے اور 
سول سوسائٹی کو متحرک کرنے کے لیے آئندہ ماہ راولاکوٹ میں گول میز کانفرنسیں منعقد کرے گی۔
Source: 
      
Comments