Urdu site‎ > ‎

اللہ سے صرف بیٹے مانگنے والے کشمیری

 اللہ سے صرف بیٹے مانگنے والے کشمیری
تحریر حنیفہ بشیر 
کبھی بیٹیوں کے لئے بھی ہاتھ اٹھائو منظر-------- صرف اللہ سے بیٹے ہی نہیں مانگا کرتے
کشمیر دْنیا کا ایک ایسا خطہ ہے جہاں عجیب وغریب واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ حالیہ مردم شماری نے جہاں صنفی عدم توازن کی نشاندہی کرکے ہر ایک کوحیران کردیاہے وہاں دختر کشی کی غیرانسانی اور جاہلانہ رسم نے ایک بار پھر زمانہ? جاہلیت کا تصور سامنے لایا اور اسلام کو جہاں یہ قبیح رسم مٹانے پر فخر حاصل ہے وہاں ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد ہی ایسے عدل وانصاف وتوازن پر قائم ہے جس میں مردوں اور عورتوں کو یکساں حقوق عطا کرکے دونوں کا وجود لازم وملزوم قرار دیاہے ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ مطیع وفرمانبردار بن کر اللہ کے سامنے سرنگوں ہوکر ''کیا وہ نہ جانتے جس نے پیدا کیاہے اپنے تمام معاملات وحالات اْسی کے سپرد کرکے اْس کی مرضی پر قناعت کی جاتی '' مگر ہم اپنی عقل کے گھوڑے دوڑا کر خودہی معاملات طے کرنے لگتے ہیں اور تازہ ترین مثال کہ لڑکیوں کو رحمِ مادر میں ہی مارکر صرف لڑکوں کو جنمیں گے اور اسی ضمن میں حالیہ انکشاف میں بتایا گیا کہ پچھلے کچھ برسوں میں ایک کروڑ بیس لاکھ لڑکیوں کو ماں کے پیٹ میں ہی ختم کیا گیا ۔ قرا?ن شریف میں جتنی بار مرد کا تذکرہ موجود ہے اتنی ہی بار عورت کا ذکربھی موجود ہے یعنی چوبیس چوبیس بار ۔
آخرہے کیا یہ عورت جس کے مرنے مارنے پر ساری دْنیا اور خصوصاً ہمارا ارض کشمیر تْلا ہواہے اور کوئی دن نہیں گزرتا جب کوئی معصوم اپنی قیمتی زندگی سے ہاتھ نہیں دھوبیٹھتی ہے۔ کبھی پیٹ میں،کبھی ناموس کے نام پر ،کبھی خودکشی ، کبھی سسرالیوں کے ہاتھوںاورکبھی اپنے ہی سرتاج کے ہاتھوںقتل ہوتی ہے ۔ عورت کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔ مرد پہاڑوں کوتسخیر کر سکتاہے لیکن عورت کے دل کو کبھی نہیں سمجھ سکتا۔عورت ایک سربستہ رازہے جو آہستہ آہستہ ظاہر ہوتاہے ۔ وہ بیک وقت سخت بھی ہے اور ریشم کی طرح نرم بھی۔وہ حالات کے مطابق اچھی بھی بن سکتی ہے او ربْری بھی ۔ وہ خوبصورت ترین بھی ہوسکتی ہے او ربدصورت بھی ۔وہ شعلہ بھی ہے اور شبنم بھی ۔تیز ہوا کا جھونکا بھی ہے اور بارش کی نرم پھوار بھی۔وہ اپنی خوبصورت ادائوں سے پتھر دلوں کو موم بھی کرتی ہے اور اس کی آہیں اور دعائیں عرش تک بھی جاتی ہیں ۔ وہ قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے ۔جیسی بھی ہو، کیسی بھی ہو ، ہرحال میں اپنی بنیادی خصوصیات سے مزین ہوکر کائنات ِ رنگ وبوکو سجاتی سنوارتی ہے ۔یقین نہ آئے تو اس گھر میں جائیے جہاں عورت نہیں ہے ۔ اْن مردوں سے پوچھئے جن کی بیویاں اْن کو چھوڑ کر دنیائے جہاں سے ملک عدم چلی گئیں۔اگر میں کہوں کہ گھر اس کو کہتے ہیں جہاں عورت ہو تو غلط نہ ہوگا۔جنٹلمین اْسی کو کہتے ہیں جو عورت کے تقدس کو سمجھے۔ اْسے احترام دے اور عورت کے ساتھ حسن سلوک کرے
مظلوم ہیں لیکن ہم مجبور نہیں ہیں
آجائیں اگر ضد پر تو حشر بپا ہوگا
اِن قاتلوں ، جلادوں ، ظالموں اور تنگ نظروں سے کوئی پوچھے کہ کیوں مارتے ہو ؟ آسیہ نیلوفر کے قاتلوں سے ، سمیرا کے قاتلوں سے، ادھ کھلی کلیوں کے قاتلوں سے کوئی پوچھے کہ ان کا قصور کیاہے ؟ یہ جاہل گنوار عورت کی عظمت کو کیا سمجھیں گے ؟ یہ ہر حال میں اْس کے تقدس کو پامال کرتے رہیں گے کیونکہ انہوں نے عورت کو نہیں سمجھا ۔ عورت تو گھر کی لکشمی ہے ۔ وہ چھوئی موئی سے بھی زیادہ نازک ہوتی ہے ۔ وہ تو ستی ساوتریاں ہیں ،دیوداسیاں ہیں ،پدمنیاں ہیں (عورتوں کی پہلی قسم کو پدمنی کہتے ہیں)۔ وفا کی دیویاں ہیں ۔ ان ستی ساوتریوں او رپدمنیوں کو ایسے مت روندڈالو ، ان کو ماروگے تو خود مٹ جائو گے ، نسل انسانی مٹ جائے گی ، دنیا کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا ۔مثال دی جاتی ہے ایک ایسے Flag Ship کی جس کا ہروز ایک ایک (Nut)پرزہ سمندر میں کھوجاتاہے تو جہاز ایک نہ ایک دن ڈوب ہی جائے گا ۔ کتنے اقبال دْنیا میں آنے سے رہ جائیں گے ، کتنے ولی ،کتنے فلاسفر پیدا ہی نہیں ہوں گے ۔ عورت نہ ہوگی تو کچھ بھی نہ ہوگا۔دنیا میں ہرطرف مردوں کا دور دورہ ہوگا۔ قدرت کا توازن (Balance of Nature) نہیں رہے گا اور تب ہمیں اپنی سوچ پر نام ہونا پڑے گا ۔ جب ہندوستان انگریزوں سے آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا تو گاندھی جی نے ایک ایسا طریقہ اپنایا جس سے ذہنوں سے غلامی کاخوف دور ہوا جس طرح ایک ڈاکٹر مریض کا نفسیاتی علاج کرتاہے بالکل اْسی طرح ذہنوں کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔ الٹراسائونڈ کلینک بند کرنے ، چھاپے ڈالنے سے کیا ہوگا جب تک نئی نسل اخلاقی تعلیم او ربنیادی اقدار سے واقف نہیں ہوگی ۔ اس کے ذہن ، اس کی سوچ مثبت بنیادوں پر استوار نہیں ہوں گی ، لڑکیوں اور بیٹیوں کوگھروں میں لڑکوں کے برابر نہ رکھا جائے تب تک ایسا ہوتا رہے گا ۔جہیز جیسے سماجی ناسور کو ختم کرنے کے لئے مو?ثر قانون نہیں بنائے جائیں گے ، عورتوں کو ہر سطح پر آگے بڑھنے کے مواقع نہ دیئے جائیں تب تک ایسا ہوتا رہے گا۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ عورتوں کا حصہ بڑھا کر پچاس فیصد کردیا جائے جس طرح آندھراپردیش حکومت نے کیا ۔
حال ہی میں مرکزی وزیرصحت غلام نبی آزاد نے کچھ رعایات ومراعات کا اعلان کیا جو بہت پہلے ہوناچاہئے تھا ۔ پارلیمنٹ ، اسمبلی،سکولوں ،کالجوں اور دفتروں میں عورتوں کے لئے نشستیں مخصوص رکھی جائیں جیساکہ حالیہ الیکشن میں کیا گیا۔سب سے زیادہ عورتوں کی تعلیم پر زور دینا ہے اور مفت تعلیم ،وظیفے اور پیشہ وارانہ کالجوں میں ایڈمیشن کرانے میں ان کو ترجیح دی جائے۔ گھریلو تشدد کی شکار ہرعورت کو انصاف دلایا جائے اور خودکشیوں کے پیچھے جومحرکات ہوں ان کو سامنے لایا جائے ،ان کی فلاح وبہود کے لئے جتنا بھی کیا جائے وہ کم ہے
۔
 (بشکریہ : (شیعہ نیٹ
Comments