کشمیر کے سرحدی دیہات میں بسنے والے بچے کیا سوچتے ہیں

ریاست جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے والی خونی لکیر کی دونوں جانب لاکھوں کشمیری آج بھی اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے دریاے نیلم کے کنارے جمع ہو تے ہیں مگر اسے عبور نہیں کر سکتے اپنے سینے پر کھنچی خونی لکیر کی وجہ سے وہ محض چند میٹر کے فاصلے پر اپنے عزیزوں کو گلے نہیں لگا سکتے اور نہ ہی ان کی خوشی غمی میں شریک ہو سکتے ہیں ۔ ان تمام حالات کے پیش نظر ثوبیہ اور اسکی ہم عمر بچیوں کے ذہین میں ایک ہی سوال بار بار سر اٹھاتا ہے کہ " سرحدوں پر کبڈی کھیلنے کا وقت کب 
آے گا ؟؟؟
 ریاست جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے والی خونی لکیر کی دونوں جانب لاکھوں کشمیری آج بھی اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے دریاے نیلم کے کنارے جمع ہو تے ہیں 



سکولوں پر گولے گرنےکا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو جاے گا



اسی علاقے کے ایک اور باسی رانا خورشید کا خیال ہے کہ گولہ باری کے دوران جاں بحق ہونے والے لگ بھگ پانچ ہزار میں سے کم از کم تین ہزار افراد اس علاقے میں علاج معالجے کی سہولیات میسر نہ ہونے کی وجہ سے جانبر نہ ہو سکے اور زندگی کی بازی ہار گیے۔ 2003 میں دونوں پڑوسی ایٹمی ممالک کے درمیان ہونے والے جنگ بندی کے نتیجے میںۘ وادی نیلم سمیت تمام سرحدی علاقوں میں حالات معمول پر چکے ہیں اور چودہ سال تک تعطل کا شکار رہنے والے روز مرہ کی سرگرمیاں اب اپنے دھارے میں رواں دواں ہیں ۔ گزشتہ سال ممبیی حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیاں پیدا ہونے والی دباو کی صورت حال کی وجہ سے سرحدی علاقوں کے عوام تشوش کا شکار ہیں اور انہیں اپنا مستقبل ایک بار پھر جنگلوں اور بیابانوں میں ہجرت کی زندگی گزارتے دکھایی دیتا ہے۔

 ثوبیہ اور اسکی ہم عمر سینکڑوں بچیاں یہ نہیں جانتیں کہ اگر دونوں ممالک کے درمیاں پھر سے کشیدگی پیدا ہو گیی اور سرحدی علاقوں میں ایک بار پھر فایرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا تو ان کا مستقبل کیا ہو گا۔تاہم ان کے اساتذہ کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اتنی محنت اور لگن سے شروع کیا گیا تعلیمی سلسلہ ایک بار پھر معطل ہو جاے گا ، سکولوں کی عمارتیں تباہ ہو جاییں گی اور سکولوں پر 
گولے گرنےکا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو جاے گا۔ پاکستان اور بھارت کے سول سوسایٹی اور میڈیا گروپس امن
 کے قیام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی ، ثقافتی رابطوں کی بحالی کے ذریعے تعلقات کو معمول پر لانے میں جس قدر آگے بڑھنے کی کو شش کر رہے ہیں دونوں جانب کے انتہا پسند عناصر انہیں اتنا ہی پیچھے دھکیل دیتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر بھارتی فوج کی روایتی ہٹ دھرمی اور جارحانہ عزایم قیام امن کی تمام کوششوں کو خاک میں ملا دیتے ہیں۔ 
تحریر : جلال الدین مغل
تصاویر: امیر الدین مغل 
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے لاین آف کنٹرول پر واقع
 علاقے وادی نیلم کے گاوں کیر ن کی رہایشی نو سالہ ثوبیہ ان دنوں مختلف خدشات سے دو چار ہے۔جب سے اس نے اپنے گھر والوں کو سرحدی علاقوں میں حالات خراب ہونے اور ایک بار پھر گولہ باری کا سلسلہ شروع ہونے کے حوالے سے مختلف خدشات پر بات چیت کرتے سنا ہے اسے اپنے تعلیم اوراپنے سمیت سکول کے دیگر 
بچوں
 کی جان کی بھی فکر لاحق ہو گیی ہے۔ 
ثوبیہ کو ٹھیک سےمعلوم نہیں ہے کہ گولہ باری کے دوران متاثرہ علاقوں کے عوام کو کس قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم ماں کی ممتا سے محرومی اور پڑوس میں رہنے والے ریشماں ماسی کی کٹی ہو یی ٹانگ سے وہ گولہ باری کے دوران پیش آنے والے حالات کی سنگینی کا اندازہ ہو رہا ہے۔ ثوبیہ کی عمر لگ بھگ اڑھایی سال ہو گی جب اسکی ماں بھارتی فوج کی طرف سے سول آبادی پر کی گیی گولہ باری میں جاں بحق ہو گیی تھی اور اسی دوران عالمی دباو کے تحت پاکستان اور بھارت لاین آف کنٹرول پر جنگ بندی پر راضی ہو ے تھے ۔ سات سال سے جاری عارضی جنگ بندی نے سرحدی علاقوں کے عوام کے دل و دماغ سے بھاری گولہ باری کا خوف کافی حد تک دور کر دیا ہے اور ان علاقوں میں زندگی اپنے معمول کے مطابق جاری ہے ۔ چودہ سال تک لگا تار بھارتی گولہ باری کا شکار رہنے کی وجہ سے سرحدی علاقے وادی نیلم میں نظام زندگی بری طرح مفلوج رہا اور انسانی زندگی بد ترین حالات سے دوچار رہی۔ گولہ باری سے متاثرہ علاقے کے ایک مکین شاہنواز خان بتاتے ہیںِ،"جنگ بندی سے قبل اس علاقے میں زندگی ہر وقت خطرات سے گھری رہتی تھی غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے اس علاقے کے عوام خوف ہراس کا شکار رہتے تھے اور غذایی قلت کی وجہ سے اکثراوقات گھاس کھانے پر مجبور رہتے تھے "
Comments