آزاد کشمیر میں خواتین

آزاد کشمیر میں خواتین کے حوالے سے خاصے مسائل دیکھنے میں آتے ہیں، صحت ، تعلیم اور خصوصاً لڑکیوں کی جبری شادی کے واقعات یہاں عام ہیں۔سوشل ورکر ربیعہ کا کہنا ہے کہ صحت کے مسائل اس علاقے میں بہت زیادہ ہیں خصوصاًحاملہ خواتین کو غذائی ضروریات کے حوالے سے شعور و آگہی نہ ہونے کے برابر ہے اسکے علاوہ سرکاری اسپتالوں میں طبی سہولیات ناکافی ہیں جسکی وجہ سے خصوصاً حاملہ خواتین کی اموات کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے:
-ربیعہ کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں صحت و صفائی کی صورتحال خاصی ابتر ہے:
آزاد کشمیر میں لڑکیوں کی جبری شادی اور جائیدا میں حصہ نہ دینے جیسے مسائل موجود ہیں،جو لڑکیاں والدین سے جائیداد میں اپنا حصہ مانگتی ہیں انھیں خاندانی رشتے داروں کی شدید ناراضگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسکے علاوہ زیادہ تر
کیسز میں اہل خانہ شادی بیاہ کے معاملات میں لڑکیوں کی مرضی جاننا ضروری نہیں سمجھتے ہیں جبکہ کچھ واقعات ایسے بھی منظر عام پر آئے ہیں جن میں لڑکیوں نے مرضی کے خلاف شادی کرنے سے انکار کر دیا اور دباﺅ کی صورت میں خود کشی کر لی ،راولا کوٹ میں ہونے والاایسا ہی ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے ربیعہ کہتی ہیں:
آزاد کشمیر میں لڑکیوں میں تعلیم کا رجحان پایا جاتا ہے اور کالج کی سطح تک والدین بچیوں کو پڑھاتے ہیں لیکن اسکے بعد یونیورسٹی میں تعلیم کی اجازت خاندانی روایات یا حالات کے باعث نہیں ملتی ۔آزاد کشمیر سمیت ملک کے دیگر علاقوںمیںخواتین کے حقوق کے حوالے سے عام لوگوں کو شعور و آگہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے اسکے علاوہ صحت اور تعلیم کے مسائل کے حل کیلئے ان علاقوں میں مثبت اقدامات کئے جانے چاہئیں
بشکریہ : بلاگ ، پاکستان ریڈیو نیوز ینٹ ورک