طوفان سے بچاؤ کی منصوبہ بندی اور حکمت عملی

جنوری 2005 میں عالمی کانفرنس برائے قدرتی آفات میں کمی World conference on Disaster Reduction میں ایک ہیوگو فریم ورک فار ایکشن ( 2005-2014) منظور کیا گیا۔ یہ لائحہ ء عمل یا فریم ورک ایکشن قومی سطح کی مشاورت کے بعدتشکیل دیا گیا تھا۔ اس کے تحت آفات کے بچاؤ کے لیے ایک عالمی ایجنڈ ابھی تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ صحت مند ماحولیاتی نظام اور بہتر شہری ماحول کے ذریعے قدرتی آفات کے مقابلے میں انسان کو لاحق خطرات میں کمی کی جاسکتی ہے جبکہ شکستہ ماحول اور ناپائدار ترقیاتی کام تباہی کے منفی اثرات میں اور اضافہ کردیتے ہیں۔ 
سیلاب سے بچاؤ کی منصوبہ بندی اور حکمت عملی اگرماحولیاتی تجزیے کی حکمت عملی SEA کو پیش نظر رکھ کر تیار کی جائے تو نتائج بہترین نکل سکتے ہیں، خصوصا زمین کے بہتر استعمال کے حوالے سے یہ بہترین رہنمائی پیش کرتی ہے۔ زمین کے غیر دانش مندانہ استعمال نے سیلاب کی تباہ کاریوں کو اور بڑھادیا تھا مثلا اگر آپ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا نقشہ ملاحظہ کریں تو متاثرہ زیادہ تر آبادیاں آبی ذخائر یعنی دریا ،ندی نالوں کے انتہائی قریب آباد تھیں۔بلکہ کچھ تو گذرگاہوں میں آباد تھیں۔ یہ طرز عمل انتہائی خطرناک ہے ۔ اس سیلاب سے سندھ ، پنجاب کی انتہائی زرخیززمین بھی تباہ ہوگئیں اور ان پر موجود کھڑی فصلیں بھی بہہ گئیں۔ 
مختصر یہ کہ پرانے انداز اور پرانی پالیسیوں سے اب بات نہیں بنے گی ۔ ہمیں اب ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔ اپنے مسائل اور وسائل کو پیش نظر رکھ کرجامع حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔
یہ حکمت عملی کیا ہوسکتی ہے ؟
سب سے پہلے تو پورے ملک کے آبی ذخائر کا ایک جامع منصوبہ تیار کرنا ہوگا۔ایک ایسا آبی نقشہ جو تمام چھوٹے بڑے آبی ذخائر کی گنجائش کی صحیح تفصیل پیش کرے کہ سیلابی حالت میں ان میں کتنا پانی ذخیرہ ہوسکتا ہے۔ 
تمام ملک کے آبی راستے واضح کیے جائیں تاکہ سیلابی حالت میں انہیں صاف اور کھلا رکھا جائے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ لوگ آبی راستوں میں آباد ہوگئے ہیں بلکہ کہیں کہیں تو دریا کے اندر گاؤں کے گاؤں آباد ہوچکے ہیں۔ سندھ میں اس کی مثال کچے کے علاقے میں دیکھی جاسکتی ہے۔ لوگوں نے دریاؤں اور آبی راستوں میں نہ صرف گھر بنالیے ہیں بلکہ راستے بھی پکے کردے ہیں ۔ کچی زمین میں بہت سا پانی جذب ہوجاتا ہے جس سے سطح پر پانی کے ریلے کا زور بھی ٹوٹ جاتا ہے اور زیر زمین پانی کی سطح بھی بہتر ہوجاتی ہے لیکن ہماری عاقبت نااندیشیوں نے تو پانی کے لیے کوئی راستہ بھی نہ چھوڑا تو پھر پانی سیلاب نہ بنے تو اور کیا ہو ؟
سیلاب سے قبل بڑے آبی ذخائر مثلا منچھرِ، کینجھرجھیل اور اس جیسے دیگر ذخائرکی بھی صفائی کی جائے اور ان کی تہہ میں جمع مٹی اور ریت کو نکال دیا جائے تاکہ ان میں ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھ جائے اور سیلاب کے موسم میں خاصی مقدار میں پانی ذخیرہ ہوسکے۔
چھوٹے یا بڑے جہاں جہاں نئے ڈیم تعمیر ہوسکتے ہیں ان پر بلا توقف کام شروع کردیا جائے۔ ان ڈیموں میں پانی جمع ہوگا تو اس سے نہ صرف سستی پن بجلی حاصل ہوسکے گی بلکہ یہ پانی آئندہ خشک سالی کے دنوں میں ربیع اور خریف کی فصلوں کے لیے کام آئے گا۔ یہاں ہم پانی سے بنائی جانے والی بجلی کی افادیت کے حوالے سے ماہر ماحولیات ڈاکٹر پرویز نعیم کی رائے پیش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے غازی بروتھا پن بجلی منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ’’ 2005سے2009 کے سرکاری اعدادوشمار سے پتا چلا کہ تیل کے بجلی گھر کے مقابلے میں غازی بروتھا نے کوئی 5 ارب یونٹ بجلی زیادہ بنائی اور ساڑھے تین کروڑ کاربن کو ماحول میں شامل ہونے سے روکا۔اس پن بجلی کی لاگت تیل کی بجلی کی لاگت سے کم از کم پانچ روپے فی یونٹ کم تھی۔‘‘ ڈاکٹر صاحب کا یہ بھی کہنا ہے’’ پاکستان میں مزید 50,000 میگا واٹ پن بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہے مگر فی الحال ملک میں زیادہ تر بجلی درآمدی تیل جلا کر حاصل کی جارہی ہے جو جیب پر بھی بھاری ہے اور ماحول پر بھی!‘‘
آج ہمارے تمام مجوزہ آبی ذخائر متنازعہ بن چکے ہیں۔ ہم کوئی کام کریں گے نہ کرنے دیں گے والی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ جس طرح سیلاب کے بعد منڈا ڈیم پر کام شروع کردیا گیا ہے اسی طرح اگرمجوزہ ہر ڈیم پر کام شروع ہوجائے تو چند سالوں میں انتہائی سستی بجلی حاصل ہوسکتی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان تربیلا، منگلا اور وارسک ڈیم کی تعمیر کے بعد دنیا بھر میں ڈیم بنانے والی قوم Dames Building Nation کے نام سے جانا جاتا تھا لیکن اس کے بعد جو ہوتا رہا وہ غفلت، عاقبت نااندیشی اور بددیانتی کی طویل کہانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ڈاکٹر پرویز نعیم کا کہنا ہے کہ صرف اکیلا تربیلا ڈیم کئی ممالک کی مجموعی صلاحیت سے زیادہ بجلی پیدا کرتا ہے۔ کاش کہ ہم اپنے ان ماہرین کی گزارشات پر کان دھر سکیں اور ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاسکیں۔
ماحولیاتی جائزے کی حکمت عملی SEA کو مد نظر رکھ کرسیلاب سے بچاؤ کی جوحکمت عملی تیار کی جائے گی، وہ صرف بچاؤ کی حکمت عملی نہیں ہوگی بلکہ اس سیلاب کو اپنے فوائد کے استعمال کی رہنمائی بھی ہوگی۔سیلاب کی تخریب کاری سے ہمارے لیے نئے تعمیری راستے نکلیں گے۔ جو پانی محفوظ ہوگااس سے ہمارے معاشی نظام میں بھی بہتری آئے گی۔ پاکستان کے تقریبا 1000 کلومیٹر ساحل پر رہنے والوں کے بھی دن بدل جائیں گے۔ انڈس ڈیلٹا میں دریائی پانی کی کمی سے جو سمندری پانی کا الٹا بہاؤ سارے ڈیلٹا کے ماحولیاتی نظام کی تباہی کا سبب بن رہا ہے ، وہ بھی رک جائے گا۔ ماہی گیری کے وسائل بڑھیں گے اور ماہی گیروں کے معاشی حالات بہتر ہوں گے۔ پانی کی فراوانی سے ہم نئی زمینیں زیر کاشت لاسکتے ہیں۔
بدلتے ہوئے موسموں کے باعث جو تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ان سے مفر ممکن نہیں ہے لیکن ان تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرکے ہم ایک نئے تعمیری دور میں داخل ہوسکتے ہیں۔ گلیشیئروں کا تیزی سے پگھلنا، دریاؤں میں پانی کی سطح میں اضافہ اور پھر غیر متوقع بارشیں ان سب سے نمٹنا مشکل سہی لیکن ناممکن کام نہ ہوگا اگر ہم پہلے سے تیار ہوں گے۔ طوفان سے پہلے بند باندھنے میں ہی ہماری بہتری ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ 2012 کے مون سون سے پہلے ہم کچھ ایسا کرسکیں کہ پھر ہمیں سیلاب میں بہتے ہوئے غریبوں کی فوٹیج دکھا کر دنیا بھر سے بھیک نہ مانگنا پڑے۔



فی الحال SEA کے رہنما خطوط پر ترقی یافتہ

ممالک زیادہ عمل کررہے ہیں۔

ترقی پزیر ممالک میں      SEAکے

سیلاب سے بچاؤ کی منصوبہ بندی اور حکمت عملی اگرماحولیاتی تجزیے کی حکمت عملی SEA کو پیش نظر رکھ کر تیار کی جائے تو نتائج بہترین نکل سکتے ہیں، خصوصا زمین کے بہتر استعمال کے حوالے سے یہ بہترین رہنمائی پیش کرتی ہے۔

 تجربات بہت ہی محدود سطح پر کیے گئے ہیں۔ اور یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے کہ پاکستان میں اس حکمت عملی کو پالیسیوں کے جائزے،قوانین اور منصوبوں میں متعارف کرادیا گیا ہے تاکہ ملک میں معاشرتی اور ماحولیاتی اثرات کے جائزے کے لیے اسے 
استعمال کیا جاسکے۔

ماحولیاتی قوانین کو مزید موثر بنانے کے لیے حکومت پاکستان کے ایک حالیہ منصوبے National Impact Assessment Program (NIAP)کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔ چار سال کے دورانیے پر محیط یہ پروگرام حکومت پاکستان اور آئی یوسی این کی مشترکہ کاوش ہے۔اس پروگرام کے تحت پاکستان میں رائج ماحولیاتی اثرات کے جائزے EIA کو بہتر بنایا جائے گااور ماحولیاتی جائزے کی حکمت عملی SEA کو پاکستان میں رائج کرنے کے حوالے سے کام کیا جائے گا۔اس پروگرام کے شریک کار پلاننگ کمیشن،نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کا شعبہ ماحولیات( انوائرنمنٹل ونگ)، تحفظ ماحول کی ایجنسی اور آئی یو سی این پاکستان ہیں۔ پروگرام کے لیے مالی معاونت نیدرلینڈ کے سفارت خانے کی ہے۔
اس قدر جامع اور ہمہ گیر ماحولیاتی قوانین کی موجودگی کے باوجودان پر عمل درآمدکے حوالے سے ہمارے ہاں جو صورت حال ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے لیکن پچھلے دوسالوں میں آنے والے خطرناک سیلابوں نے غوروفکر کے مزیدکئی در وا کردیے۔ بجا کہ یہ سیلاب ملکی تایخ کے بدترین سیلاب ٹھہرے اور بدلتے ہوئے موسموں پر کسی کا بس بھی نہیں چلتا لیکن جب اس سیلاب میں مضبوط دیوہیکل تعمیراتی ڈھانچے ریت کی دیوار کی طرح پانی میں بہتے چلے گئے تو پھر بات موسموں اور در جہ ء حرارت سے ہٹ کر کسی اور طرف نکل گئی ۔ اس سیلاب میں جہاں لاکھوں گھر تباہ اور ہزاروں عمارات زمیں بوس ہوئیں وہیں مضبوط دیوہیکل پل اور پختہ سڑکیں بھی خس و خاشاک کی طرح پانی میں بہہ گئیں۔دریا کے مضبوط پشتے اور بندپانی کے آگے مٹی کا ڈھیر بنتے چلے گئے اور سیلاب سے ہونے والا نقصان کہیں سے کہیں پہنچ گیا۔ 
کثیر لاگت سے تعمیر ہونے والی سڑکیں ، پل، بند، پشتے اور دیگر تعمیراتی ڈھانچوں کا اس طرح ڈھے جانا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ہر شعبے میں غفلت، نااہلی اور کرپشن کی پھیلی ہوئی کہانیاں اس معاملے کو اور بھی گمبھیر بنادیتی ہیں۔ لیکن سردست یہ ہمارا موضوع نہیں ہےء ہم تو یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ہمارے ملک میں ایسے قوانین موجود ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر نقصان کی شدت کو کم کیاجاسکتا تھا۔ مثلا تعمیراتی ڈھانچوں کا تعمیر سے پہلے اگر ماحولیاتی اثرات کا جائزہ (Environmental Impact Assessment) یا جسے مختصر ا EIA بھی کہا جاتا ہے، کروایا گیا ہوتا تو صورت حال یقیناًمختلف ہوتی۔ ای آئی اے کسی بھی منصوبے کے ماحول پر اثرات اور اس کی افادیت کی ایک واضح تصویر پیش کرتا ہے کہ منصوبہ کس حد تک قابل عمل اور مفید ہے اور یہ فیصلہ ابتدائی مراحل ہی میں ہوجاتا ہے۔ اگرچہ پاکستان ماحولیاتی تحفظ کے ایکٹ 1997 کے سیکشن 12کے تحت قانونی طور پر ہر منصوبے کے لیے EIA لازم کیا جاچکا ہے مگر اس کے باوجود اس قانون پر عمل درآمد کی صورت حال ہماری غیر سنجیدگی کی مظہر ہے۔ اسکول ، اسپتال، سڑکیں اور پلوں کی تعمیر سے پہلے اگر باضابطہ طور پر ماحولیاتی اثرات کا جائزہ (ای آئی اے) کروالیا جاتا تو شاید کثیر لاگت سے تیار ہونے والے یہ منصوبے سیلاب کے پانی میں بتاشوں کی طرح نہ گھل جاتے۔
ماحولیاتی اثرات کے جائزے کا عمل پاکستان ماحولیاتی تحفظ کے ایکٹ 1997 کے سیکشن 12کے تحت قانونی طور پر لازم کیا جاچکا ہے اور اس پر 2000 سے عمل درآمد شروع ہوچکا ہے۔
آئیے ذرا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں کہ ماحولیاتی اثرات کا جائزہ EIA اورماحولیاتی تجزیے کی حکمت عملی SEAسیلاب سے بچاؤ میں کس حد تک مدد دے سکتی ہے۔
اگرچہ سیلاب کے بچاؤکے ذمے دار اداروں میں سر فہرست وزارت پانی و بجلی ہے اور ظاہر ہے کہ اس حوالے سے سیلاب کے بچاؤ کے لیے منصوبہ یہی وزارت تیار کررہی ہوگی۔۔۔۔ لیکن ملکی روایت کے عین مطابق اگر صرف وقتی طور پر بچاؤ کے منصوبے تیار کیے جاتے رہیں گے تو بدلتے ہوئے موسم اورمتوقع آفات کی شدت ان منصوبوں کو ابتدائی سطح پر ہی ناکامی سے دوچار کرسکتی ہے ۔ وقت کی ضرورت سمجھتے ہوئے بچاؤ کی روایتی حکمت عملی کے بجائے ایک جامع اور موثر حکمت عملی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ بچاؤ کا منصوبہ اس جامع حکمت عملی (SEA)کا ایک حصہ ہوسکتا 
ہے۔
ماحولیاتی اثرات کا جائزہ EIA اور ماحولیاتی تجزیے کی حکمت عملی SEA جیسے اقدامات نہ صرف ماحولیاتی انحطاط کا خطرہ کم کرتے ہیں بلکہ ان کے ذریعے عوامی سطح پر شعور اور آگہی کا فروغ ، ماحولیات کے لیے کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اور ترقیاتی منصوبوں اور پالیسیوں میں تحفظ ماحولیات کی شمولیت جیسے اقدامات بھی کیے جاسکتے ہیں۔

شبینہ فراز:

دنیا بھر میں بدلتے موسموں پر بحث جاری ہے ۔ ان کے اثرات اورمتوقع نقصانات کا تخمینہ لگایا جارہا ہے اور ساتھ ہی روک تھام اور مطابقت کے اقدامات پر تحقیق جاری ہے۔ ۔۔ لیکن ہمارے ہاں طوفان سے پہلے بند باندھنے کا رواج ہرگز نہیں ہے جبھی تو 2010 اور پھر 2011 کا سیلاب ہمارے لیے اب تک قصہ ء پارینہ بن چکا ہے اور اب 2012 کا مون سون بھی سر پر آچکا ہے۔تیاری کے نام پر چند کاغذی منصوبے ہیں اور بس۔ اللہ تعالی سے خیرو عافیت کی دعا مانگتے ہوئے چند گزارشات پھر پیش کررہے ہیں جو شاید کہیں کسی کام آجائیں۔
پچھلے دہائی سے ماہرین مسلسل خبردار کررہے ہیں کہ بدلتے موسم اب ایک حقیقت بن کر سامنے آچکے ہیں اور پچھلے دوسالوں کے سیلاب ہمیں یہ بتا چکے ہیں کہ پاکستان بدلتے موسموں کی زد میںآچکا ہے۔ہمیں فورا سے پیشتر بچاؤ کی حکمت عملی تیار کرلینا چاہیے۔ یہ حکمت عملی کہاں اور کیسے تیار ہورہی ہے اس پر بات کرنے سے پہلے ہم آج اس حوالے سے پاکستان کے ماحولیاتی قوانین کا ایک جائزہ لیں گے جن پر عمل درآمد سے ہم ایسی کسی بھی قدرتی آفت کا نہ صرف مقابلہ کرسکتے ہیں بلکہ اس تخریب میں سے بھی اپنے لیے تعمیر کا پہلو نکال سکتے ہیں اور شرط صرف اتنی ہے کہ ہم وقت سے پہلے اس حوالے سے ایک جامع حکمت عملی تیار کرلیں۔ یہ حکمت عملی کیا ہوسکتی ہے اس سے پہلے ہم پاکستان میں رائج ماحولیاتی قوانین پر ایک نظر ڈالتے ہیں: 
ماحولیاتی تباہی کو روکنے کے لیے پاکستان نے کئی قوانین بنائے اور ادارہ جاتی اصطلاحات کیں جن میں 1973 کے آئین میں ماحولیات کی شمولیت، تحفظ ماحول کی قومی حکمت عملی (NCS) کی تیاری ، پاکستان ماحولیاتی قوانین برائے7 (PEPA 1997)199پر عمل درآمد، IEE/ EIA 2001 ضابطوں کا نوٹیفکیشن اور سب سے بڑھ کر قومی ماحولیاتی پالیسی 2005 (National Environmental Policy)کے لیے ماحولیات سے وابستہ تفصیلی رہنما خطوط وغیرہ کی تیاری شامل ہیں۔
قومی ماحولیاتی پالیسی کا مقصد پاکستان کے ماحول کا تحفظ، بچاؤ اور بحالی ہے تاکہ پائدار ترقی کے ذریعے شہریوں کے معیار زندگی میں اضافہ کیا جاسکے۔یہ پالیسی ترقیاتی منصوبہ بندی میں تمام عوامل کو شامل کردیتی ہے خواہ سرکاری ہوں یا نجی منصوبے۔ماحولیاتی اثرات کے جائزے کا عمل پاکستان ماحولیاتی تحفظ کے ایکٹ 1997 کے سیکشن 12کے تحت قانونی طور پر لازم کیا جاچکا ہے اور اس پر 2000 سے 

عمل درآمد شروع ہوچکا ہے۔


ایوارڈ یافتہ صحافی شبینہ فراز ماحولیاتی میگزین جریدہ کی مدیر رہ چکی ہیں اور اب متعدد اداروں کے ساتھ بطور کنسلٹنٹ وابستہ ہیں۔


علاوہ ازیں ماحولیاتی اثرات کی تجزیہ کاری (EIA) کے قواعد و ضوابط کے تحت منصوبوں کا جائزہ بھی لازمی قرار دیا گیا۔ اب EIA منصوبے کے (ممکنہ منفی) اثرات کی نشان دہی کے لیے اسے ابتدائی منصوبہ بندی کی سطح پر لاگو کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہی ہے کہ کسی منصوبے کے تمام تر پہلووں کے اثرات کا جائزہ لے کر ہی اسے دانش مندانہ فیصلہ کرنے کے اقدامات میں استعمال کیا جائے۔
اس حوالے سے ایک اور اہم ماحولیاتی شق ماحولیاتی جائزے کی حکمت عملی (Strategic Environmental Assessment) ہے۔ جسے مختصرا SEA بھی کہاجاتا ہے۔اس حکمت عملی کا اہم مقصد یہ ہے کہ حکمت عملی، پالیسی، پلان اور پروگرام(PPPs)کے تصور، منصوبہ بندی، ڈیزائننگ، منظوری اور عمل درآمد میں تمام ماحولیاتی پہلووں کی سہولت اور شمولیت کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں یقینی بنائے۔ مثلا زمینی استعمال کے لیے SEA منصوبے میں مجوزہ ترقیاتی عمل کے دوران حیاتیاتی تنوع کے نقصانات کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔کسی قومی شاہراہ کی تعمیر کرتے ہوئے آب و ہوا کی حدت میں اضافے یا کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج جیسے پہلووں کو کیوٹو پروٹوکول میں کیے گئے وعدوں کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے یا پھر ٹرانسپورٹ کے دوسرے طریقوں کا جائزہ بھی لیاجاسکتا ہ

صحت مند ماحولیاتی نظام اور بہتر شہری ماحول کے ذریعے قدرتی آفات کے مقابلے میں انسان کو لاحق خطرات میں کمی کی جاسکتی ہے

پاکستان تربیلا، منگلا اور وارسک ڈیم کی تعمیر کے بعد دنیا بھر میں ڈیم بنانے والی قوم Dames Building Nation کے نام سے جانا جاتا تھا لیکن اس کے بعد جو ہوتا رہا وہ غفلت، عاقبت نااندیشی اور بددیانتی کی طویل کہانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

انڈس ڈیلٹا میں دریائی پانی کی کمی سے جو سمندری پانی کا الٹا بہاؤ سارے ڈیلٹا کے ماحولیاتی نظام کی تباہی کا سبب بن رہا ہے

گلیشیئروں کا تیزی سے پگھلنا، دریاؤں میں پانی کی سطح میں اضافہ اور پھر غیر متوقع بارشیں ان سب سے نمٹنا مشکل سہی لیکن ناممکن کام نہ ہوگا 
طوفان سے پہلے بند باندھنے میں ہی ہماری
 بہتری ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ 2012 کے مون سون سے پہلے ہم کچھ ایسا کرسکیں کہ پھر ہمیں سیلاب میں بہتے ہوئے غریبوں کی فوٹیج دکھا کر دنیا بھر سے بھیک نہ مانگنا پڑے۔
Comments