جموں و کشمیر کے آزاد حصےآئینی معمہ ہیں یا پاکستان کا حصہ؟

posted Aug 9, 2012, 5:04 PM by PFP Webmaster   [ updated Aug 9, 2012, 7:15 PM by PFP Admin ]

آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان ریاست جموں وکشمیر کے وہ حصے ہیں جو یہاں کے لوگوں نے بغیر کسی منظم فوج اور لیڈر شپ کے آزاد کرائے اور رضا کارانہ طور پر پاکستان کے سپرد کر دیئے۔ اگر انگریز ہندوستان چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوتا اور پاکستان وجود میں نہ آیا ہوتا تو ریاست جموں و کشمیر اور اس کا کوئی حصہ بھی ڈوگرہ خاندان سے آزاد نہ ہوا ہوتا۔ بہرحال آنچہ بادا باد۔ ریاست کے یہ حصے آزاد ہیں لیکن ان کے سیاسی اور آئینی مقام کا تعین ایک معمہ چلا آ رہا ہے ۔(جسٹس (ر) منظور حسین گیلانی ریاست جموں وکشمیر کے آئینی، قانونی اور تاریخی حوالوں سے ایک معتبر شخصیت ہیں  اس مضمون میں انہوں نے آزادکشمیر کی سیاسی ، زمینی اور قانونی حیثیت کو زیر بحث لا کر ایک نئی طرح ڈالی ہے (

قانون اور سیاست کے ایک طالب علم ‘ وکیل اور جج کی حیثیت سے مجھے اس حقیقت میں کوئی ابہام نظر نہیں آتا کہ ریاست کے آزاد حصے مملکت پاکستان کا حصہ ہیں صوبہ نہیں۔ 
ریاست کے 
ہندوستانی مقبوضہ حصہ کو ہندوستان کے آئین کے شیڈول 1 آئیٹم 15 کے تحت ہندوستانی ریاستوں میں شامل کیا گیا ہے جس کی بنیاد مہاراجہ کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ 26 اکتوبر 1947 کا مبینہ الحاق 
نامہ ہے ۔ 

آزاد حصے ’’ہندوستان کے اندر ریاست جموں و کشمیر میں شامل نہیں تھے‘‘کیونکہ ان حصوں پر ایک حکومت قائم ہو چکی تھی جس کو 1948 سے 1950 تک سلامتی کونسل کی قراردادوں کے ذریعہ لوکل اتھارٹیز کے طور پر تسلیم کر کے پاکستان کی ہائی کمانڈ کے سپرد کیا گیا تھا



سردار محمد ابراھیم خان

 چند سیاستدان ان کو ریاست کے آزاد حصے اور مملکت پاکستان سے الگ علاقے تصور کرنے کے نعرہ
 لگاتے ہیں جبکہ پاکستان اور ان علاقوں کی عملی‘ بین الاقوامی‘ آئینی اور قانونی پوزیشن مختلف ہے۔ مقامی اقتدار کی خاطر علاقائی ‘ سیاسی جماعتیں ان علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کو تیار نظر نہیں 
آتیں۔
 
کافی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ میں نے آزاد کشمیر کے ایک بہت بڑے لیڈر سے یہی سوال اسی انداز میں کیا کہ آپ اپنے قد کاٹھ اور اثر و رسوخ کے پیش نظر آزاد کشمیر کے مقام کا قومی سطح پر تعین کرا لیں۔ ان کا جواب میرے لیئے حیران اور پریشان کن تھا" کہ یہ ایسا ہی رہنا چاہیے کبھی ہم اوپر اور کبھی وہ"۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اپنے آپ‘ اپنی قوم اور اس مقصد سے دھوکہ ہے جس کے لیئے مملکت پاکستان وجود میں آئی اور تحریک آزادی کشمیر روبہ عمل ہے ۔ اگر یہ 
حال لیڈرشپ کا ہے تو اں کے پیروکار کتنے مختلف ہو سکتے ہیں یہ مقام حیرت ہے ۔

یہ صرف لیڈر شپ کا ہی المیہ نہیں بلکہ حکومت پاکستان کے مختلف ادارے بھی اس معاملے میں یا تو کنفیوژن اور مصلحتوں کا شکار ہیں یا تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے ہیں یا معاملہ کو مفادات کی خاطر جوں کا توں رکھنا چاہتے ہیں۔ قانون اور سیاست کے ایک طالب علم ‘ وکیل اور جج کی حیثیت سے مجھے اس حقیقت میں کوئی ابہام نظر نہیں آتا کہ ریاست کے آزاد حصے مملکت پاکستان کا حصہ ہیں صوبہ نہیں۔ میری رائے کی بنیاد ان علاقوں میں حکومت کے قیام کا اعلان‘ سلامتی کونسل کی قراردادیں‘ یہاں کی سیاسی جماعتوں اور عوام کا رجحان۔ مملکت پاکستان کے اندر ان علاقوں کے معاملات کی ڈیلنگ ‘ پاکستان اور ہندوستان کے آئین کی متعلقہ دفعات وغیرہ ہے۔ 
مسلمانان ریاست جموں و کشمیر کی سال 1930-47 تک مسلمہ قومی جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے 19جولائی1947 کو قرارداد کے ذریعہ ریاست کا الحاق پاکستان سے کیا ۔ ریاست کے مہاراجہ نے اپنی 12 اگست 1947 کی ٹیلیگرام کے ذریعہ پاکستان اور ہندوستان کے ساتھ معاہدہ جون کا توں stand still کے ذریعہ ریاست کے الحاق کا اعادہ کیاجس کو ہندوستان نے منظور نہیں کیا لیکن پاکستان نے 15 اگست1947 کو جوابی ٹیلیگرام کے ذریعہ منظورکر لیا۔ اس طرح پوری ریاست جموں وکشمیر ڈیفیسکٹو طور اس تاریخ سے پاکستان کا حصہ بن گئی گو کہ عملی صورت حال مختلف ہے کیونکہ ہندوستانی فوجوں نے اس الحاق کی منظوری کے بعد زبردستی مقبوضہ ریاست پر قبضہ کر لیا۔ 24 اکتوبر1947 کو ریاست کے ان حصوں پر مشتمل ایک آزاد حکومت کے قیام کا اعلامیہ جاری کیا گیا اور ریاست کے ان علاقوں پر مشتمل ایک حکومت قائم ہو گئی۔ گلگت بلتستان کے راجوں اور میروں نے اپنی اپنی جاگیرداری یا علاقوں کا الحاق براہ راست پاکستان سے کر دیا جس کی 
Constitution of Azad Jammu and Kashmirتفصیل میری کتاب
  میں درج ہے لیکن حکومت پاکستان نے ان کو نہ تو صوبہ کا درجہ دیا اور نہ ہی کسی صوبے میں شامل کیا۔کیونکہ یہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت متنازعہ ریاست کا حصہ بن گئے تھے۔ یہ علاقے حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر کے درمیان 1949 کے ایک معاہدہ کے تحت جس کو کراچی معاہدہ کہا جاتا ہے حکومت پاکستان کے سپرد کیئے گئے جس کے بعد ریاست جموں و کشمیر کے یہ دونوں حصے الگ الگ اپنا نظم و نسق حکومت پاکستان کے کنٹرول میں رہ کر چلا رہے ہیں ۔حکومت پاکستان نے ان علاقوں میں وقتاً فوقتاً گورننس کے لیئے قانون و قواعد نافذ کیئے جو اس وقت بھی دونوں حصوں میں ایک ہی طرز پر مختلف ناموں سے نافذ ہیں لیکن ان کی روح ایک ہے ۔ ریاست کے دونوں حصوں کو پاکستان کے باقی صوبوں کے عین مطابق چلایا جا رہا ہے البتہ ان کو پاکستان کے آئین کے تحت صوبے کا درجہ حاصل نہیں ہے جبکہ ان پر تمام صوبائی ذمہ داریاں عائد ہیں۔ 
ریاست کے ہندوستانی مقبوضہ حصہ کو ہندوستان کے آئین کے شیڈول 1 آئیٹم 15 کے تحت ہندوستانی ریاستوں میں شامل کیا گیا ہے جس کی بنیاد مہاراجہ کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ 26 اکتوبر 1947 کا مبینہ الحاق نامہ ہے ۔ ہندوستانی آئین کے تحت ریاست جموں و کشمیر  تعریف یوں کی گئی ہے :۔ 
 "The territory which immediately before the commencement of this Constitution are comprised in the Indian State of Jammu and Kashmir " 
ہندوستان کے آئین کا نفاذ26 جنوری 1950 کو ہوا جس وقت ریاست کے 
آزاد حصے ’’ہندوستان کے اندر ریاست جموں و کشمیر میں شامل نہیں تھے‘‘کیونکہ ان حصوں پر ایک حکومت قائم ہو چکی تھی جس کو 1948 سے 1950 تک سلامتی کونسل کی قراردادوں کے ذریعہ لوکل اتھارٹیز کے طور پر تسلیم کر کے پاکستان کی ہائی کمانڈ کے سپرد کیا گیا تھا اور ہندوستان و پاکستان کے درمیان1949 کے سیز فائیر ایگریمنٹ کے تحت باونڈری کمشن نے بھی یہ عمل تسلیم کیا ہے ۔اسی طرح ہندوستانی آئین کی دفعہ 81 کے تحت پاکستان کے زیر کنٹرول علاقوں کو نکال دیا گیا ہے جو اس حقیقت کا بین ثبوت ہیں کہ ریاست کے آزاد علاقے گو کہ مجموعی طور پوری ریاست کے ساتھ متنازعہ ہیں لیکن عملی طور ان کو پاکستان کے علاقوں کے طور تسلیم کیا گیا ہے۔ تاشقند معاہدہ ۔ شملہ معاہدہ ۔ لاہور اور دہلی ڈیکلریشن نے ان زمینی حقائق پر مہر تصدیق ثبت کی ہے ۔

قومی معاملات میں سیاسی اور آئینی حقائق کا ادراک کیئے بغیر مسائل کا تعین اور حل کرنا ممکن نہیں ہے۔ حقائق کا بر وقت ادراک اور حل نہ کرنے سے نئے مسائل جنم لیتے ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر ان سیاسی اور آئینی حقائق میں سے ایک مسئلہ ہے جس کا بروقت ادراک نہیں کیا گیا جس وجہ سے روز بروز معاملہ گنجلک اور پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے ۔ پاکستان میں اقتدار کی کشمکش اور لیڈر شپ کے فقدان کی وجہ سے ہندوستان اپنا بے بنیاد موقف دنیا کو اپنے انداز میں منوانے میں کامیاب اور پاکستان پسپا ہوتا جا رہا ہے ۔ یہ ایک قومی المیہ ہے۔

میری رائے کی بنیاد ان علاقوں میں حکومت کے قیام کا اعلان‘ سلامتی کونسل کی قراردادیں‘ یہاں کی سیاسی جماعتوں اور عوام کا رجحان۔ مملکت پاکستان کے اندر ان علاقوں کے معاملات کی ڈیلنگ ‘ پاکستان اور ہندوستان کے آئین کی متعلقہ دفعات وغیرہ ہے۔
ہندوستانی آئین کی دفعہ 81 کے تحت پاکستان کے زیر کنٹرول علاقوں کو نکال دیا گیا ہے جو اس حقیقت کا بین ثبوت ہیں کہ ریاست کے آزاد علاقے گو کہ مجموعی طور پوری ریاست کے ساتھ متنازعہ ہیں لیکن عملی طور ان کو پاکستان کے علاقوں کے طور تسلیم کیا گیا ہے۔۔
ر
Comments