سی پیک اور کشمیر کا مسئلہ

posted Dec 19, 2018, 3:32 AM by PFP Admin   [ updated Dec 28, 2018, 2:02 PM ]

کشمیر میں شدید سردی  اور مودی  حکومت کی جارحانہ ،  پالیسی کے تسلسل کے باوجود مزاحمتی  تحریک جاری  ہے۔ دوسری جانب حکومت پاکستان کشمیریوں کے خلاف ہونے والے جبر و بربریت کے خلاف معمول کی ڈپلومٹک کوششوں کے ساتھ ساتھ سی پیک منصوبے پر تیزی  سے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ 

برفباری اور موسم کی خرابی کے ساتھ ساتھ بھارتی  افواج کی حد درجہ سیکورٹی کی موجودگی میں کشمیر یوں کی  موجودہ مزاحمتی  تحریک سو فیصد مقامی  سمجھی جارہی ہے۔ ہے۔یہی وجہ ہے کہ بھارتی حکومت کے سامنے عالمی اداروں کی قرار دادوں اور مطالبوں کا کوئی وزن محسوس نہیں ہو رہا ہے۔

Holiday Inn Express Hotels & Resorts

 اوآئی سی نے بھارت سے مطالبہ  توکیا ہے کہ کشمیریوں کا قتل عام بند کیا جائے۔ مگر اس  حوالے سے کشمیر میں بھارتی دہشت گردی رکوانے کے لیے کلیدی کردار ادا کرنے کی صلاحیت سے عاری دکھائی  دیتی ہے۔ امریکا افغانستان میں امن کے لیے اور وہاں سے اپنی رہی سہی عزت بچا کر نکلنے کا راستہ تلاش کررہا ہے پہلی مرتبہ باضابطہ درخواست کرکے طالبان سے مذاکرات کی بات کی اور مذاکرات بھی ہورہے ہیں۔





  جب تک سی پیک ہے پاکستان کی ضرورت چین کو ہے۔ اگر سی پیک کے منصوبوں سے پاکستان کو فائدے ہوئے تب بھی اور نقصان ہو تب بھی چین کی ضرورت تو سی پیک رہے گا لہٰذا پاکستان چین کو بھی عالمی قوت کے طور پر استعمال کرسکتا ہے لیکن سب سے بڑا مسئلہ جرأت مند قیادت کا ہے۔ IHG_YourRate یہ خیال کیا جارہا تھا کہ عمران خان مغرب اور عالمی برادری کے سامنے جرأت کے ساتھ پاکستان کا موقف رکھیں گے لیکن ابھی تک ان کی حکومت اپنی سمت متعین نہیں کرسکی ہے معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ہر روز نیا بحران آرہا ہے اور حکومت ڈالر، سرمایہ کاری، قرضوں کے حصول، آئی ایم ایف اور انڈے مرغی میں الجھی ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کامسئلہ تو پاکستانی حکمرانوں کی کمزوری کی وجہ سے بھی خراب ہوا ہے ورنہ ماضی میں کئی مواقع ملے اور اس طرح کی صورتحال تھی بلکہ بھارت اس سے زیادہ دباؤ کا شکار تھا اور پاکستان امریکا اور پوری عالمی برادری کا چہیتا تھا لیکن ہمارے حکمراں کشمیر میں استصواب کی تاریخ نہیں متعین کراسکے۔

امریکا افغانستان کا مسئلہ حل کرانا چاہتا ہے اور چین سی پیک کے سارے منصوبے کو پرامن رکھنا چاہتا ہے تاکہ اس کی  اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے ثمرات اسے ملیں۔ ایسے  موقع پر کشمیری قوم بھارت کے سامنے تو بے بس نظر آرہی ہے مگردانشمندانہ اقدامات کے ذریعے چین کا دباؤ استعمال کرکے اقوام متحدہ کے ذریعے کشمیر میں استصواب کے لیے فضا سازگار کرواسکتی ہے۔ اس کے لیے مستقبل  شناس  قیادت کی ضرورت ہے۔سارا مسئلہ قیادت کا ہے، کشمیری اپنی جانیں قربان کرکے پاکستان سے یکجہتی اور الحاق کے حق میں فیصلے دیے جارہے ہیں اور یہاں سے ڈھیلی ڈھالی کوششیں ہورہی ہیں -  ترکی ایغور مسلمانوں کے لیے زبردست مارچ کر رہا ہے تو پاکستان کشمیریوں کے لیے سرکاری سطح پر ایسا کیوں نہیں کرسکتا۔ جتنا زور ڈیم فنڈ کے لیے دیا گیا ہے اتنا اگر کشمیر کے لیے دیا جاتا فضا سازگار کی جاتی تو کشمیر آزاد ہوچکا ہوتا اور پانی کا مسئلہ بھی حل ہوجاتا۔



 

Comments