کشمیری لڑکیاں اور مارشل آرٹ

posted Feb 2, 2013, 8:49 PM by PFP Admin   [ updated Feb 2, 2013, 9:03 PM ]

یہ نوجوان خواتین، جن کے پاس مارشل آرٹس میں جامعاتی ڈگری ہے، اپنی کامیابیوں کا سہرا کشمیر میں امن کی واپسی اور اپنے خاندانوں کے سر باندھتی ہیں۔

راشد نے کہا، ”شورش کے گزشتہ سالوں کے دوران، دوسرے کھیلوں کی طرح، مارشل آرٹس نے بھی بہت نقصان اٹھایا۔ ہم، خاص طور پر ریاست سے باہر، ہونے والے مقابلوں میں حصہ لینے کے اہل نہیں تھے۔ کشمیر میں امن کی واپسی اور ہمارے خاندانوں کی بے مثال حمایت نے ہمیں اس قابل بنایا کہ ہم یہ غیر معمولی کارنامہ انجام دے سکیں“۔

نوجوان خواتین کی شاندار کارکردگی سے متاثر ہوتے ہوئے بہت سی کشمیری لڑکیاں روایتی مارشل آرٹس سیکھنے کی خواہاں ہیں۔

کشمیری لڑکیاں مارشل آرٹس کو خواتین کو ہراساں کرنے والے افراد اور حملہ آوروں سے بچانے کے بہترین ذریعے کے طور پر دیکھتی ہیں۔

 

سلمیٰ راشد  کے لئے  بین الاقوامی سطح پر سونے کا تمغہ جیتنا ایک عظیم تجربہ ہے۔" اس نے میرے اعتماد کو اتنا بڑھا دیا ہے جتنا پہلے کبھی نہیں تھا۔ میں ریاستی اور قومی سطح پر چاندی کا تمغہ جیت چکی ہوں لیکن میں ایسے غیر معمولی کارنامے کے لیے بے قرار تھی۔ کسی بھی ایتھلیٹ کے لیے، بین الاقوامی سطح پر سونے کا تمغہ جیتنا ایک خواب کے سچ ہو جانے کے مترادف ہے۔"


یہ دونوں سری لنکا میں تیس رکنی بھارتی ٹیم کا حصہ تھیں اورانہوں نے ملک 
کے لیے آٹھ میں سے دو سونے کے تمغے حاصل کیے۔ اب، رواں برس وہ 

مارشل آرٹس کی مزید تین بین الا قوامی چمپیئن شپ کے لیے بھارت کی نمائندگی کریں گی۔

 


اپنی ساتھی رکن کی طرح، پچیس سالہ سکینہ اختر، پہلے ہی ریاستی اور قومی سطح پر چاندی کے تمغے جیت چکی ہے۔

 ”بین الاقوامی سطح پر تمغہ جیتنا میرے لیے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں اب تک کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اس نے نہ صرف مجھے فخر کا احساس دیا بلکہ جس قوم اور ریاست سے میں تعلق رکھتی ہوں اس کے لیے بھی باعثِ وقار ہے“۔

 گزشتہ برس سری لنکا میں منعقد ہونے والی تیسری جنوبی ایشیائی سقے چیمپئن شپ میں ایک ایک سونے کا تمغہ اپنے نام کرنے کے بعد  بھارتی مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی سکینہ اختر اور سلمیٰ راشد متعدد کشمیری لڑکیوں کے لئے وجہِ تحریک بن گئی ہیں۔

   قدیم روائتی کشمیری مارشل آرٹ  ایک ایسا کھیل ہے جس میں  ماہر کھلاڑی ایک تلوار اور ڈھال کے ساتھ ساتھ مقابلہ کے لئے ضرب لگانے، ٹھوکریں، مکّے، پیچ اور کاٹنے جیسے متنوع حربے استعمال کرتے ہیں۔

یہ دونوں سری لنکا میں تیس رکنی بھارتی ٹیم کا حصہ تھیں اورانہوں نے ملک کے لیے آٹھ میں سے دو سونے کے تمغے حاصل کیے۔ اب، رواں برس وہ مارشل آرٹس کی مزید تین بین الا قوامی چمپیئن شپ کے لیے بھارت کی نمائندگی کریں گی۔

کشمیری لڑکیاں مارشل آرٹس کو خواتین کو ہراساں کرنے والے افراد اور حملہ آوروں سے بچانے کے بہترین ذریعے کے طور پر دیکھتی ہیں۔

Comments