باغ میں صحت عامہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال

posted Mar 4, 2013, 10:13 AM by PFP Admin   [ updated Mar 4, 2013, 10:36 AM ]

ذرا ان صحت عامہ کے مراکز کی خبر تو لیجئے جہاں آپ کے نام کی تختیاں لوگوں کی بے بسی کی کہانیاں بیان کرتے آپ کو نظر آئیں گی بہت سارے مراکز ابھی بھی ڈاکٹرز،سٹاف، لیڈی 
ڈاکٹرز،نرسز،ادویات اور عمارات کے منتظر ہیں

سردار قمر الزمان صاحب باغ کے عوام نے آپ کو اس لئے منتخب کیا تھا کیونکہ آپ ایک انقلابی سوچ و فکر رکھنے والے عوامی لیڈر ہیں عوام کے ساتھ آپ کا براہ راست رابطہ اور لگاؤ ہے مگر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ کی وزارت کے ناک تلے سرکاری ہسپتالوں میں غریب مریضوں کے ساتھ جو انسانیت سوز اور بھیانک کھیل کھیلا جا رہا ہے آپ اس سے ابھی تک بے خبر کیوں اور کیسے ہیں ؟ آپ تو لوگوں کے چہرے پڑھنے والے قائد ہیں پھر آپ کو ان شفا خانوں میں عوام کو مایوسیاں بانٹنے والوں کی خبر کیوں نہ ہو سکی؟ہسپتالوں میں زندگی و موت سے لڑتے بے بسی کی علامت بنے سینکڑوں، بوڑھوں،بچوں،عورتوں اور نوجوانوں کی آہوں،سسکیوں ،آنسوؤں کی خبر کیوں نہ لگ سکی آپ نے ان سرکاری ہسپتالوں کی اصلاح احوال کیلئے ابھی تک کوئی عملی قدم کیوں نہیں اٹھایا۔۔۔۔؟؟؟ سردار صاحب یہ وہ چبھتے ہوئے ان سینکڑوں مریضوں کے سوالات ہیں جو آپ پر ان کا قرض ہیں آپ اس قرض کو چکائیں گئے نہیں تو پھر یاد رکھےئے کل روز قیامت ان کے ہاتھ ہونگے اور آپ کا گریبان۔۔
اتنے بڑے ہسپتال سے مریضوں کو ایک پائی کی چیز مفت میسر نہیں بلکہ جگہ جگہ مختلف ٹیسٹوں،رپورٹس،پرچی کے نام پرجگا ٹیکس وصول کرنے کی ذمہ داری ہسپتال میں تعینات اہلکاران بڑے شوق سے ادا کرتے ہیں ،

ہسپتال میں مریضوں کو ادویات خاک ملیں گی ہسپتال کا عملہ پیارو محبت کے دو بول مریضوں سے بول دے تو اسے بھی بڑی غنیمت تصور کیا جاتا ہے روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں مریض یہاں کا رخ کرتے ہیں مگر مایوسیاں،نا امیدیاں اپنے دامن میں سمیٹ کر لوٹتے ہیں،سرکاری سٹور سے ادویات ملتی ضرور ہیں مگر غریبوں کو نہیں با اثر،سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے کو یا پھر ہسپتال میں تعینات اہلکاران کے اقربا و رشتہ داروں کو بس،سردار قمر الزمان صاحب اللہ نے آپ کو منتخب کر کے ایک بار پھر عوام کی خدمت کا موقع دیا ہے مجھے یاد ہے 

جب آپ وزارت صحت عامہ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد باغ تشریف لائے تھے تو ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں نے ڈسٹرکٹ ہسپتال باغ کی خستہ حالی،تین گنا فیسوں کی وصولی کی طرف توجہ مبذول کروائی تھی جس پر آپ نے میڈیا کے سامنے ہزاروں افراد کی موجودگی میں وعدہ کیا تھا کہ ،،آپ نہ صرف ڈسٹرکٹ ہسپتال کی حالت زار کو بہتر بنائیں گے بلکہ باغ میں ڈسٹرکٹ ہسپتال سمیت دیگر تمام صحت عامہ کے مراکز سے من مانی وصول کی جانے والی فیسوں کا خاتمہ کریں گئے 

مگر افسوس آپ کا یہ عوامی وعدہ بھی قصہ پارینہ بن گیا عوام آج بھی اسی طرح ان صحت عامہ کے مراکز میں لٹ رہے ہیں ان کا کوئی پرسان حال نہیں اسی طرح آپ نے شرقی باغ ،وسطی باغ میں جن صحت عامہ کے مراکز کو اپ گریڈ کرنے کے اعلانات کئے اور مختلف مقامات پر فسٹ ایڈ پوسٹوں کے قیام کے اعلانات کئے سردارصاحب آپ کے اعلانات بس اعلانات تک محدود رہے
* تحریر: سیّد عمران حمید گیلانی

کسی بھی ریاست میں صحت،تعلیم،جان و مال کا تحفظ،رہائش و خوراک کی فراہمی وہ بنیادی سہولیات ہیں جن کی عوام تک فراہمی کو یقینی بنانا حکومت وقت کی ذمہ داری بنتی ہے۔ضلع باغ میں بالخصوص باغ شہر میں اس وقت صحت عامہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال اس لئے زیادہ تشویش ناک ہے کیونکہ باغ سے منتخب ممبر اسمبلی پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سردار قمرالزمان اس وقت وزارت صحت کا قلمدان سنبھالے ہوئے ہیں

باغ آزاد کشمیر کے دور افتادہ علاقوں میں پھیلے رورل ہیلتھ سنٹرز،بنیادی صحت عامہ کے مراکز،فسٹ ایڈ پوسٹیں، ان کی حالت زار کا رونا روئیں یا پھر باغ کے دل میں واقع ڈسٹرکٹ ہسپتال کے متعلق دکھڑا بیان کریں ان صحت عامہ کے مراکز میں ایک عام آدمی کیلئے علاج معالجہ کی سہولیات حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے خاص کر ڈسٹرکٹ ہسپتال باغ جس کے ماہانہ اخراجات اور بجٹ لاکھوں نہیں کروڑوں میں شمار ہوتا ہے مگر افسوس یہ دکھ دہ حقیقت اور کڑوا سچ ہے کہ اتنے بڑے ادارے میں عام غریب آدمی علاج معالجہ کیلئے یہاں کا رخ کرتا ہے تو اس بیچارے کو کیا معلوم یہاں صحت عامہ کے کارندے جو کسی قصاب کی مانند یوں بیٹھے ہوئے ہیں جو کبھی پرچی فیس کے نام پر فیس بٹورتے دکھائی دیں گے تو کبھی اسی پرچی پر ماہر ڈاکٹر سے معائنہ کروانے کے چارجز وصول کریں گے،لیبارٹری میں ہونے والے ٹیسٹوں کی فیسیں جو تین گنا بڑھا دی گئیں ہیں اور ایک غریب آدمی کیلئے بیمار ہونا بھی بڑا عذاب بن کر رہ گیا ہے 

ڈسٹرکٹ ہسپتال غریب ،بے بس عوام کیلئے مسیحا کم جگا ٹیکس کی آماجگاہ بنا ہوا ہے جہاں کوئی پوچھنے والا نہیں ،کوئی قانون ضابطہ نہیں،ایسی سنگین صورتحال میں جو بھی لوگ اس طرف کا رخ کرتے ہیں وہ ذہنی مریض بن کر گھروں کو لوٹتے ہیں،سفید پوش مریض تو اب اپنے گھروں میں باعزت مرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر ،ناقص سہولیات،مریضوں کو ٹھیک کیا کریں گئے بلکہ مریضوں کے ساتھ آنے والے احباب بھی خود بیمار ہو کر گھروں کو جانے پر مجبور ہیں چلڈرن وارڈ میں ایک ایک بیڈ پر دو دو مریضوں کی ایڈجسٹمنٹ اور بیماربچوں کو بے بسی سے بلکتے تڑپتے ہوئے راقم الحروف خود نظارہ کر چکا ہے ۔
Comments