باغ کی بہاریں کب لوٹیں گی

posted Mar 10, 2013, 3:36 PM by PFP Admin
سڑکیں خستہ حالی کا شکار ہیں، باغ میں موجود ادارے جہاں بیٹھے کمیشن خور قومی خزانے کو چونا لگانے میں مصروف ہیں ان اداروں کی کار کردگی صفر ہے ایرا،سیرا کی فائلوں،ویب سائٹس پر دنیا کی نظروں میں دھول جھونکنے کیلئے باغ کی تعمیر نو و بحالی کا کام سو فیصد مکمل دکھایا تو جا رہا ہے مگر اصل حقیقت بڑی بھیانک اور افسوس ناک ہے کہتے ہیں ،،جس ملک و قوم کے اداروں اور افراد میں رشوت،کمیشن اور سود خوری سرایت کر جائے اس قوم اور ملک کی تباہی و بربادی کو کوئی نہیں روک سکتا ،،بدقسمتی سے آج ہم بھی اسی ڈگر پر چل نکلے ہیں پتا نہیں ہمارا انجام کتنا بھیانک اور کتنا خوفناک ہو گا آج باغ کا ہرذی شعور فرد یہ سوال کر رہا ہے کہ زلزلہ باغ کے علاوہ مظفر آباد،راولاکوٹ اور ایبٹ آباد مانسہرہ میں بھی آیا تباہی اور قیامت وہاں بھی برپا ہوئی؟ وہاں تو تعمیر و ترقی کے کام ہو رہے ہیں اور زیادہ ادارے پایہ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں۔۔۔؟ آخر باغ میں کب تعمیر و ترقی کا عملا آغاز ہوگا؟ باغ کی بہاریں کب لوٹیں گی۔۔۔؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہماری حکومت،این جی اوز،ایرا،سیرا سمیت دیگر ذمہ دار اداروں و افراد نے دینا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟

ہمارے اجڑے باغ کی داستان ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جسے بیان کرتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے،ہاتھ کانپنے لگتے ہیں دل و دماغ کی گردشیں جام ہونے لگتی ہیں،ذہنوں میں ایک خوفناک سرسراہٹ کا احساس ہونے لگتا ہے۔۔۔۔!! زلزلے کے بعد این جی اوز اور اداروں نے دیگر متاثرہ علاقوں کی طرح باغ کا بھی رخ کیا ایرا،سیرا اور نہ جانے اور کون کون سے اداروں کا قیام عمل میں آگیا اربوں روپے کی امداد جسے عالمی برادری اور انسانیت سے ایک مقدس رشتے سے پیار کرنے والوں نے متاثرہ افراد کی امداد و بحالی کیلئے جذبہ خیر سگالی کے طور پر بھیجا مگر یہاں بیٹھے مگرمچھوں نے سب کچھ ہڑپ کر لیا جن اداروں کی براہ راست مانیٹرنگ عالمی اداروں یا ڈونرز نے کی وہ ادارے آج زمین پر نظر آتے ہیں اور وہاں کام بھی جاری و ساری ہے مگر جہاں مداخلت حکومت،قومی اداروں،لوکل این جی اوز یا ٹھکیداروں کی ہوئی وہاں کوئی منصوبہ مکمل ہوتا دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس کے مکمل ہونے کے آثار نظر آتے ہیں ۔۔۔۔۔!!

آج یہی وجہ ہے کہ زلزلے کو آٹھ برس بیت گئے مگر باغ میں تعمیر نو و بحالی کا کام مکمل تو کیا بلکہ صحیح معنوں میں اس کا آغاز بھی نہیں ہوا باغ کے میگا پراجیکٹس سمیت دیگر چھوٹے بڑے منصوبہ جات پر کام ادھورا پڑا ہے انتظامیہ کے دفاتر بھی ابھی تک عارضی شیلٹرز،کرایہ کی عمارات میں چل رہے ہیں،تھانہ باغ،سکولز،صحت عامہ کے مراکز بھی تعمیر نہیں کئے جا سکے 

* تحریر : سیّد عمران حمید گیلانی

غازیوں،مجاہدوں،شہدا کی سر زمین باغ جس کی بہاریں آج سے آٹھ برس قبل ایک قیامت خیز اور تباہ کن زلزلے میں ہم سے روٹھ گئیں باغ والوں سے گویا ہر نعمت ہر سہولت چھن گئی وہی باغ جو زلزلے سے پہلے خوشیوں اور مسرتوں کی پھلواری تصور کیا جاتا تھا جہاں ہر طرف بہاریں اپنا رنگ دکھاتی ہوئی نظر آتی تھیں،جہاں پرندوں کے سنگیت کانوں میں رس گھولتے تھے آج وہی بد قسمت باغ ملبے کے ڈھیر پر اہل باغ کی بد قسمتی کی کہانی بیان کر رہا ہے زلزے کی تباہ کاریوں جانی و مالی نقصانات بارے بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے ،ا

س اجڑے باغ کی المناک داستان کا ہر فرد عینی شاہد ہے ذرا سوچئے اور تصور میں لائیے وہ منظر کتنا درد ناک اور پر سوز ہوا ہو گا جب باغ والوں پر 8اکتوبر کو زلزے کی صورت میں ایک قیامت صغریٰ بپا تھی ہر طرف خوفناک تباہی کے دلدوز مناظر تھے انسانیت ملبے تلے دبی سسک رہی تھی مصیبت زدہ افراد مدد کیلئے آہ و بکا کر رہے تھے مگر کوئی ان کی مدد کیلئے تیار نہ تھا نفسا نفسی،افراتفری کی اس گھڑی میں ہر فرد ہر گھرانہ اور ہر ادارہ مدد کا منتظر تھا۔۔۔۔۔۔۔!!
Comments