ایران اور مسئلہ کشمیر

posted Dec 15, 2018, 1:28 AM by PFP Admin   [ updated Dec 19, 2018, 4:01 AM ]




طاہر یاسین طاہر//  بعض حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جنھیں نہ چاہتے ہوئے بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے،بھارت خواہ کتنا ہی ایران کے قریب ہوتا جائے،اور ایرانی تیل کا کس قدر بھی بڑھ چڑھ کر خریدرار کیوں نہ بن جائے،اس حقیقت سے بھارت کےلیے مفر ممکن ہی نہیں کہ کشمیر پر بھارتی پالیسی کا ایران ناقد ہے۔ہمیں یہ بھی تسلیم ہے کہ ایران ماضی میں اس طرح مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کا ہم آواز نہیں تھا جیسا کہ اب ہو رہا ہے۔اس کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ ایران ماضی میں کشمیر پر بھارتی موقف کا حامی تھا، نہیں۔بلکہ ایران کا کشمیر پر موقف اس قدر پاکستانی ہم آواز نہ تھا جیسی کہ پاکستانی عالمی فورمز پر ضرورت محسوس کرتا رہا ۔البتہ اب ،بلکہ گذشتہ چند سالوں سے ایران کا مسئلہ کشمیر پر موقف بڑا واضح اور پاکستان کا ہم آواز ہے۔اب تو اس میں مزید توانائی اور قوت آتی جا رہی ہے،جس کا مسئلہ کشمیر کے حق میں مثبت اثر پڑے گا۔


یاد رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ کشمیری عوام کی بھر پور حمایت تمام مسلمانوں کا فرض ہے۔ مسلم دنیا کو کشمیری عوام کی حمایت میں قدم بڑھانا چاہیے۔ایران کے راہبر اور سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنے عید کے خطبے میں کہا ہے کہ اسلامی سرزمنیوں پر غیر دینی قوتوں کے تسلط کے خلاف آواز اٹھاناہر مسلمان کا فرض ہے۔ انہوں نے خطبے میں کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے تمام مسلمانوں کو پیغام دیا کہ کشمیری عوام کی کھل کر حمایت کی جائے۔ سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ ہم ایسے لوگوں کو بھی مسترد کرتے ہیں جو رمضان المبارک میں نہتے اور بے گناہ عوام پر حملے کرتے ہیں ۔
اپنے خطبہ عید میں آیت اللہ خامنہ ای نے فلسطین کے مظلومین کے حق میں آواز بلند کی اور قبلہ اول کی آزادی کی جدو جہد کو تیز کرنے کا پیغام بھی دیا اور عالم اسلام کے حوصلوں کو بلند کیا۔اس امر میں کلام نہیں کہ ایران اپنی اصل میں مظلومین کا حامی اور ظالموں سے نفرت کرنے والا ایک دلیر معاشرہ ہے۔اس کی کئی ایک تاریخی و فقہی وجوھات بھی ہیں جن کے ذکر کا یہ محل نہیں۔کشمیر کئی دھائیوں سے بھارتی فورسز کے ظالمانہ تشدد کا شکار ہے اور بھارتی فورسز مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بری طرح پامالی کر رہی ہیں۔

کئی لاکھ کشمیر بھارتی مظالم کا شکار ہو کر رتبہ شہادت پر فائز ہو چکے ہیں۔یہاں قابل ذکر بات یہی ہے کہ اس سارے معاملے پر پاکستان کے موقف کی حمایت مسلم دنیا سے اس قدر توانا نہیں جیسا کہ اس کی ضرورت ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ عالم اسلام کے ایک اہم ملک میں بھارتی وزیر اعظم کو اس مسلم ملک کا سب سے بڑا سول اعزاز دیا جاتا ہے۔اماراتی بادشاہ سی پیک انویسٹمنٹ سے چار گنا بڑی انویسٹمنٹ بھارت کے ساتھ کرتے ہیں۔افغانستان کے ساتھ مل کر بھارت پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔ تعلقات و مفادات کا یہ سلسلہ بھی مسئلہ کشمیر پر مسلم دنیا کی توانا آواز نہ آنے کا ایک سبب ہے۔

دراصل ایران کی جانب سے کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت ایران کے فلسطین پر موقف کی ہی کڑی ہے۔ہم اس کو یوں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ فلسطین پر پاک ایران موقف یکساں ہے تو ایران نے کشمیر پر بھی پاکستانی موقف میں اپنی توانا آواز ملا دی ہے۔در اصل ملکوں کے باہمی تعلقات کی نوعیت مفادات ہوتے ہیں اور مفادات ہمیشہ معاشی ہی ہوا کرتے ہیں،جو آگے چل کر دفاعی اور ثقافتی کا روپ بھی دھار لیتے ہیں۔کشمیر پر ایران کا یوں دو ٹوک اور کھلا موقف سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسے سی پیک، سعودی قطر تنازع اور پاک سعودی مفادت کو ملا کر دیکھیں تو علاقائی سیاسی رخ کی سمجھ آ جاتی ہے۔دنیا کی نئی عسکری ،معاشی و ثقافتی تبدیلیوں کا مرکز اب ایشیائی خطہ ہو گا۔اور نئی تبدیلیوں میں انشا اللہ مظلوم کشمیریوں کو دنیا بھر سے اہلِ حق کی مدد و حمایت حاصل ہے۔

بشکریہ :  مکالمہ
یہ تحریر اردو ویب ساءیٹ مکالمہ سے لی گئ ہے۔ ایڈیٹر کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ 






Comments