اور کمان پل کا تالا کھل گیا

posted Aug 9, 2012, 7:28 PM by PFP Webmaster   [ updated Aug 9, 2012, 8:09 PM by PFP Admin ]
میجر سدھارتن کی کمانڈ میں غیر معمولی طورکمان پل کا تالا کھولا گیا اور میں اپنی فیملی کے سمیت اپنے وطن میں داخل ہو گیا۔
سرینگر میں اطلاع پانے والے رشتداروں اور دوستوں کا تعزیت کے لئے تانتابندھ گیا جس کی وجہ سے ہم لوگ پونے ایک بجے سرینگر سے اوڑی کے لئے روانہ ہوئے ۔اس اثناء میں میرے عزیزوں نے مظفرآباد میں ٹیول اینڈ ٹریڈاتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل برگیڈیر اسماعیل صاحب کو اطلاع دی جنہوں نے متعلقہ حکام کو انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت دے دی۔ سرینگر سے بذریعہ Emailبھی پاسپورٹ آفیسر نے پاکستان اتھارٹیز کو مطلع کر دیا تھا۔ہم لوگ ساڑھے تین بجے اوڑی کمان پل پر پہنچ گئے راستہ میں فوج کو پہلے سے اطلاع ہو چکی تھی ۔جنہوں نے اوڑی سے کمان پل تک نصف درجن چوکیوں میں سے کسی بھی جگہ ہمیں نہیں روکا ۔چونکہ یہ نارمل Travelکا دن نہیں تھااس کے باوجودحکومت نے خصوصی طور پر اس سارے عملے کو چیک پوسٹ پر پہنچا دیا تھا جو مقررہ ایام پر یہاں ہوتا ہے۔اللہ کرے ایسے حالات سے نپٹنے کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان یہ ایک مستقل CBMبن جائے۔
اس ہنگامی صورتحال میں ہپندوستان کی اتھارٹیز نے جس بالغ نظری کا ثبوت دیا اس کے لئے وہ تحسین کی مستحق ہیں۔جس کے لئے میں اور میراخاندان ان کا  شکر گزار ہے۔ جس تدبر اور سرعت کے ساتھ یہ قدم اُٹھایا گیا وہ ان کے اداروں کی مضبوطی ،فعال اور خودمختارہونے کا ثبوت ہے۔جس ادارے کے پاس جو اختیار ہے اس کو استعمال کرنیکے لئے اس اتھارٹی کو کسی سے اجازت لینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ،یہی کسی ملک کی کامیابی کا ضامن ہے۔اللہ کرے ایسی ہی اداراتی فعالیت اور خودمختاری ہمارے ملک میں بھی آ جائے۔
مجھے مقامی ہندوستانی فوجی کمانڈر نے اطلاع دی کی انہوں نے ساڑھے تین بجے پاکستانی اتھارٹیز کو میرے کمان پل پر پہچنے کی اطلاع دے دی تھی لیکن ادھر سے مجھے لینے کے لئے گاڑی پونے پانچ بجے پل پر پہنچی جس پر ہندوستانی فوج کے ایک میجر سدھارتن کی کمانڈ میں غیر معمولی طورکمان پل کا تالا کھولا گیا اور میں اپنی فیملی کے سمیت اپنے وطن میں داخل ہو گیا۔ساڑھے چھ بجے شام میں نے اپنے والد مرحوم کی میت کے پاس حاضری دی حسب وصیت نماز جنازہ پڑھا ئی اور اسطرح ان کی پہلی ، آخری اور واحد خواہش کی تکمیل ہوئی یہ بظاہر ناممکن تھا لیکن اللہ کی مہربانی سے ممکن ہو گیا۔ ۔الحمدُللہ
وہ والدین خوش نصیب ہوتے ہیں جو اپنے زندگی میں اپنی  اولاد کو معاشرے میں نمایا پوزیشن میں دیکھیں اور وہ اولاد بھی خوش نصیب ہوتی ہے جس کو اپنے والدین کے سفرآخرت میں بھرپور شرکت کا موقع ملے۔ اس لحاظ سے ہم اور ہمارے والدین اللہ کے شکرگزار ہیں ۔
سرینگرسے مظفرآباد تک کے غیر متوقع لیکن بروقت سفر کو ممکن بنانے کی وجوہات سرینگر اور دہلی میں میرے دوستوں کی انتھک کوششوں اور دہلی کے حکام کی فراخدلی کے قطع نظری میرے والد صاحب مرحوم کی نماز جنازہ پڑھانے کی خواہش تھی جس نے دعا کی صورت اختیار کی وگرنہ اس خیال است ومحال است۔ مجھے زندگی میں پہلی بار اس حقیقت کاادراک ہوا کہ والدین کی خواہش بھی دعا ہوتی ہے اور اس دعا کی قبولیت کو میں نے بچشم وا قبول ہوتے دیکھا۔اللہ تعالی ٰ ہر شخص کے حق میں اس کے والدین کی دعا کو 
اسی طرح قبول فرمائے آمین ۔

مضمون نگار آزادکشمیر سپریم کورٹ کے سابق جج ہیں ان سے اس ای میل پررابطہ ممکن ہےmanzoorgillani@hotmail.com  

جسٹس (ر) سید منظور حسین گیلانی
میرے والد مرحوم سید حسن شاہ گیلانی نے20جون صبح 2بجے مظفرآباد اپنے گھر میں وفات پائی جس کی اطلاع مجھے سرینگر صبح پانچ بجے ملی جہاں میں11جون بروز سوموار چھ ہفتے کے لئے اپنے بچوں، نواسیوں کے سمیت گیا تھا۔ ان للہ وانا الیہہ راجہون ۔ انہوں نے وصیت کی تھی کہ میری زندگی میں ان کی موت کی صورت میں نماز جنازہ میں نے پڑھانی ہے اور زندگی بھر مجھ سے صرف اس بات کا تقاضا کیا تھا۔ میں حیران تھا کہ ان کی اس وصیت یا فرمائش کو میں کس طرح پورا کر سکتا ہوں جبکہ مظفرآباد سرینگر کا سفر ہندوستان و پاکستان کے درمیان معاہدے کے تحت صرف سوموار کو ہی ہو سکتا ہے اور اس سے قبل ہندوستان نے کئی سیاستدانوں ، لیڈروں وغیرہ کی اس خواہش کی کبھی تکمیل نہیں کی تھی کہ وہ شیڈول اور طریقہ کار سے ہٹ کر کسی کو سرحد کراس کرنے کی اجازت دے۔میں نے مظفرآباد میں اپنے عزیز وں کو بتایا کہ سوموار مورخہ26جون سے قبل میرے آنے کا کوئی امکان نہیں۔فون بند ہونے کے بعد میرے ہمراہ بیٹی نے مجھ سے کہا’’ابو کوشش کرنے میں کیا حرج ہے،ممکن ہے آج ہی جانے کی اجازت مل جائے‘‘۔والد صاحب مرحوم ایمان ،علم ،ہمت،جرات ،کردار اور غیرت کے لحاظ سے مکمل انسان تھے اور شریعت کے پابندتھے جن کو اللہ کی ذات اور اپنے قوت  بازو پر بھر پور اعتماد تھا وہ کہا کرتے تھے۔ کہ دینا میں ہونے والا کوئی کام ناممکن نہیں ہوتاانسان کو صیح طریقہ کار کے مطابق کوشش کر کے صیح مقام تک پہنچنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔میں نے فوراً ہی سرینگرمیں کشمیر کے ایک با اثر ریٹائیرڈ بیوروکریٹ کو فون کیاجس نے مخلصانہ طور پرکہا کہ سرینگرمیں کوئی اتھارٹی اس مسلے میں کوئی مدد نہیں کر سکتی کیونکہ وزارت خارجہ سے متعلق معاملہ ہے۔آزاد کشمیر کے برعکس مقبوضہ کشمیر کی حکومت کا مرکز میں نمائندگی ہونے کی وجہ سے بڑا وزن ہے اس لئے میں نے اپنے استادکشمیر میں نیشنل کانگرس پارٹی کے ریاستی صدر جناب سیف الدین سوز اور سول سوسائٹی کی ایک فعال ورکر(CDR) Center for Dialogue and Reconcilation دہلی کی Exective Director سو شوبھا باروی سے رابطہ کیا ۔ سوزصاحب راجیہ سبھا کے ممبر بھی ہیں اورجن کے ووٹ میں اتنا وزن ہے کہ ماضی میں اٹل بہاری واجپائی کی حکومت ان کے ایک ووٹ نہ دینے کی وجہ سے تحلیل ہو گئی تھی جبکہ محترمہ باروی ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں کے درمیان نزدیکی پیدا کرنے لئے کئی سیمنار کرا چکی ہیں ۔دہلی میں مرکزی حکومت کے دفاتر نو بجے کھلتے ہیں اس لئے سات سے نو بجے تک دونواصحاب نے رابطہ کر کے مجھ کو اطلاع دی کہ دہلی میں دفتر کھلنے پر کاروئی ممکن ہے۔نوبجے سے چند منٹ قبل ہی مجھے اطلاع ملی کہ میں اپنی فیملی کے کوائف سرینگر میں ریجنل پاسپورٹ کے پاس جمع کراؤں جہاں ایک نوجوان آفیسر نے فوری طور پر میرے کوائف لیکر وزارت خارجہ دہلی کو ارسال کر دئے۔11بجے دن مجھے دہلی سے اطلاع ملی کہ مجازاتھارٹی نے میری فیملی کو اسی روزبراستہ اوڑی چکوٹھی پاکستان جانے کی اجازت دے دی ہے۔چونکہ کشمیر سے پاکستان فون کرنے کی سہولت میسر نہیں ہے، اس لئے میں نے امریکہ میں اپنے بیٹے کے زریعہ مظفرآباد میں اپنے عزیز وں کو اس بات کی اطلاع دے دی جنہوں نے والد مرحوم کی مقرر وقت پر نمازجنازہ پڑھا کرتدفین میرے مظفرآباد پہنچنے تک روکنے کا فیصلہ کیا ۔بارہ بجے دن کے قریب دہلی حکومت کا تحریری اجازت نامہ مل گیا اور سرینگر میں میرے دستوں نے سفر کے لئے ٹراسپورٹ کا بندوبست کر دیا ۔

آزاد کشمیر کے برعکس مقبوضہ کشمیر کی حکومت کا مرکز میں نمائندگی ہونے کی وجہ سے بڑا وزن ہے

Comments