’ آر پار سفرکو آسان بنانے کی ضرورت‘

posted Sep 13, 2017, 3:19 PM by PFP Admin   [ updated Sep 13, 2017, 3:19 PM ]



انہوں نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ ایسے بھی ہیں جن کو روٹ پرمٹ جاری نہیں کیا گیا ہے اور ایسے لوگ بھی اپنوں کو ملنے کی تمنا رکھتے ہیں ۔گیلانی نے کہا کہ دونوں اطراف کی حکومتوں کو آر پار آواجاہی کے عمل کو مزید سخت کرنے کے بجائے ایسے لوگوں کو ملنے کا موقعہ آسانی سے فراہم کرنا چاہئے جو اپنوں کی یادوں میں دن رات آنسوں بہاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو تمام کراسنگ پوائنٹس پر تین بار آنے جانے کی سہولیات دی جانی چاہئے اور اس کی مدت ایک سال کے اندر استعمال کرنے کے بجائے تین سال پر محیط کیا جانا جائے ۔انہوں نے کہا کہ آر پار لوگوں کیلئے کراسنگ ہفتے میں دو بار ہونی چاہئے ،کراسنگ پوئنوں پر صفائی، کھانے پینے کی سہولیات، بیت الخلاء کی سہولت کے علاوہ چھان بین کا نظام آسان بنایا جائے۔ موبائل ، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ لینے کی اجازت ہونی چاہئے جیسا کے واہگہ اور دوسرے بارڈرس پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرمٹ پر سفر کرنے والوں کو وادی کے ہر حصے میں بغیر کسی مزید اجازت نامے کے جانے دیا جائیے۔ شادی بیاہ اور موت پر آنے جانے کی خصوصی اجازت ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ آنے جانے پر یہ پابندی نہیں ہونی چاہئے کہ جس کراسنگ سے آئیں ادھر سے واپس جائیں- انہوں نے کہا کہ عوامی رابطے سے حکومتی اعتماد سازی بحال کرنے اور بڑھانے میں آسانی ہوگی اور امن کے راستے بحال ہونگے۔انہوں نے کہا کہ تجارت سے محض چند سرمایہ داروں کو فائدہ ملتا ہے جبکہ عام لوگوں کے رابطوں سے فوائید ہمہ گیر اور اثرات دور رس ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندپاک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کیلئے واجپائی کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت ہے ۔

source : Kashmir Uzma, 
 
http://kashmiruzma.net/NewsDetail?MJqbleBX5E_bs6oRDfUU2k1oa8PNgLU0pf 
     
سرینگر//پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس منظورالحسن گیلانی نے کہا کہ دونوں حکومتوں کو ایسے لوگوں کے دلوں کو جوڑنا چاہئے ۔ کشمیر کی مہمان نوازی پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس مظفرآباد سپریم کورٹ منظور الحسن گیلانی نے کہا کہ میرے کشمیر کا ذر ہ ذرہ مہمان نواز ہے اور یہاں کی مہمان نوازی کو میں کبھی نہیں بھول سکتا ہوں۔اگست کے پہلے ہفتے اپنے رشتہ داروں کو ملنے وادی آنے والے سابق چیف جسٹس منظور گیلانی سوموار 11ستمبر کو کاروان امن بس سروس کے زریعے واپس مظفرآباد لوٹ گئے ہیں۔واپس جاتے وقت منظور حسین گیلانی نے وادی کشمیر ، پونچھ ،راجوری اور کرناہ میں قیام کے دوران اپنے دوستوں، بزرگوں اورعزیزوں کی طرف سے پر خلوص میزبانی ، پیار ، اور شفقت سے مستفید کئے جانے پر ان کا شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے ہند پاک حکومتوں پر زور دیا کہ سرحد کے آر پار مقیم کنبوں کو آپس میں ملانے کیلئے آر پار سفر کو مزید نرم کیا جائے ۔منقسم خاندانوں کی حالت پر تذکرہ کرتے ہوئے گیلانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ہند پاک کے درمیان 2003میں ہوئی جنگ بندی معاہدے کے بعد 2005میں آر پار اس لئے راستے کھولے گئے تاکہ صدیوں سے بچھڑے لوگ ایک دوسرے سے مل سکیں ۔وہ کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ ایک دوسرے کو ملے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ ایسے ہیں جو ملنے کی چاہت رکھتے ہیں اور ایسے میں دونوں اطراف کی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ ایسے منقسم کنبوں کو ایک دوسرے سے ملانے کیلئے اقدام کریں جو 1947میں ایک دوسرے سے جدا ہو ئے ۔انہوں نے ماضی کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ سرحدوں پر ہزاروں کنبے ایسے ہیں جن کے ماں باپ وہاں رہ گئے اور بیٹے یہاں جبکہ بیٹے یہاں اور ماں باپ وہاں ،کسی نے جبری تقسیم میں بھائی کھو دیا کسی نے بیٹا ، کسی نے ماں کو کھو دیا کسی نے پاپ اور ایسے میں رشتے بکھر گئے کئی سالوں تک لوگ خطوط کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرتے رہے لیکن 2005کا سال ریاست کے منقسم کنبوں کیلئے ایک سنہرا باپ ثابت ہوا ،اس دوران ہزراوں کی تعداد میں لوگ ایک دوسرے کو ملے اور بیتے دنوں کو یاد کیا ،اپنے فوت ہوئے عزیز واقارب کی قبروں پر جا کر فاتحہ خوانی کی

Comments