سر کے بال کاٹ کرعورت پرتشدد کا نشانہ اور ناک کاٹنے کی کوشش

posted Mar 24, 2013, 3:33 PM by PFP Admin   [ updated Mar 24, 2013, 3:40 PM ]

سسرال والوں نے تشدد کر نے کے بعد مجھے ایک گاڑی میں بند کر کے اپنے میکے بھیج دیا میں اب خاوند کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اور مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے ۔ اس دوران انسانی حقوق کی تنظیم جموں کشمیر ہیومن رائٹس موومنٹ کے صدر راجہ منیر اور پریس فار پیس کی ڈپٹی کو آرڈینیٹر روبینہ ناز نے کہا کہ ہم اس واقعے کی پُر زور مذمت کر تے ہیں اور تہمینہ پر تشدد کر نے والے عبدالغفور اور عبدالجبار کو فوری طور پر قانون کے حوالے کیا جائے ۔ اور مظلومہ کو فوری طور پر انصاف دلایا جائے ۔ انہوں نے آئی جی آزاد کشمیر اور چیف جسٹس آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقع میں ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔ 


متاثرہ عورت نے کہاکہ ملزمان کو فوری طور پر
 گرفتارکرکے نصاف مہیا کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ 08مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر میرے سسر عبدالغفور اور جیٹھ عبدالجبار نے میرے کمرے میں داخل ہو کر مجھے تشدد کا نشانہ بنایا اور میرے بال کاٹ دئیے ۔ اس کے علاوہ میرا ناک کاٹنے کی کوشش کی جس پر میں نے شور مچایا اور پڑوسیوں نے آ کر میری جان بچائی ۔ یہ لوگ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے میری شادی سے لے کر اب تک مجھے ہراساں کر تے رہے ہیں اور تشدد کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ میرا خاوند بیرون ملک ہے اور مجھ پر الزام عائد کیا کہ میں فون پر کسی سے بات کر تی ہوں جبکہ میں فون پر صرف اپنے والدین سے بات کر تی تھی ۔ فون پر بات کر نے کے جرم میں مجھے تشدد کا نشانہ بنا یا جا رہا ہے اور میری زندگی خطرے میں ہے ۔

باغ ( رپور ٹ اور تصاویر : شوکت تیمور )۔ سسر اور جیٹھ نے سر کے بال کا ٹ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور ناک کاٹنے کی کوشش کی ، شورسن کر ہمسایوں نے چھڑایا۔تھوراڑ ہاڑہ کی رہائشی تہمینہ زوجہ ابرار سسرالیوں کے ظلم کا شکار ہو نے کے بعد باغ پہنچ گئی ۔ 

متاثرہ عورت نے جموں کشمیر ہیومن رائٹس موومنٹ کے صدر راجہ منیر ، پریس فار پیس کی ڈپٹی کوآرڈینٹر روبینہ ناز ، شاہدہ پروین ، شازیہ اور سلمی حمید کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ اس کی ڈیڑہ سال قبل ابرار سے شادی ہو ئی تھی۔ شروع دن سے ہی سسرالی لعن طعن کر رہے اورظلم کرتے تھے۔ اس کے خلاف تھانہ تھوراڑ میں رپورٹ درج کروائی گئی لیکن تا حال دونوں ملزمان گرفتار نہیں ہو سکے ۔ 
Comments