کشمیر کے دس ہزار لاپتہ افراد کی حقوق کے لیے زندگی کے آخری سانس تک لڑتی رہوں گی ۔پروینہ آ ہنگر

posted Jun 9, 2014, 4:11 PM by Zafar Iqbal   [ updated Jun 9, 2014, 4:12 PM ]
 

انھوں نے کہا کہ بھارتی کشمیر کے دس ہزار لاپتہ افراد کی بازیابی کی جہدوجہد ان کا زندگی کی سب سے اولین ترجیح ہے جس کے لیے وہ زندگی کے آخری سانس تک لڑیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جبری گمشدگیو ں کے خاتمے اور گم شدہ شہریوں کی بازیابی کے حوالے سے انھیں کشمیر اور بھارت کے انسان دوست طبقات نے غیر معمولی تعاون کیا ہے ۔پریس فار پیس کے بانی اور کشمیری قلم کار ظفر اقبال نے پروینہ آہنگر کی خدمات کو زبر دست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کشمیر کی آئرن لیڈی پروینہ آہن گر نے اپنے ادارے اے پی ڈی پی کے پلیٹ ٖفارم سے بے مثال جہدوجد کی ہے جو تاریخ میں جلی حروف سے لکھی جائے گی۔




 

Back to Conversion Tool



کشمیر میں لاپتہ شہریوں کے ورثاء کی تنظیم اے پی ڈی پی کی سربراہ پروینہ آہنگر نے کہا ہے کشمیر کے دس ہزار لاپتہ افراد کی بازیابی کی جہدوجہد انصاف کے حصول کے لیے ہے اور دنیابھر کے انصاف پسندوں کو کشمیرمیں لاپتہ شہریوں کی تلاش میں کشمیر کے مظلوموں کاساتھ دینا ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے دورہ برطانیہ کے دوران پریس فار پیس کے بانی اور کشمیری قلم کار ظفر اقبال کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ کشمیر میں جبری گمشدگیوں کے خلاف گزشتہ پچیس سال سے سرگرم انسانی حقوق کی علمبردار پروینہ آہنگر کا کہنا تھا کہ ان کے لاپتہ بیٹے سمیت ہزاروں گمشدہ کشمیریوں نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو ان کو سزا دی جائے لیکن اگر وہ بے گناہ ہیں تو ان نہتے شہریوں کو بھارتی ریاست دنیا کے سامنے لائے۔ ابھی تک لاپتہ کشمیریوں کے معاملے پر بھارتی اداروں اور 
حکومت کا رویہ شرمنا ک ہے۔ عدالتوں نے انصاف نہیں دیا۔


Comments