حکومت خواتین پر تشدد کی روک تھام کیلئے موثر قانون سازی کرے ۔خواتین کا مطالبہ

posted Dec 7, 2012, 12:30 PM by PFP Admin   [ updated Dec 7, 2012, 12:35 PM ]
آزاد کشمیر اسمبلی میں خواتین پر تشدد کے خلاف قانون سازی کی جائے اور اسمبلی میں خواتین نشستوں پر بیٹھی ممبران بھی خواتین بارے اپنا رول ادا کریں تاکہ معاشرے میں نہ صرف خواتین پر ہونے والے تشدد کو روکا جا سکے بلکہ خواتین کی عزت،آبرو اور ان کے وقار کو بلند کیا جاسکے لوگوں کے اندر شعور و آگاہی کیلئے جو بیڑا پریس فارپیس(PFP) نے اٹھایا ہے وہ قابل 
تحسین ہے۔
آزاد کشمیر اسمبلی میں خواتین پر تشدد کے خلاف قانون سازی کی جائے
 اور اسمبلی میں خواتین نشستوں پر بیٹھی ممبران بھی خواتین بارے اپنا رول ادا کریں 

خواتین پر تیزاب پھینکنے،غیرت کے نام پر قتل ،جنسی تشدد
اور گھریلو تشددکے واقعات اضافہ تشویش ناک ہے

جن میں جموں کشمیر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی مرکزی سیکرٹری جنرل نبیلہ ارشاد،مسلم لیگ ن شعبہ خواتین ونگ آزاد کشمیر کی مرکزی سیکرٹری جنرل الماس گردیزی،شازیہ کلثوم،مہناز اسحاق، ناہید اختر،سفینہ، صفیہ اختر، روبینہ ناز،ذکیہ، نجمہ بتول و دیگر شامل ہیں انہوں نے کہا کہ خواتین ہماری آبادی کا نصف سے زائد حصہ ہیں ملک کی تعمیر ترقی کی بات ہو یا نسل نو کی تعلیم و تربیت کی ان کا کلیدی رول ہوتا ہے مگر بد قسمتی سے آزاد کشمیر جیسے پر امن خطے میں خواتین پر تشدد کے واقعات میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے خواتین پر تیزاب پھینکنے،غیرت کے نام پر ان کا قتل عام،جنسی تشدد،اور گھریلو تشدد کے ذریعے بھی صنف نازک،حوا کی بیٹیاں پامال ہو رہی ہیں اور ان واقعات کا شکار بننے والی خواتین انصاف کی تلاش میں سسک سسک کر موت کو گلے لگا لیتی ہیں
باغ. : آزاد کشمیر جیسے پر امن خطے میں خواتین پر بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات قابل تشویش ہیں حکومت خواتین کے تحفظ اور ان پر ہونے والے تشدد کی روک تھام کیلئے موثر قانون سازی کرے اسمبلی میں خواتین کی نشتوں پر بیٹھی ممبران بھی اپنا رول ادا کریں،
آزاد کشمیر میں خواتین پر تیزاب پھینکنے،غیرت کے نام پر قتل کرنے،جنسی تشدد کے ساتھ گھریلو تشدد جیسے واقعات میں بڑھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو قابل تشویش ہے خواتین ہماری آبادی کا نصف حصہ ہیں اسلام نے ان کے جو حقوق متعین کئے ہیں وہ ان کو ملنے چاہئے 

ان خیالات کا اظہار پریس فار پیس 
 باغ کے زیر اہتمام،، خواتین پر تشدد کے خلاف جاری پندرہ روزہ مہم کے دوران مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی خواتین نے ایک خصوصی سروے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا 
Comments