تشدد سے پانچ سالہ طالبعلم ہلاک

posted Oct 16, 2012, 12:17 PM by PFP Admin   [ updated Oct 16, 2012, 12:20 PM ]
بچوں اور خواتین پر ذہنی، جسمانی اور جنسی تشدد کے واقعات میں آئے روز اضافہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔ ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے قانون ساز اسمبلی نے ریاست میں خواتین اور کمسن بچوں پر ہر قسم کے تشدد کی روک تھام کے لئے باقاعدہ قانون سازی کر رکھی ہے مگر کسی بھی حکومت نے ان قوانین کو عملاً نافذ کرنے اور موثر بنانے کے لئے اقدامات نہیں کئے جسکی وجہ سے اس طرح کے واقعات میں آئے روز اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔ ترجمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نکیال میں ہوئے واقعہ کو فوری نوٹس لیا جائے اور طلبہ و طالبات پر جسمانی تشدد میں ملوث اساتذہ اورنجی و سرکاری تعلیمی اداروں کے سربراہان کے خلاف بھی کاروائی کی جائے۔
 نکیال میں طاہر نامی سکول ٹیچر کے مبینہ تشدد سے پانچ سالہ طالبعلم محمد فراز ہلاک ہو گیا

 یاد رہے کہ چند روز قبل آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی کے
 علاقہ نکیال میں طاہر نامی سکول ٹیچر کے مبینہ تشدد سے پانچ سالہ طالبعلم محمد فراز ہلاک ہو گیا تھا ۔ پریس فار پیس نے مذکورہ واقعہ پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات اٹھائے جائے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے ۔ ترجمان کا کہنا ہے ہے کہ
 بچوں اور خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ

قیام امن اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ادارے پریس فار پیس نے آزاد کشمیر کے علاقہ نکیال میں سکول ٹیچر کے تشدد سے کم سن طالبعلم کی ہلاکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے آزا دکشمیر کے مختلف علاقوں میں خواتین اور بچوں خصوصاً سکولوں و مدارس کے طلباء و طالبات پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ پریس فار پیس کے ترجمان جلال الدین مغل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں بچوں اور خواتین کے تحفظ کے قوانین موجود ہونے کے باوجود ان پر عملدرآمد نہ ہونا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی ہے حکومت کو اس واقعہ سمیت تشدد کے دیگر واقعات کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔  
Comments