خواتین پر تشدد : موثرقانون سازی کا مطالبہ

posted Sep 27, 2012, 5:25 PM by PFP Admin   [ updated Sep 27, 2012, 5:30 PM ]
 تشدد کا شکار ہونے والی عورتوں کی نفسیاتی اور عملی بحالی کے لیے ادارے قائم کیے جائیں
پریس فار پیس کی رہنماؤں نے مطالبہ کیاکہ حکومت خواتین پولیس سٹیشن قائم کرے اور خواتین کی پولیس میں خاطر خواہ بھرتی کرکے ملازمت پیشہ عورتوں کا احساس تحفط یقینی بنائے۔

ان کا کہنا تھاکہ تشدد کا شکار ہونے والی عورتوں کی نفسیاتی اور عملی بحالی کے لیے ادارے قائم کیے جائیں۔ باغ میں قانون شکنی کے مرتکب ٹھیکیدار کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔
 پریس فار پیس کی رہنماؤں فریال حمید بٹ،نگھت
 چوہدری ایڈووکیٹ،سمیرا قریشی اور روبینہ ناز کشمیری نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ اگرحکومت نے خواتین کے تحفظ اور انھیں معاشرے میں ایک باوقارمقام دلانے کے لیے فوری اقدامات اورضروری قانون سازی نہ کی تو کسی بھی ماں،بہن اور بیٹی کے لیے عزت سے جینا اور رہنادشوار ہو جائے گا۔۔ پریس فار پیس کی رہنماؤں کا کہنا تھاکہ پاکستان کے دیگرعلاقوں کے مقابلے میں آزاد کشمیر میں صنفی تشدد کی شرح نسبتا کم رہی ہے لیکن اب خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات میں خطرناک اضافہ دیکھا گیا ہے جو ماضی میں ہونے والے اس نوعیت کے واقعات میں ملوث افراد کو حکومت اور متعلقہ اداروں کی طرف سے کھلی چھوٹ دینے اور ناقص قوانین کا شاخسانہ ہے۔
انسانی ترقی اور امن کے فروغ کے لیے کوشاں غیر سرکاری تنظیم پریس فار پیس نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کے رو ک تھام کے لیے موثر قانون سازی کرے اور باغ سمیت آزادکشمیر کے مختلف علاقوں میں عورتوں پر تشدد، بدسلوکی کی کارروائیوں میں ملوث قانون 
شکن عناصر کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔
اگرحکومت نے خواتین کے تحفظ اور انھیں معاشرے میں ایک باوقارمقام دلانے کے لیے فوری اقدامات اورضروری قانون سازی نہ کی تو کسی بھی ماں،بہن اور بیٹی کے لیے عزت سے جینا اور رہنادشوار ہو جائے گا

Comments