عالمی یوم امن کے موقع پرکشمیری بچوں کا مظاہرہ

posted Sep 21, 2012, 3:30 PM by PFP Admin   [ updated Sep 21, 2012, 3:46 PM ]
اس مظاہرے اور واک کا اہتمام انسانی ترقی اور دیرپا امن کے لیے 
کوشاں ادارے پریس فار پیس نے کیا تھا
واک میں شریک بچوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر کنٹرول لا ئن پر سیز فائر کو برقرار رکھا جائے ،ہم جنگ نہیں امن چاہتے ہیں،جنگ مہنگی اور امن مفت ،ہمیں کتابیں چاہئیں بم نہیں اور دیگر تحریریں درج تھیں

پریس فار پیس کمیونٹی سکول کے پرنسپل شفقت حسین ،وائس
 پرنسپل مولانا طیب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے اندر امن کی اہمیت اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اس لئے ہم بچوں کو دیگر مضامین کے ساتھ ساتھ امن کے حوالے بھی تعلیم دے رہے ہیں تاکہ مستقبل میں یہ بچے امن کے پیامبر بنیں کیوں کہ اسلام امن کا دین ہے جس میں کسی قسم کی بد امنی کی گنجائش نہیں ۔
اس موقع پر مقررین نے کہا کہ اس وقت تمام اقوام اور مذ اہب کے پیرو کاروں کو تحمل،باہمی احترام اور رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوے دوسرے کے سیاسی اور مذہبی عقائد اور خیالات کے احترام پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مل جل کر انسانیت کی بھلائی اور غریب اور مظلوم اقوام کی دادرسی 
ممکن ہو سکے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کنٹرول لائن پر دو ہزار تین میں سیز فائر ہوا تو وادی نیلم کے عوام نے سکھ کا سانس لیا مگر سیز فائر کے باوجود فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات پیش آ رہے ہیں جس میں دونوں ممالک کے فوجیوں سمیت عام لوگ بھی مارے جارہے ہیں 

اس موقع پر بچوں کا کہنا تھا کہ ماضی میں وادی نیلم اور
 دیگرسرحدی علاقوں پر گولہ باری اور فائرنگ سے سب سے زیادہ متاثر بچے ہوئے ہیں جو سکولوں اور گھروں میں مارے گئے اور ایک پوری نسل تعلیم سے محروم ہو گئی اب ہم امن کو کسی صورت غارت نہیں ہونے دیں گے ہماری اس واک کا مقصد ہے کہ عالمی برادری کو یہ پیغام دیا جائے کہ وہ کشمیر میں دیرپا امن کے لیے اپنا کردار ادا کرے ۔اس موقع بچوں نے قیام امن کیلئے خصوصی دعائیں بھی کیں ۔واک کے اختتام پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پریس فار پیس کے چیئر مین بورڈ آف ٹریسٹیز امیر الدین مغل نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کنٹرول لائن پر دو ہزار تین میں سیز فائر ہوا تو وادی نیلم کے عوام نے سکھ کا سانس لیا مگر سیز فائر کے باوجود فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات پیش آ رہے ہیں جس میں دونوں ممالک کے فوجیوں سمیت عام لوگ بھی مارے جارہے ہیں اوروادی نیلم کے عوام کنٹرول لائن پر دوبارہ جنگ چھڑ جانے کے خدشے سے پریشان ہیں ایسے میں دونوں ممالک اور عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ سیز فائر کو بحال رکھنے اور مسلہ کشمیر کے پر امن اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق منصفانہ حل کیلئے اپنا کردار ادا کر یں 
عالمی یوم امن کے موقع پرکشمیری بچوں کا مظاہرہ
عالمی یوم امن کے موقع پرکشمیری بچوں نے وادی نیلم میں لائن
 آف کنٹرول پر سیز فائر کو برقرار اور امن بحال رکھنے کیلئے مظاہرہ اور واک کی ہے۔اس موقع پربچوں نے جنگ مخالف اور امن کے حق میں نعرہ بازی بھی کی۔
واک میں شریک بچوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر کنٹرول لا ئن پر سیز فائر کو برقرار رکھا جائے ،ہم جنگ نہیں امن چاہتے ہیں،جنگ مہنگی اور امن مفت ،ہمیں کتابیں چاہئیں بم نہیں اور دیگر تحریریں درج تھیں اس موقع پر بچے ہم امن چاہتے ہیں کہ نعرے لگا تے رہے۔ اس مظاہرے اور واک کا اہتمام انسانی ترقی اور دیرپا امن کے لیے کوشاں ادارے پریس فار پیس نے کیا تھا جس میں تنظیم کے زیر اہتمام چلنے والے پریس فار پیس کمیونٹی سکول کے طلبہ وطالبات نے 
شرکت کی۔
سرحدی علاقوں پر گولہ باری اور فائرنگ سے سب سے زیادہ متاثر بچے ہوئے ہیں جو سکولوں اور گھروں میں مارے گئے اور ایک پوری نسل تعلیم سے محروم ہو گئی اب ہم امن کو کسی صورت غارت نہیں ہونے دیں گے