زمین پھٹی نہ آسمان گرا

posted Feb 10, 2013, 1:25 PM by PFP Admin   [ updated Feb 10, 2013, 1:36 PM ]
ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لڑکی کے والد نے تھانہ باغ میں قانونی کارروائی کے لیے درخواست بھی دے رکھی ہے مگر تاحال کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لڑکی کی نعش پر تشد د کے واضح نشانات بھی موجود تھے۔اس زیادتی کے خلاف لڑکی کے ورثاء نے انتظامیہ اور میڈیا کو خطوط بھی جاری کیے جس میں انہوں نے اس زیادتی کے ازالے اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی ، مذکورہ لڑکی کی قبر کشائی کر کے پوسٹ مارٹم کر کے اصل حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔ 
 لڑکی کے ورثا ء سے مک مکا کرنے کے لیے مقامی جرگہ نے معاملہ دبا تے ہوئے ملزم کو 5لاکھ جرمانہ ادا کرنے کا حکم صاد ر کیا۔ کئی روز گزرنے کے باوجو دبھی انتظامیہ نے اس واقعہ کا کوئی نوٹس نہ لیا اور نہ ہی کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ تفصیلات کے مطابق چند روز قبل باغ کے نواحی گاؤں موضع کھرل عباسیاں کے رہائشی دکاندار محمد ملازم حسین ، مقامی شخص محمد نور کی 19سالہ بیٹی نبیلہ سے عرصہ دراز سے مبینہ طور پر زیادتی کا مرتکب ہوتا رہا جس کے باعث مذکورہ لڑکی حاملہ ہو گئی۔ 6ماہ گزرنے کے ملازم حسین نے اپنے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اسقاط حمل کروایا۔ اور بعد ازاں اُس لڑکی کی پر اسرار ہلاکت ہوگئی۔مقامی لوگوں کے جرگہ نے اس معاملے کو دبانے کے لیے ملزم محمد ملازم حسین کو 5لاکھ روپے جرمانہ عائدکرنے کا فیصلہ صادر کرتے ہوئے لڑکی کے والدین کو خاموش کروایا اور انہیں ضلع بدر کر دیا۔
باغ ( شوکت تیمور سے ) زمین پھٹی نہ آسمان گرا۔ باغ کے نواحی گاؤں کھرل عباسیاں میں جرگہ نے دہرے قتل کے ملزمان کو 5لاکھ روپے جرمانہ عائد کر کے ملزمان کو معاف کر دیا۔ 51سالہ ملزم محمد ملازم حسین دُکاندار نے 19سالہ نبیلہ کے ساتھ مبینہ زیادتی کا مرتکب ہوتا رہا۔ 6 ماہ کی حاملہ ہونے پر جرم چھپانے کے لیے لڑکی اور پیٹ میں پلنے والے بچے کو قتل کر دیا اور 
مقتول کی نعش بغیر پوسٹ مارٹم کے دفنا دی گئی ۔

Comments