لائین آٖف کنٹرول پربھارتی جارحیت کے خلاف کوٹلی میں امن مارچ

posted Aug 29, 2013, 2:35 PM by PFP Admin   [ updated Aug 29, 2013, 2:40 PM ]

خودارادیت کی حمایت میں مختلف عبارات درج تھیں۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ عطا محی دین،ڈاکٹرتوقیرگیلانی،اصغرسیٹھی ، لیاقت حیات نے سیزفائر کی خلاف ورزیوں اور آزادکشمیرکے مختلف علاقوں میں سویلین آبادی پربھارتی جارحیت کی شدید مذمت کی۔جے کے ایل ایف کے سربراہ ڈاکٹرتوقیرگیلانی نے کہا کہ کشمیری عوام تنازعہ کشمیر کے بنیادی فریق ہیں۔دونوں قابض ممالک اپنی افواج کو نکال کرکشمیریوں کو امن سے رہنے کا موقع دیں۔معروف سیاسی رہنما خواجہ عطا محی دین نے کہاکہ ھندوستان کشمیرکے اندر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی کے بعد اب بزدلی پر اتر آیا ہے اور کنٹرول لائین پر نہتے لوگوں کونشانہ بنارہا ہے۔


اصغرسیٹھی اور لیاقت حیات نے کہا کہ حکومت پاکستان معذرت خواہانہ رویہ ترک کرے اور کشمیر پر دوٹوک موقف اختیار کیا جائے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی ختم کرے اور ماورائے انسانیت قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔ پریس فار پیس اور فیوچرکشمیر فورم کے نمائندوں انجنئیر منصور راٹھور اور شوکت راجہ نے کہا کہ ھندوستان اور پاکستان کشمیر کے آبی وسائل پر قبضے کی جنگ چھوڑکر کشمیریوں کا حق خود ارادیت کا احترام کریں۔تنازعہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر جنوبی ایشیامیں امن ایک سراب ہو گا کیونکہ بھارت اور پاکستان امن مذاکرات کا راستہ کشمیر سے گذرتاہے۔

 

کے سیکرٹری جنرل کے نام پیش کیا گئے میمورنڈم میں سیزفائر لائین پر حالیہ کشیدگی پرگہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ لائین آف کنٹرول پر بھارتی افواج کی وحشیانہ فائرنگ روکیں اور کشمیری عوام کی امنگو ں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے عالمی برادری اپنی اخلاقی اور انسانی ذمہ داریاں پوری کرے۔یاداشت میں کہا گیاکہ ا قوام متحدہ پاکستان اور بھارت پر دباؤ ڈالے کہ دونوں ملک سیزفائرمعایدے کی پاسداری کریں تاکہ بے گناہ انسانوں کی جانوں کو بچایا جاسکے اور اگر ان خلاف ورزیوں کو نہ روکاگیا توپوری ریاست جموں وکشمیر اس کے بھیانک اثرات کی زد میں آ جائے گی۔مذید کہا گیاکہ وقت آ گیاہے کہ اقوام متحدہ کشمیری قیادت کو اعتماد میں لے کر اس دیرینہ مسئلے کے دیرپا، پرامن اورمنصفانہ حل کے لیے اپنی قراردادوں پرعملدرامدکرائے تاکہ جنوبی ایشیامیں اسلحے کی دوڑختم ہواور یہاں کے وسائل جنگ اور ہتھیاروں کے بجائے عوامی خوشحالی پر صرف ہوسکیں۔مارچ سے قبل شہرمیں ایک پیس کیمپ کا انعقاد ہوا جس میں سماجی و عوامی حلقوں تاجروں، وکلا، صحافیوں اور دیگر مکاتیب فکر نے امن مارچ کی مکمل حمایت کر تے ہوئے یاداشت پر دستخط کیے۔ اس موقع پر گلو کار خرم بٹ نے آزادی اور امن کے بارے میں گیت اور نغمے پیش کرکے شرکا کے جذبات کو گرمایا ۔ شرکاء نے مختلف پلے کارڈز اور بینر بھی اٹھارکھے تھے جن پر ہمیں جنگی جنون نہیں،تعلیم وترقی چاہیے،پاک بھارت امن کاراستہ کشمیر سے گزرتاہے۔اورامن اور کشمیریوں کی حق 

  سیزفائر امن معائد ے اور حق خودارادیت کی حمایت پریس فار  پیس اور فیوچرکشمیر فورم کی یواین مشن کویاداشت

یواین پاک بھارت کشیدگی ختم اورتنازعہ کشمیرپرامن طریقے سے حل کرائے۔ڈاکٹرتوقیر، انجنئیرمنصو ر،خواجہ عطا ،لیاقت حیات، ،اصغرسیٹھی اور دیگر کا خطاب

کوٹلی: 


لائین آٖف کنٹرول پر ھندوستان کی طرف سے سیزفائر کی خلاف ورزیوں اور آزادکشمیرکے مختلف علاقوں میں سویلین آبادی پربھارتی جارحیت کے خلاف ایک امن مارچ کیا گیا۔امن مارچ کا انعقاد قیام امن اور انسانی ترقی کے لیے کوشاں سول سوسائٹی ادارے پریس فار پیس اور فیوچرکشمیر فورم نے مشترکہ طور پر کیا تھا ۔پیس مارچ کے شرکاء نے شہیدچوک کوٹلی سے اقوام متحدہ کے مقامی مبصرمشن تک مارچ کیا اورسیزفائرلائین پربھارتی جارحیت کے خلاف اور امن کی حمایت میں نعرے بازی کی۔مارچ کے اختتام پر سول سوسائٹی کے نمائندوں انجنئیر منصور راٹھور اور شوکت راجہ نے اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرورز کو ایک یاداشت پیش کی ۔اس موقع پرخواجہ عطا محی دین،ڈاکٹرتوقیرگیلانی،اصغرسیٹھی،عادل بٹ،لیاقت حیات،مظہرکاظمی،مسعود سیال،چوہدری فاروق ،نصیر راٹھور،چوہدری اکرم،اشعرعلی راٹھور،راجہ حبیب الرحمان،بشیربٹ،مس عنبرین ایڈوکیٹ، محترمہ تعظیم ایڈوکیٹ،اور دیگرسیاسی ر ہنما بھی موجود تھے۔ اقوام متحدہ 
Comments