پہاڑی زبان کے ساتھ امتیازی سلوک پر احتجاج

posted Feb 7, 2013, 4:59 PM by PFP Admin   [ updated Feb 7, 2013, 5:07 PM ]
لیکن سری نگر اور جمو ں کی راج دہانیوں میں بیٹھے پہاڑی دشمن پالیسو ں پر گامزن ہیں۔اس نمائندہ اجلاس میں پہاڑی سٹوڈینس یونین کے رہنماؤں عبدالقدیر،سیدمغل،راجو شرما، وندھا گیتا، مدھور گپتا، صدر یوتھ فےٖڈریشن ویسم مرزا، صدر پہاڑی ایکشن کیمٹی جاوید مغل،سنیررہنماؤں شیل دتا، اشوانی کمار، نصیب سنگھ اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ یاد رہے کہ بھارت میں آئینی طور پر پسماندہ طبقات کو شیڈولڈ ذاتوں میں شامل کرکے انھیں ملازمتوںِ،تعلیمی اداروں اور ترقیاتی منصوبوں میں کوٹہ اور دیگر رعاتیں حاصل ہیں اور کشمیر میں بکروالوں اور گوجر قبائل کو یہ درجہ حاصل ہے۔
پیپلز پہاڑی موومنٹ کے سربراہ شہباز خان اورپہاڑی فورم کے جنرل سیکرٹری وجے کوچرنے کہاکہ حکومت پہاڑی کیمونٹی کو شیڈولڈ کاسٹ کادرجہ نہ دے کرپہاڑی بولنے والے شہریوں کے ساتھ امتازی برتاؤ کررہی ہے۔پچیس لاکھ پہاڑیوں کے مطالبات کو پورا نہ کیاگیاتو جموں وکشمیر میں امن کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ رہنماؤں نے کہا کہ ۱۹۴۷ء میں ایک سازش کے ذریعے پہاڑی کیمونٹی کو تقسیم کیاگیا جس کی وجہ سے ستر فی صد پہاڑی بولنے والے پاکستانی کشمیر اور تیس فی صد انڈین کشمیر میں تقسیم ہو کر رہ گئے۔ پہاڑی فورم کے جنرل سیکرٹری وجے کوچرنے حکومت کو یاد دلایا کہ کشمیر کے زلزلے کے بعد جب سونیا گاندھی،صدر ابولکلام اور وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اوڑی کا دورہ کیا تو متاثرین نے امداد لینے سے انکارکردیا تھا کہ انھیں امداد نہیں شیڈولڈ کاسٹ کادرجہ دیا جائے۔جس پر رہنماؤ ں نے مطالبات پر عملدرآمد کا وعدہ کیا تھا۔

راجوری) پی ایف پی رپورٹ) 
بھارت کے زیرانتظام کشمیرکے پہاڑی بولنے والے علاقوں سے تعلق رکھنے والی معروف تنظیموں نے سری نگر اور دہلی کی حکومتوں کی طرف سے پہاڑی کیمونٹی اور پہاڑی زبان کے ساتھ امتیازی سلوک پر احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے وفد کو پاکستانی آزاد کشمیر جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ یہاں کے پہاڑی بولنے والی قیادت اور عوام سے مل کر اپنے حقوق کی بازیابی کی تحریک منظم کرسکیں۔اس بات کا مطالبہ جموں کشمیرپیپلز پہاڑی موومنٹ اور پہاڑی فورم کے زیراہتمام ایک بڑے احتجاجی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم،ہندو اور سکھ رہنماؤ ں نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 
Comments