پریس فار پیس- اردو - پہلا صفحہ

posted Dec 25, 2018, 1:17 AM by PFP Admin   [ updated Dec 28, 2018, 12:39 PM ]

مسئلہ کشمیر پر پاکستان و بھارت کی قیادت کی ذمہ داری

پاکستان نے حال ہی میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی  ابتر صورت حال کے حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ، سلامتی کونسل کے صدر ،جدہ میں او آئی سی  کےسیکرٹری جنرل اور جنیوا میں اقوام متحدہ  کے  کمشنر برائے انسانی حقوق کو خطوط لکھے ہیں۔  اور  ان خطوط کے ذریعے دنیا کی توجہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بربریت کی جانب مبذول کروائی ہے۔

پاکستان نے زور دیا کہ دنیا  بھارتی مقبوضہ کشمیر میں قتل وغارت بندکروانے اور یواین سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے ۔ پاکستان   نے اپنی برسوں پرانی کشمیر پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے یہ عندیہ دیا کہ وہ  جموں وکشمیر کے لوگوں کی اخلاقی،سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا جب تک انہیں حق خود ارادیت کا جائز حق نہیں مل  جاتا۔ جبکہ بھارت اپنی روایتی پالیسی پر کاربند  ہے۔ ایسے کوئی شواہد دکھائی نہیں دے رہے کہ جن سے یہ معلوم ہو بھارت پر ان مطالبات کا اثر ہو گا۔ بھارت کے آئندہ انتخابات سے قبل  وزیراعظم نریندر مودی  کے پاس یہ  بہترین موقع ہے کہ  وہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی مذاکرات کی پیشکش کا مثبت جواب دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں اعتماد سازی کے لیے فوجی آپریشن بند کریں ۔

 اس ضمن میں سابق  وزیر اعظم واجپائی کی بھارتی پالیسی کو بھی نئے انداز سے پرکھنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں کی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پر ُ امن سیاسی اور سفارتی ذرائع سے جموں و کشمیر کے تنازعہ کے حل کے لیے پیشرفت کریں ۔ Holiday Inn Hotels & Resorts حکومت پاکستان نے خطہ میں امن و استحکام کے قیام کے لیے کرتار پور کا باڈر کھول کر اور بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کر کے جو دانشمندانہ قدم اُٹھایا ہے بھارتی حکمران کو نیک نیتی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا مثبت جواب دینا چاہیے اور پہلے قدم کے طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں فوجی آپریشن بند کر کے امن مذاکرات کے لیے فضا کو ساز گار بنانا چاہیے تاکہ تنازعہ کشمیر سمیت دیگر حل طلب مسائل کو باہم بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔

 تنازعہ کشمیر کو طاقت کے استعمال سے حل کرنا ممکن نہیں اگر ایسا ہوتا تو بھارت گزشتہ70 سال میں طاقت اور جبر و استبداد کا ہر حربہ استعمال کر چکا ہے ۔ جموں و   کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے نہتے کشمیریوں پر چلنے والی ہر گولی خطے کو امن و استحکام سے دور لے جا رہی ہے اور بد امنی اور عدم استحکام کسی صورت  بھی  دونوں ملکوں  کے مفاد میں نہیں ہے ۔

 عکس خیال

تحریر: راحت فاروق ایڈووکیٹ

معاشرتی رشتوں، تعلقات اور اداروں کے حوالے سے عالمی سطح پر جو دن منائے جاتے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ایام کو منائے جانے کی غرض و غایت اور افادیت و اہمیت کیا ہے اور ہماری روزمرہ زندگی سے اس کا کیا تعلق ہے۔یہ امر ایک حقیقت چلی آر ہی ہے کہ ہمارا معاشرہ عقل و شعور سے عاری فہم وفراست سے مبرا بے ڈھنگی بھیڑ چال کا شکار بنتے ہوئے جس مقام پر اب پہنچ چکا ہے اگر بر وقت اس کا تدارک نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف تو کیا کریں گی.

 خاکم بدہن کہیں ہمیں یاد کرنے والی نسلیں ہی باقی نہ رہیں تقصیر معاف 8مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے جو میری دانست میں اس امر کا ثبوت ہے کہ کرہ ارض کے بسنے والے انسان استحصال کی جس مختلف حیثیتوں اور سطحوں پرشکارہے یا کرتا ہے ۔

ان میں سے ایک جنسی لحاظ سے غاصبانہ اور غیر فطری تفریق و امتیاز ہے جس باعث انسانی آبادی کا ایک معتدبہ حصہ کرہ ارض کو جنت بنانے کے خواب میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔اس دن کا منایا جانا جس کا آغاز 1908میں نیو یارک میں خواتین نے اپنے حقوق کے حصول کیلئے مظاہرے کیے جن میں خواتین کے سیاسی ،معاشی،معاشرتی اور ووٹ کے حقوق کیلئے مطالبات کئے گئے اس کے بعد کوین ہیگن میں سو شلسٹ ویمن کی سیکنڈا نٹرنیشل کانفرنس میں ویمن کے وفود گئے اور تجویز کیا کہ اس دن کو بین الاقوامی سطح پرمنایا جاَئے-

اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے عورت کو بیش بہا عزت ،تقدس اور لازوال رحمت کا مقام عطا کیا مگر آج بھی اگر معاشرے میں نظر دوڑائی جائے تو عظمت ورفعت کے درجات پر متمکن یہی بنت حوا انتہائی غیر مخفوظ اور ہرطرف استحصال اور ظلم کا شکار نظر آ تی ہے۔ جو نبی کریمﷺ کے ہر پیروکار کے لئے سوالیہ نشان ہے۔ اور آٹھ مارچ کو اس دن کے منائے جانے کا مقصد بنیادی طور پر افراد معاشرہ کو جھنجوڑنا ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات سے انحراف کے مرتکب ہو کر اس عظیم مقام کو بھول چکے جو نبی کریم ؐ نے عورت کو عطا کیا تھا۔

مزید پڑھیں

 

 

 

 


پریس فار پیس کمیونٹی اسکول، وادی نیلم آزادکشمیر میں قائم پہلا تعلیمی ادارہ ہے ۔ اس اسکول میں زیرِتعلیم  بچوں کی

تعلیمی سرگرمیوں،  کا احوال جاننے کے لیے یہاں کلِک کیجیے 


پریس فار پیس آزادکشمیر کے ڈایرکٹرراجہ وسیم خان عالمی امن کے قیام  کے لیے کام کرنے والی تنظیم پیس ڈایریکٹ کو پریس فار پیس کی  تنظیمی سرگرمیوں کی تفصیلات سے آگاہ کررہے ہیں۔ 

سی پیک اور کشمیر کا مسئلہ

posted Dec 19, 2018, 3:32 AM by PFP Admin   [ updated Dec 28, 2018, 2:02 PM ]

کشمیر میں شدید سردی  اور مودی  حکومت کی جارحانہ ،  پالیسی کے تسلسل کے باوجود مزاحمتی  تحریک جاری  ہے۔ دوسری جانب حکومت پاکستان کشمیریوں کے خلاف ہونے والے جبر و بربریت کے خلاف معمول کی ڈپلومٹک کوششوں کے ساتھ ساتھ سی پیک منصوبے پر تیزی  سے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ 

برفباری اور موسم کی خرابی کے ساتھ ساتھ بھارتی  افواج کی حد درجہ سیکورٹی کی موجودگی میں کشمیر یوں کی  موجودہ مزاحمتی  تحریک سو فیصد مقامی  سمجھی جارہی ہے۔ ہے۔یہی وجہ ہے کہ بھارتی حکومت کے سامنے عالمی اداروں کی قرار دادوں اور مطالبوں کا کوئی وزن محسوس نہیں ہو رہا ہے۔

Holiday Inn Express Hotels & Resorts

 اوآئی سی نے بھارت سے مطالبہ  توکیا ہے کہ کشمیریوں کا قتل عام بند کیا جائے۔ مگر اس  حوالے سے کشمیر میں بھارتی دہشت گردی رکوانے کے لیے کلیدی کردار ادا کرنے کی صلاحیت سے عاری دکھائی  دیتی ہے۔ امریکا افغانستان میں امن کے لیے اور وہاں سے اپنی رہی سہی عزت بچا کر نکلنے کا راستہ تلاش کررہا ہے پہلی مرتبہ باضابطہ درخواست کرکے طالبان سے مذاکرات کی بات کی اور مذاکرات بھی ہورہے ہیں۔





  جب تک سی پیک ہے پاکستان کی ضرورت چین کو ہے۔ اگر سی پیک کے منصوبوں سے پاکستان کو فائدے ہوئے تب بھی اور نقصان ہو تب بھی چین کی ضرورت تو سی پیک رہے گا لہٰذا پاکستان چین کو بھی عالمی قوت کے طور پر استعمال کرسکتا ہے لیکن سب سے بڑا مسئلہ جرأت مند قیادت کا ہے۔ IHG_YourRate یہ خیال کیا جارہا تھا کہ عمران خان مغرب اور عالمی برادری کے سامنے جرأت کے ساتھ پاکستان کا موقف رکھیں گے لیکن ابھی تک ان کی حکومت اپنی سمت متعین نہیں کرسکی ہے معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ہر روز نیا بحران آرہا ہے اور حکومت ڈالر، سرمایہ کاری، قرضوں کے حصول، آئی ایم ایف اور انڈے مرغی میں الجھی ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کامسئلہ تو پاکستانی حکمرانوں کی کمزوری کی وجہ سے بھی خراب ہوا ہے ورنہ ماضی میں کئی مواقع ملے اور اس طرح کی صورتحال تھی بلکہ بھارت اس سے زیادہ دباؤ کا شکار تھا اور پاکستان امریکا اور پوری عالمی برادری کا چہیتا تھا لیکن ہمارے حکمراں کشمیر میں استصواب کی تاریخ نہیں متعین کراسکے۔

امریکا افغانستان کا مسئلہ حل کرانا چاہتا ہے اور چین سی پیک کے سارے منصوبے کو پرامن رکھنا چاہتا ہے تاکہ اس کی  اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے ثمرات اسے ملیں۔ ایسے  موقع پر کشمیری قوم بھارت کے سامنے تو بے بس نظر آرہی ہے مگردانشمندانہ اقدامات کے ذریعے چین کا دباؤ استعمال کرکے اقوام متحدہ کے ذریعے کشمیر میں استصواب کے لیے فضا سازگار کرواسکتی ہے۔ اس کے لیے مستقبل  شناس  قیادت کی ضرورت ہے۔سارا مسئلہ قیادت کا ہے، کشمیری اپنی جانیں قربان کرکے پاکستان سے یکجہتی اور الحاق کے حق میں فیصلے دیے جارہے ہیں اور یہاں سے ڈھیلی ڈھالی کوششیں ہورہی ہیں -  ترکی ایغور مسلمانوں کے لیے زبردست مارچ کر رہا ہے تو پاکستان کشمیریوں کے لیے سرکاری سطح پر ایسا کیوں نہیں کرسکتا۔ جتنا زور ڈیم فنڈ کے لیے دیا گیا ہے اتنا اگر کشمیر کے لیے دیا جاتا فضا سازگار کی جاتی تو کشمیر آزاد ہوچکا ہوتا اور پانی کا مسئلہ بھی حل ہوجاتا۔



 

ایران اور مسئلہ کشمیر

posted Dec 15, 2018, 1:28 AM by PFP Admin   [ updated Dec 19, 2018, 4:01 AM ]




طاہر یاسین طاہر//  بعض حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جنھیں نہ چاہتے ہوئے بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے،بھارت خواہ کتنا ہی ایران کے قریب ہوتا جائے،اور ایرانی تیل کا کس قدر بھی بڑھ چڑھ کر خریدرار کیوں نہ بن جائے،اس حقیقت سے بھارت کےلیے مفر ممکن ہی نہیں کہ کشمیر پر بھارتی پالیسی کا ایران ناقد ہے۔ہمیں یہ بھی تسلیم ہے کہ ایران ماضی میں اس طرح مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کا ہم آواز نہیں تھا جیسا کہ اب ہو رہا ہے۔اس کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ ایران ماضی میں کشمیر پر بھارتی موقف کا حامی تھا، نہیں۔بلکہ ایران کا کشمیر پر موقف اس قدر پاکستانی ہم آواز نہ تھا جیسی کہ پاکستانی عالمی فورمز پر ضرورت محسوس کرتا رہا ۔البتہ اب ،بلکہ گذشتہ چند سالوں سے ایران کا مسئلہ کشمیر پر موقف بڑا واضح اور پاکستان کا ہم آواز ہے۔اب تو اس میں مزید توانائی اور قوت آتی جا رہی ہے،جس کا مسئلہ کشمیر کے حق میں مثبت اثر پڑے گا۔


یاد رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ کشمیری عوام کی بھر پور حمایت تمام مسلمانوں کا فرض ہے۔ مسلم دنیا کو کشمیری عوام کی حمایت میں قدم بڑھانا چاہیے۔ایران کے راہبر اور سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنے عید کے خطبے میں کہا ہے کہ اسلامی سرزمنیوں پر غیر دینی قوتوں کے تسلط کے خلاف آواز اٹھاناہر مسلمان کا فرض ہے۔ انہوں نے خطبے میں کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے تمام مسلمانوں کو پیغام دیا کہ کشمیری عوام کی کھل کر حمایت کی جائے۔ سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ ہم ایسے لوگوں کو بھی مسترد کرتے ہیں جو رمضان المبارک میں نہتے اور بے گناہ عوام پر حملے کرتے ہیں ۔
اپنے خطبہ عید میں آیت اللہ خامنہ ای نے فلسطین کے مظلومین کے حق میں آواز بلند کی اور قبلہ اول کی آزادی کی جدو جہد کو تیز کرنے کا پیغام بھی دیا اور عالم اسلام کے حوصلوں کو بلند کیا۔اس امر میں کلام نہیں کہ ایران اپنی اصل میں مظلومین کا حامی اور ظالموں سے نفرت کرنے والا ایک دلیر معاشرہ ہے۔اس کی کئی ایک تاریخی و فقہی وجوھات بھی ہیں جن کے ذکر کا یہ محل نہیں۔کشمیر کئی دھائیوں سے بھارتی فورسز کے ظالمانہ تشدد کا شکار ہے اور بھارتی فورسز مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بری طرح پامالی کر رہی ہیں۔

کئی لاکھ کشمیر بھارتی مظالم کا شکار ہو کر رتبہ شہادت پر فائز ہو چکے ہیں۔یہاں قابل ذکر بات یہی ہے کہ اس سارے معاملے پر پاکستان کے موقف کی حمایت مسلم دنیا سے اس قدر توانا نہیں جیسا کہ اس کی ضرورت ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ عالم اسلام کے ایک اہم ملک میں بھارتی وزیر اعظم کو اس مسلم ملک کا سب سے بڑا سول اعزاز دیا جاتا ہے۔اماراتی بادشاہ سی پیک انویسٹمنٹ سے چار گنا بڑی انویسٹمنٹ بھارت کے ساتھ کرتے ہیں۔افغانستان کے ساتھ مل کر بھارت پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔ تعلقات و مفادات کا یہ سلسلہ بھی مسئلہ کشمیر پر مسلم دنیا کی توانا آواز نہ آنے کا ایک سبب ہے۔

دراصل ایران کی جانب سے کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت ایران کے فلسطین پر موقف کی ہی کڑی ہے۔ہم اس کو یوں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ فلسطین پر پاک ایران موقف یکساں ہے تو ایران نے کشمیر پر بھی پاکستانی موقف میں اپنی توانا آواز ملا دی ہے۔در اصل ملکوں کے باہمی تعلقات کی نوعیت مفادات ہوتے ہیں اور مفادات ہمیشہ معاشی ہی ہوا کرتے ہیں،جو آگے چل کر دفاعی اور ثقافتی کا روپ بھی دھار لیتے ہیں۔کشمیر پر ایران کا یوں دو ٹوک اور کھلا موقف سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسے سی پیک، سعودی قطر تنازع اور پاک سعودی مفادت کو ملا کر دیکھیں تو علاقائی سیاسی رخ کی سمجھ آ جاتی ہے۔دنیا کی نئی عسکری ،معاشی و ثقافتی تبدیلیوں کا مرکز اب ایشیائی خطہ ہو گا۔اور نئی تبدیلیوں میں انشا اللہ مظلوم کشمیریوں کو دنیا بھر سے اہلِ حق کی مدد و حمایت حاصل ہے۔

بشکریہ :  مکالمہ
یہ تحریر اردو ویب ساءیٹ مکالمہ سے لی گئ ہے۔ ایڈیٹر کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ 






’ آر پار سفرکو آسان بنانے کی ضرورت‘

posted Sep 13, 2017, 3:19 PM by PFP Admin   [ updated Dec 19, 2018, 3:43 AM ]

   

سرینگر//پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس منظورالحسن گیلانی نے کہا کہ دونوں حکومتوں کو ایسے لوگوں کے دلوں کو جوڑنا چاہئے ۔ کشمیر کی مہمان نوازی پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس مظفرآباد سپریم کورٹ منظور الحسن گیلانی نے کہا کہ میرے کشمیر کا ذر ہ ذرہ مہمان نواز ہے اور یہاں کی مہمان نوازی کو میں کبھی نہیں بھول سکتا ہوں۔اگست کے پہلے ہفتے اپنے رشتہ داروں کو ملنے وادی آنے والے سابق چیف جسٹس منظور گیلانی سوموار 11ستمبر کو کاروان امن بس سروس کے زریعے واپس مظفرآباد لوٹ گئے ہیں۔واپس جاتے وقت منظور حسین گیلانی نے وادی کشمیر ، پونچھ ،راجوری اور کرناہ میں قیام کے دوران اپنے دوستوں، بزرگوں اورعزیزوں کی طرف سے پر خلوص میزبانی ، پیار ، اور شفقت سے مستفید کئے جانے پر ان کا شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے ہند پاک حکومتوں پر زور دیا کہ سرحد کے آر پار مقیم کنبوں کو آپس میں ملانے کیلئے آر پار سفر کو مزید نرم کیا جائے ۔منقسم خاندانوں کی حالت پر تذکرہ کرتے ہوئے گیلانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ہند پاک کے درمیان 2003میں ہوئی جنگ بندی معاہدے کے بعد 2005میں آر پار اس لئے راستے کھولے گئے تاکہ صدیوں سے بچھڑے لوگ ایک دوسرے سے مل سکیں ۔

وہ کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ ایک دوسرے کو ملے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ ایسے ہیں جو ملنے کی چاہت رکھتے ہیں اور ایسے میں دونوں اطراف کی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ ایسے منقسم کنبوں کو ایک دوسرے سے ملانے کیلئے اقدام کریں جو 1947میں ایک دوسرے سے جدا ہو ئے ۔انہوں نے ماضی کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ سرحدوں پر ہزاروں کنبے ایسے ہیں جن کے ماں باپ وہاں رہ گئے اور بیٹے یہاں جبکہ بیٹے یہاں اور ماں باپ وہاں ،کسی نے جبری تقسیم میں بھائی کھو دیا کسی نے بیٹا ، کسی نے ماں کو کھو دیا کسی نے پاپ اور ایسے میں رشتے بکھر گئے کئی سالوں تک لوگ خطوط کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرتے رہے لیکن 2005کا سال ریاست کے منقسم کنبوں کیلئے ایک سنہرا باپ ثابت ہوا ،اس دوران ہزراوں کی تعداد میں لوگ ایک دوسرے کو ملے اور بیتے دنوں کو یاد کیا ،اپنے فوت ہوئے عزیز واقارب کی قبروں پر جا کر فاتحہ خوانی کی۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ ایسے بھی ہیں جن کو روٹ پرمٹ جاری نہیں کیا گیا ہے اور ایسے لوگ بھی اپنوں کو ملنے کی تمنا رکھتے ہیں ۔گیلانی نے کہا کہ دونوں اطراف کی حکومتوں کو آر پار آواجاہی کے عمل کو مزید سخت کرنے کے بجائے ایسے لوگوں کو ملنے کا موقعہ آسانی سے فراہم کرنا چاہئے جو اپنوں کی یادوں میں دن رات آنسوں بہاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو تمام کراسنگ پوائنٹس پر تین بار آنے جانے کی سہولیات دی جانی چاہئے اور اس کی مدت ایک سال کے اندر استعمال کرنے کے بجائے تین سال پر محیط کیا جانا جائے ۔انہوں نے کہا کہ آر پار لوگوں کیلئے کراسنگ ہفتے میں دو بار ہونی چاہئے ،کراسنگ پوئنوں پر صفائی، کھانے پینے کی سہولیات، بیت الخلاء کی سہولت کے علاوہ چھان بین کا نظام آسان بنایا جائے۔ موبائل ، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ لینے کی اجازت ہونی چاہئے جیسا کے واہگہ اور دوسرے بارڈرس پر ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پرمٹ پر سفر کرنے والوں کو وادی کے ہر حصے میں بغیر کسی مزید اجازت نامے کے جانے دیا جائیے۔ شادی بیاہ اور موت پر آنے جانے کی خصوصی اجازت ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ آنے جانے پر یہ پابندی نہیں ہونی چاہئے کہ جس کراسنگ سے آئیں ادھر سے واپس جائیں- انہوں نے کہا کہ عوامی رابطے سے حکومتی اعتماد سازی بحال کرنے اور بڑھانے میں آسانی ہوگی اور امن کے راستے بحال ہونگے۔انہوں نے کہا کہ تجارت سے محض چند سرمایہ داروں کو فائدہ ملتا ہے جبکہ عام لوگوں کے رابطوں سے فوائید ہمہ گیر اور اثرات دور رس ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندپاک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کیلئے واجپائی کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت ہے ۔


کشمیر کے دس ہزار لاپتہ افراد کی حقوق کے لیے زندگی کے آخری سانس تک لڑتی رہوں گی ۔پروینہ آ ہنگر

posted Jun 9, 2014, 4:11 PM by Zafar Iqbal   [ updated Jun 9, 2014, 4:12 PM ]

 

انھوں نے کہا کہ بھارتی کشمیر کے دس ہزار لاپتہ افراد کی بازیابی کی جہدوجہد ان کا زندگی کی سب سے اولین ترجیح ہے جس کے لیے وہ زندگی کے آخری سانس تک لڑیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جبری گمشدگیو ں کے خاتمے اور گم شدہ شہریوں کی بازیابی کے حوالے سے انھیں کشمیر اور بھارت کے انسان دوست طبقات نے غیر معمولی تعاون کیا ہے ۔پریس فار پیس کے بانی اور کشمیری قلم کار ظفر اقبال نے پروینہ آہنگر کی خدمات کو زبر دست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کشمیر کی آئرن لیڈی پروینہ آہن گر نے اپنے ادارے اے پی ڈی پی کے پلیٹ ٖفارم سے بے مثال جہدوجد کی ہے جو تاریخ میں جلی حروف سے لکھی جائے گی۔




 

Back to Conversion Tool



کشمیر میں لاپتہ شہریوں کے ورثاء کی تنظیم اے پی ڈی پی کی سربراہ پروینہ آہنگر نے کہا ہے کشمیر کے دس ہزار لاپتہ افراد کی بازیابی کی جہدوجہد انصاف کے حصول کے لیے ہے اور دنیابھر کے انصاف پسندوں کو کشمیرمیں لاپتہ شہریوں کی تلاش میں کشمیر کے مظلوموں کاساتھ دینا ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے دورہ برطانیہ کے دوران پریس فار پیس کے بانی اور کشمیری قلم کار ظفر اقبال کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ کشمیر میں جبری گمشدگیوں کے خلاف گزشتہ پچیس سال سے سرگرم انسانی حقوق کی علمبردار پروینہ آہنگر کا کہنا تھا کہ ان کے لاپتہ بیٹے سمیت ہزاروں گمشدہ کشمیریوں نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو ان کو سزا دی جائے لیکن اگر وہ بے گناہ ہیں تو ان نہتے شہریوں کو بھارتی ریاست دنیا کے سامنے لائے۔ ابھی تک لاپتہ کشمیریوں کے معاملے پر بھارتی اداروں اور 
حکومت کا رویہ شرمنا ک ہے۔ عدالتوں نے انصاف نہیں دیا۔


تحفظ ماحولیات کے عالمی دن پر پی ایف پی کمیونٹی سکول کے بچوں کاقدرتی ماحول کے تحفظ کا عزم ۔

posted Jun 9, 2014, 3:57 PM by Zafar Iqbal   [ updated Jun 9, 2014, 4:00 PM ]



اس موقع پر پریس فار پیس کے چیئر مین بورڈ آف ٹرسٹیز امیر الدین مغل سکول کے نیلم پریس کلب کے صدر حافظ نصیر الدین ،پی ایف پی کمیونٹی سکول کے پرنسپل معین قریشی سکول کے طلبہ فائضہ سلطان ،سیف الاسلام اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمالیہ کے دامن میں واقع وادی نیلم ماحولیات ،جنگلات اور قدرتی وسائل کے حوالے سے بہت ہی اہم وادی ہے لیکن اس کے قدرتی وسائل بری طرح تباہ ہو رہے ہیں جنگلات کی بیدریغ کٹائی سے وادی میں درجہ حرارت دن بدن بڑھتا جا رہا ہے جس کے باعث صدیوں پرانے گلیشئرز پگھل رہے ہیں زمین کی بردگی کا سلسلہ جاری ہے پانی کے ذخائر میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے جنگلات میں گرمیوں کے موسم میں آنے والے بھیڑ بکریوں کے ریوڑ جڑی بوٹیوں کے خاتمے کا باعث بن رہے ہیں ایسے میں حکومتیں اور زمہ دار ادارے خاموش ہیں اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو اگلے بیس سالوں میں یہ خوبصورت وادی تباہ و برباد ہو کر رہ جائے گی۔




Back to Conversion Tool



وادی نیلم( پ ر)
آزادکشمیر کی خوبصورت وادی نیلم میں تحفظ ماحولیات کا عالمی دن بھرپور انداز میں منایا گیا ،قدرتی ماحول اور جنگلات کے تحفظ کا شعوربیدار کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے بچے گھنے اور سرسبزجنگل میں پہنچ کر درختوں سے لپٹ گئے عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر وادی نیلم پر پر فضا گاؤں چنجاٹھ میں واقع پی ایف پی کمیونٹی سکول کے درجنوں طلبہ و طالبات نے گاؤں سے ملحقہ گھنے اور سرسبز جنگل میں پہنچ کر قدرتی ماحول کے تحفظ اور جنگلات کی بقا اور درختوں سے محبت کا اظہار کرنے کیلئے درختوں سے لپٹ گئے طلبہ و طالبات نے نصف گھنٹہ سے زائد وقت درختوں سے لپٹے رہے اس موقع پر طلبہ و طالبات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ قدرتی ماحول اور جنگلات کے تحفظ کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے


پی ایف پی سکول کے طلبہ و طالبات کا تفریحی اور معلوماتی دورہ

posted May 4, 2014, 3:03 PM by Zafar Iqbal   [ updated May 4, 2014, 3:16 PM ]

پریس فار پیس کمیونٹی سکول نیلم کے طلبہ و طالبات نےتعلیمی،تفریحی اور معلوماتی دورے سے بھرپور استفادہ کیا۔دورہ کے دوران پریس فار پیس کے چیئر مین بورڈ آف ٹریسٹیز امیر الدین مغل ،نیلم پریس کلب کے صدر حافظ نصیر الدین ،سکول کے اساتذہ معین قریشی اور توفیق قریشی بھی ہمراہ تھے جنہوں نے بچوں کو سیاحت اور وادی نیلم کے قدرتی وسائل کے حوالے سے معلومات دیں اس موقع پر پریس فار پیس کے سنئیرعہدے دار امیر الدین مغل نے دیگر تاریخی اور سیاحتی مقامات کے دورے کرانے کا اعلان کیا۔یادرہے یہ کمیونٹی سکول پریس فار پیس کی فلاحی سرگرمیوں کا حصہ ہے جس کے تحت ایک دور دراز علاقے کے مستحق اوربے سہارا بچوں کو گزشتہ دس سالو ں سے تعلیم فراہم کی جارہی ہے


 اور انہیں بتایا گیا کہ وادی نیلم کے ان خوبصورت علاقوں میں ملک بھر سے ہر سال سیا ح بڑی تعداد میں سیاحت کیلئے آتے ہیں ان سیاحتی مقامات میں سیاحوں کی رہائش کیلئے ریسٹ ہاؤس گیسٹ موجود ہیں جبکہ دریائے نیلم کی دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے علاقہ بھی دیکھے جا سکتے ہیں جس کی وجہ سے یہ علاقے سیاحوں کی دلچسپی کا باعث ہیں طلبہ وطالبات نے مقبوضہ کشمیر کے علاقوں کا بھی نظارہ کیا اس موقع پر کیرن کے مقام پر سیاحوں کی جانب سے پھینکے گئے پلاسٹک کے شاپنگ بیگ ،جوس ،مشروبات کی خالی بوتلیں اور دیگر کوڑا کرکٹ بھی جمع کر کے سیاحتی مقامات کو صاف ستھرا رکھنے اورتحفظ ماحولیات کا شعور بیدار کرنے کی کوشش کی اور سیاحت کیلئے آنے والے سیاحوں سے مل کر ان کو بھی ان مقامات کی صفائی برقرار رکھنے 
کے حوالے سے گفتگو کی


نیلم؛ آزادکشمیر ( پی ایف پی نیوز)
وادی نیلم کے گاؤں چنجاٹھ میں گزشتہ دس سالوں سے فروغ تعلیم کیلئے مصروف عمل پریس فار پیس کمیونٹی سکول کے طلبہ و طالبات نے وادی نیلم کے سیاحتی مقامات کیرن اور نیلم گا ؤں کا مطالعاتی دورہ کیا۔طلبہ و طالبات نے کیرن کے مقام پر صفائی مہم کے دوران کوڑا کرکٹ جمع کر کے صحت و صفائی کا شعور بیدار کرنے کی بھی کوشش کی ۔پریس فار پیس کمیونٹی سکول کے طلبہ و طالبات کو سیاحتی گاؤں نیلم اور کیرن کے مطالعاتی دورے کے دوران سیاحتی علاقے کے حوالے سے معلومات فرہم کی گئی




 

لائین آٖف کنٹرول پربھارتی جارحیت کے خلاف کوٹلی میں امن مارچ

posted Aug 29, 2013, 2:35 PM by PFP Admin   [ updated Aug 29, 2013, 2:40 PM ]

خودارادیت کی حمایت میں مختلف عبارات درج تھیں۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ عطا محی دین،ڈاکٹرتوقیرگیلانی،اصغرسیٹھی ، لیاقت حیات نے سیزفائر کی خلاف ورزیوں اور آزادکشمیرکے مختلف علاقوں میں سویلین آبادی پربھارتی جارحیت کی شدید مذمت کی۔جے کے ایل ایف کے سربراہ ڈاکٹرتوقیرگیلانی نے کہا کہ کشمیری عوام تنازعہ کشمیر کے بنیادی فریق ہیں۔دونوں قابض ممالک اپنی افواج کو نکال کرکشمیریوں کو امن سے رہنے کا موقع دیں۔معروف سیاسی رہنما خواجہ عطا محی دین نے کہاکہ ھندوستان کشمیرکے اندر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی کے بعد اب بزدلی پر اتر آیا ہے اور کنٹرول لائین پر نہتے لوگوں کونشانہ بنارہا ہے۔


اصغرسیٹھی اور لیاقت حیات نے کہا کہ حکومت پاکستان معذرت خواہانہ رویہ ترک کرے اور کشمیر پر دوٹوک موقف اختیار کیا جائے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی ختم کرے اور ماورائے انسانیت قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔ پریس فار پیس اور فیوچرکشمیر فورم کے نمائندوں انجنئیر منصور راٹھور اور شوکت راجہ نے کہا کہ ھندوستان اور پاکستان کشمیر کے آبی وسائل پر قبضے کی جنگ چھوڑکر کشمیریوں کا حق خود ارادیت کا احترام کریں۔تنازعہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر جنوبی ایشیامیں امن ایک سراب ہو گا کیونکہ بھارت اور پاکستان امن مذاکرات کا راستہ کشمیر سے گذرتاہے۔

 

کے سیکرٹری جنرل کے نام پیش کیا گئے میمورنڈم میں سیزفائر لائین پر حالیہ کشیدگی پرگہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ لائین آف کنٹرول پر بھارتی افواج کی وحشیانہ فائرنگ روکیں اور کشمیری عوام کی امنگو ں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے عالمی برادری اپنی اخلاقی اور انسانی ذمہ داریاں پوری کرے۔یاداشت میں کہا گیاکہ ا قوام متحدہ پاکستان اور بھارت پر دباؤ ڈالے کہ دونوں ملک سیزفائرمعایدے کی پاسداری کریں تاکہ بے گناہ انسانوں کی جانوں کو بچایا جاسکے اور اگر ان خلاف ورزیوں کو نہ روکاگیا توپوری ریاست جموں وکشمیر اس کے بھیانک اثرات کی زد میں آ جائے گی۔مذید کہا گیاکہ وقت آ گیاہے کہ اقوام متحدہ کشمیری قیادت کو اعتماد میں لے کر اس دیرینہ مسئلے کے دیرپا، پرامن اورمنصفانہ حل کے لیے اپنی قراردادوں پرعملدرامدکرائے تاکہ جنوبی ایشیامیں اسلحے کی دوڑختم ہواور یہاں کے وسائل جنگ اور ہتھیاروں کے بجائے عوامی خوشحالی پر صرف ہوسکیں۔مارچ سے قبل شہرمیں ایک پیس کیمپ کا انعقاد ہوا جس میں سماجی و عوامی حلقوں تاجروں، وکلا، صحافیوں اور دیگر مکاتیب فکر نے امن مارچ کی مکمل حمایت کر تے ہوئے یاداشت پر دستخط کیے۔ اس موقع پر گلو کار خرم بٹ نے آزادی اور امن کے بارے میں گیت اور نغمے پیش کرکے شرکا کے جذبات کو گرمایا ۔ شرکاء نے مختلف پلے کارڈز اور بینر بھی اٹھارکھے تھے جن پر ہمیں جنگی جنون نہیں،تعلیم وترقی چاہیے،پاک بھارت امن کاراستہ کشمیر سے گزرتاہے۔اورامن اور کشمیریوں کی حق 

  سیزفائر امن معائد ے اور حق خودارادیت کی حمایت پریس فار  پیس اور فیوچرکشمیر فورم کی یواین مشن کویاداشت

یواین پاک بھارت کشیدگی ختم اورتنازعہ کشمیرپرامن طریقے سے حل کرائے۔ڈاکٹرتوقیر، انجنئیرمنصو ر،خواجہ عطا ،لیاقت حیات، ،اصغرسیٹھی اور دیگر کا خطاب

کوٹلی: 


لائین آٖف کنٹرول پر ھندوستان کی طرف سے سیزفائر کی خلاف ورزیوں اور آزادکشمیرکے مختلف علاقوں میں سویلین آبادی پربھارتی جارحیت کے خلاف ایک امن مارچ کیا گیا۔امن مارچ کا انعقاد قیام امن اور انسانی ترقی کے لیے کوشاں سول سوسائٹی ادارے پریس فار پیس اور فیوچرکشمیر فورم نے مشترکہ طور پر کیا تھا ۔پیس مارچ کے شرکاء نے شہیدچوک کوٹلی سے اقوام متحدہ کے مقامی مبصرمشن تک مارچ کیا اورسیزفائرلائین پربھارتی جارحیت کے خلاف اور امن کی حمایت میں نعرے بازی کی۔مارچ کے اختتام پر سول سوسائٹی کے نمائندوں انجنئیر منصور راٹھور اور شوکت راجہ نے اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرورز کو ایک یاداشت پیش کی ۔اس موقع پرخواجہ عطا محی دین،ڈاکٹرتوقیرگیلانی،اصغرسیٹھی،عادل بٹ،لیاقت حیات،مظہرکاظمی،مسعود سیال،چوہدری فاروق ،نصیر راٹھور،چوہدری اکرم،اشعرعلی راٹھور،راجہ حبیب الرحمان،بشیربٹ،مس عنبرین ایڈوکیٹ، محترمہ تعظیم ایڈوکیٹ،اور دیگرسیاسی ر ہنما بھی موجود تھے۔ اقوام متحدہ 

وادی نیلم :خواتین کنٹرول لائین پر بھارتی جارحیت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں

posted Aug 21, 2013, 2:37 PM by PFP Admin   [ updated Mar 16, 2014, 4:41 PM ]

امن کے لئے بینرز اور پلے کارڈ ز اٹھائے خواتین نے اس موقع پر عالمی دنیا سے بھی مطالبہ کیا کہ کنٹرول لائن پر گذشتہ کشیدگی کی وجہ سے چودہ سال تک وادی نیلم میں سکول نہیں کھولےجا سکے جس کی وجہ سے ایک پوری نسل ان پڑھ جوان ہو گئی ہے اگر باقی دنیا کے بچوں کو تعلیم کا حق تسلیم کیا گیا ہے تو کشمیریوں کے بچوں کو بھی یہ حق دیا جائے اور ہر اس اقدام سے احتراز کیا جائے جس سے 
کنٹرول لائن پر کشیدگی کو ہوا ملتی ہو









اس موقع پرخواتین کو یقین دلاتے ہوئے مقامی
 فوجی کمانڈر کا کہنا تھا کہ ان کا مطالبہ حکومت پاکستان تک پہنچا دیا جائے گا تاہم اگر بھارت نے کوئی مہم جوئی کی کوشش کی تو پاکستان کی فوج کشمیریوں کی محافظ بن کر ان کو بھارتی بچائے گی ۔
کنٹرول لائین پر واقع وادی نیلم کے ہیڈ کورٹر آٹمقام میں خواتین کنٹرول لائین پر بھارتی جارحیت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں ، مقامی فوجی کمانڈر کے دفتر تک مارچ کر کے یاداشت پیش کی گی
خواتین کا مطالبہ تھا کہ بھارت کیجانب کنٹرول لائن پر بلا اشعال فائرنگ کا سلسلہ یون ہی جاری رہا تو وادی نیلم میں نو ے کی دھائی کی طرح زندگی پھر مفلوج ہو کر رہ جائے گی حکومت پاکستان اقوام متحدہ کی سطح پر بھارت کو جارحیت سے روکنے کے لئے اثر رسوخ استعال 
کرے ۔



سر کے بال کاٹ کرعورت پرتشدد کا نشانہ اور ناک کاٹنے کی کوشش

posted Mar 24, 2013, 3:33 PM by PFP Admin   [ updated Mar 24, 2013, 3:40 PM ]

سسرال والوں نے تشدد کر نے کے بعد مجھے ایک گاڑی میں بند کر کے اپنے میکے بھیج دیا میں اب خاوند کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اور مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے ۔ اس دوران انسانی حقوق کی تنظیم جموں کشمیر ہیومن رائٹس موومنٹ کے صدر راجہ منیر اور پریس فار پیس کی ڈپٹی کو آرڈینیٹر روبینہ ناز نے کہا کہ ہم اس واقعے کی پُر زور مذمت کر تے ہیں اور تہمینہ پر تشدد کر نے والے عبدالغفور اور عبدالجبار کو فوری طور پر قانون کے حوالے کیا جائے ۔ اور مظلومہ کو فوری طور پر انصاف دلایا جائے ۔ انہوں نے آئی جی آزاد کشمیر اور چیف جسٹس آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقع میں ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔ 


متاثرہ عورت نے کہاکہ ملزمان کو فوری طور پر
 گرفتارکرکے نصاف مہیا کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ 08مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر میرے سسر عبدالغفور اور جیٹھ عبدالجبار نے میرے کمرے میں داخل ہو کر مجھے تشدد کا نشانہ بنایا اور میرے بال کاٹ دئیے ۔ اس کے علاوہ میرا ناک کاٹنے کی کوشش کی جس پر میں نے شور مچایا اور پڑوسیوں نے آ کر میری جان بچائی ۔ یہ لوگ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے میری شادی سے لے کر اب تک مجھے ہراساں کر تے رہے ہیں اور تشدد کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ میرا خاوند بیرون ملک ہے اور مجھ پر الزام عائد کیا کہ میں فون پر کسی سے بات کر تی ہوں جبکہ میں فون پر صرف اپنے والدین سے بات کر تی تھی ۔ فون پر بات کر نے کے جرم میں مجھے تشدد کا نشانہ بنا یا جا رہا ہے اور میری زندگی خطرے میں ہے ۔

باغ ( رپور ٹ اور تصاویر : شوکت تیمور )۔ سسر اور جیٹھ نے سر کے بال کا ٹ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور ناک کاٹنے کی کوشش کی ، شورسن کر ہمسایوں نے چھڑایا۔تھوراڑ ہاڑہ کی رہائشی تہمینہ زوجہ ابرار سسرالیوں کے ظلم کا شکار ہو نے کے بعد باغ پہنچ گئی ۔ 

متاثرہ عورت نے جموں کشمیر ہیومن رائٹس موومنٹ کے صدر راجہ منیر ، پریس فار پیس کی ڈپٹی کوآرڈینٹر روبینہ ناز ، شاہدہ پروین ، شازیہ اور سلمی حمید کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ اس کی ڈیڑہ سال قبل ابرار سے شادی ہو ئی تھی۔ شروع دن سے ہی سسرالی لعن طعن کر رہے اورظلم کرتے تھے۔ اس کے خلاف تھانہ تھوراڑ میں رپورٹ درج کروائی گئی لیکن تا حال دونوں ملزمان گرفتار نہیں ہو سکے ۔ 

1-10 of 38