’ آر پار سفرکو آسان بنانے کی ضرورت‘

posted Sep 13, 2017, 3:19 PM by PFP Admin   [ updated Sep 13, 2017, 3:19 PM ]




انہوں نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ ایسے بھی ہیں جن کو روٹ پرمٹ جاری نہیں کیا گیا ہے اور ایسے لوگ بھی اپنوں کو ملنے کی تمنا رکھتے ہیں ۔گیلانی نے کہا کہ دونوں اطراف کی حکومتوں کو آر پار آواجاہی کے عمل کو مزید سخت کرنے کے بجائے ایسے لوگوں کو ملنے کا موقعہ آسانی سے فراہم کرنا چاہئے جو اپنوں کی یادوں میں دن رات آنسوں بہاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو تمام کراسنگ پوائنٹس پر تین بار آنے جانے کی سہولیات دی جانی چاہئے اور اس کی مدت ایک سال کے اندر استعمال کرنے کے بجائے تین سال پر محیط کیا جانا جائے ۔انہوں نے کہا کہ آر پار لوگوں کیلئے کراسنگ ہفتے میں دو بار ہونی چاہئے ،کراسنگ پوئنوں پر صفائی، کھانے پینے کی سہولیات، بیت الخلاء کی سہولت کے علاوہ چھان بین کا نظام آسان بنایا جائے۔ موبائل ، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ لینے کی اجازت ہونی چاہئے جیسا کے واہگہ اور دوسرے بارڈرس پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرمٹ پر سفر کرنے والوں کو وادی کے ہر حصے میں بغیر کسی مزید اجازت نامے کے جانے دیا جائیے۔ شادی بیاہ اور موت پر آنے جانے کی خصوصی اجازت ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ آنے جانے پر یہ پابندی نہیں ہونی چاہئے کہ جس کراسنگ سے آئیں ادھر سے واپس جائیں- انہوں نے کہا کہ عوامی رابطے سے حکومتی اعتماد سازی بحال کرنے اور بڑھانے میں آسانی ہوگی اور امن کے راستے بحال ہونگے۔انہوں نے کہا کہ تجارت سے محض چند سرمایہ داروں کو فائدہ ملتا ہے جبکہ عام لوگوں کے رابطوں سے فوائید ہمہ گیر اور اثرات دور رس ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندپاک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کیلئے واجپائی کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت ہے ۔

source : Kashmir Uzma, 
 
http://kashmiruzma.net/NewsDetail?MJqbleBX5E_bs6oRDfUU2k1oa8PNgLU0pf 
     
سرینگر//پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس منظورالحسن گیلانی نے کہا کہ دونوں حکومتوں کو ایسے لوگوں کے دلوں کو جوڑنا چاہئے ۔ کشمیر کی مہمان نوازی پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس مظفرآباد سپریم کورٹ منظور الحسن گیلانی نے کہا کہ میرے کشمیر کا ذر ہ ذرہ مہمان نواز ہے اور یہاں کی مہمان نوازی کو میں کبھی نہیں بھول سکتا ہوں۔اگست کے پہلے ہفتے اپنے رشتہ داروں کو ملنے وادی آنے والے سابق چیف جسٹس منظور گیلانی سوموار 11ستمبر کو کاروان امن بس سروس کے زریعے واپس مظفرآباد لوٹ گئے ہیں۔واپس جاتے وقت منظور حسین گیلانی نے وادی کشمیر ، پونچھ ،راجوری اور کرناہ میں قیام کے دوران اپنے دوستوں، بزرگوں اورعزیزوں کی طرف سے پر خلوص میزبانی ، پیار ، اور شفقت سے مستفید کئے جانے پر ان کا شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے ہند پاک حکومتوں پر زور دیا کہ سرحد کے آر پار مقیم کنبوں کو آپس میں ملانے کیلئے آر پار سفر کو مزید نرم کیا جائے ۔منقسم خاندانوں کی حالت پر تذکرہ کرتے ہوئے گیلانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ہند پاک کے درمیان 2003میں ہوئی جنگ بندی معاہدے کے بعد 2005میں آر پار اس لئے راستے کھولے گئے تاکہ صدیوں سے بچھڑے لوگ ایک دوسرے سے مل سکیں ۔وہ کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ ایک دوسرے کو ملے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ ایسے ہیں جو ملنے کی چاہت رکھتے ہیں اور ایسے میں دونوں اطراف کی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ ایسے منقسم کنبوں کو ایک دوسرے سے ملانے کیلئے اقدام کریں جو 1947میں ایک دوسرے سے جدا ہو ئے ۔انہوں نے ماضی کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ سرحدوں پر ہزاروں کنبے ایسے ہیں جن کے ماں باپ وہاں رہ گئے اور بیٹے یہاں جبکہ بیٹے یہاں اور ماں باپ وہاں ،کسی نے جبری تقسیم میں بھائی کھو دیا کسی نے بیٹا ، کسی نے ماں کو کھو دیا کسی نے پاپ اور ایسے میں رشتے بکھر گئے کئی سالوں تک لوگ خطوط کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرتے رہے لیکن 2005کا سال ریاست کے منقسم کنبوں کیلئے ایک سنہرا باپ ثابت ہوا ،اس دوران ہزراوں کی تعداد میں لوگ ایک دوسرے کو ملے اور بیتے دنوں کو یاد کیا ،اپنے فوت ہوئے عزیز واقارب کی قبروں پر جا کر فاتحہ خوانی کی

کشمیر کے دس ہزار لاپتہ افراد کی حقوق کے لیے زندگی کے آخری سانس تک لڑتی رہوں گی ۔پروینہ آ ہنگر

posted Jun 9, 2014, 4:11 PM by Zafar Iqbal   [ updated Jun 9, 2014, 4:12 PM ]

 

انھوں نے کہا کہ بھارتی کشمیر کے دس ہزار لاپتہ افراد کی بازیابی کی جہدوجہد ان کا زندگی کی سب سے اولین ترجیح ہے جس کے لیے وہ زندگی کے آخری سانس تک لڑیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جبری گمشدگیو ں کے خاتمے اور گم شدہ شہریوں کی بازیابی کے حوالے سے انھیں کشمیر اور بھارت کے انسان دوست طبقات نے غیر معمولی تعاون کیا ہے ۔پریس فار پیس کے بانی اور کشمیری قلم کار ظفر اقبال نے پروینہ آہنگر کی خدمات کو زبر دست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کشمیر کی آئرن لیڈی پروینہ آہن گر نے اپنے ادارے اے پی ڈی پی کے پلیٹ ٖفارم سے بے مثال جہدوجد کی ہے جو تاریخ میں جلی حروف سے لکھی جائے گی۔




 

Back to Conversion Tool



کشمیر میں لاپتہ شہریوں کے ورثاء کی تنظیم اے پی ڈی پی کی سربراہ پروینہ آہنگر نے کہا ہے کشمیر کے دس ہزار لاپتہ افراد کی بازیابی کی جہدوجہد انصاف کے حصول کے لیے ہے اور دنیابھر کے انصاف پسندوں کو کشمیرمیں لاپتہ شہریوں کی تلاش میں کشمیر کے مظلوموں کاساتھ دینا ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے دورہ برطانیہ کے دوران پریس فار پیس کے بانی اور کشمیری قلم کار ظفر اقبال کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ کشمیر میں جبری گمشدگیوں کے خلاف گزشتہ پچیس سال سے سرگرم انسانی حقوق کی علمبردار پروینہ آہنگر کا کہنا تھا کہ ان کے لاپتہ بیٹے سمیت ہزاروں گمشدہ کشمیریوں نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو ان کو سزا دی جائے لیکن اگر وہ بے گناہ ہیں تو ان نہتے شہریوں کو بھارتی ریاست دنیا کے سامنے لائے۔ ابھی تک لاپتہ کشمیریوں کے معاملے پر بھارتی اداروں اور 
حکومت کا رویہ شرمنا ک ہے۔ عدالتوں نے انصاف نہیں دیا۔


تحفظ ماحولیات کے عالمی دن پر پی ایف پی کمیونٹی سکول کے بچوں کاقدرتی ماحول کے تحفظ کا عزم ۔

posted Jun 9, 2014, 3:57 PM by Zafar Iqbal   [ updated Jun 9, 2014, 4:00 PM ]



اس موقع پر پریس فار پیس کے چیئر مین بورڈ آف ٹرسٹیز امیر الدین مغل سکول کے نیلم پریس کلب کے صدر حافظ نصیر الدین ،پی ایف پی کمیونٹی سکول کے پرنسپل معین قریشی سکول کے طلبہ فائضہ سلطان ،سیف الاسلام اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمالیہ کے دامن میں واقع وادی نیلم ماحولیات ،جنگلات اور قدرتی وسائل کے حوالے سے بہت ہی اہم وادی ہے لیکن اس کے قدرتی وسائل بری طرح تباہ ہو رہے ہیں جنگلات کی بیدریغ کٹائی سے وادی میں درجہ حرارت دن بدن بڑھتا جا رہا ہے جس کے باعث صدیوں پرانے گلیشئرز پگھل رہے ہیں زمین کی بردگی کا سلسلہ جاری ہے پانی کے ذخائر میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے جنگلات میں گرمیوں کے موسم میں آنے والے بھیڑ بکریوں کے ریوڑ جڑی بوٹیوں کے خاتمے کا باعث بن رہے ہیں ایسے میں حکومتیں اور زمہ دار ادارے خاموش ہیں اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو اگلے بیس سالوں میں یہ خوبصورت وادی تباہ و برباد ہو کر رہ جائے گی۔




Back to Conversion Tool



وادی نیلم( پ ر)
آزادکشمیر کی خوبصورت وادی نیلم میں تحفظ ماحولیات کا عالمی دن بھرپور انداز میں منایا گیا ،قدرتی ماحول اور جنگلات کے تحفظ کا شعوربیدار کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے بچے گھنے اور سرسبزجنگل میں پہنچ کر درختوں سے لپٹ گئے عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر وادی نیلم پر پر فضا گاؤں چنجاٹھ میں واقع پی ایف پی کمیونٹی سکول کے درجنوں طلبہ و طالبات نے گاؤں سے ملحقہ گھنے اور سرسبز جنگل میں پہنچ کر قدرتی ماحول کے تحفظ اور جنگلات کی بقا اور درختوں سے محبت کا اظہار کرنے کیلئے درختوں سے لپٹ گئے طلبہ و طالبات نے نصف گھنٹہ سے زائد وقت درختوں سے لپٹے رہے اس موقع پر طلبہ و طالبات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ قدرتی ماحول اور جنگلات کے تحفظ کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے


پی ایف پی سکول کے طلبہ و طالبات کا تفریحی اور معلوماتی دورہ

posted May 4, 2014, 3:03 PM by Zafar Iqbal   [ updated May 4, 2014, 3:16 PM ]

پریس فار پیس کمیونٹی سکول نیلم کے طلبہ و طالبات نےتعلیمی،تفریحی اور معلوماتی دورے سے بھرپور استفادہ کیا۔دورہ کے دوران پریس فار پیس کے چیئر مین بورڈ آف ٹریسٹیز امیر الدین مغل ،نیلم پریس کلب کے صدر حافظ نصیر الدین ،سکول کے اساتذہ معین قریشی اور توفیق قریشی بھی ہمراہ تھے جنہوں نے بچوں کو سیاحت اور وادی نیلم کے قدرتی وسائل کے حوالے سے معلومات دیں اس موقع پر پریس فار پیس کے سنئیرعہدے دار امیر الدین مغل نے دیگر تاریخی اور سیاحتی مقامات کے دورے کرانے کا اعلان کیا۔یادرہے یہ کمیونٹی سکول پریس فار پیس کی فلاحی سرگرمیوں کا حصہ ہے جس کے تحت ایک دور دراز علاقے کے مستحق اوربے سہارا بچوں کو گزشتہ دس سالو ں سے تعلیم فراہم کی جارہی ہے


 اور انہیں بتایا گیا کہ وادی نیلم کے ان خوبصورت علاقوں میں ملک بھر سے ہر سال سیا ح بڑی تعداد میں سیاحت کیلئے آتے ہیں ان سیاحتی مقامات میں سیاحوں کی رہائش کیلئے ریسٹ ہاؤس گیسٹ موجود ہیں جبکہ دریائے نیلم کی دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے علاقہ بھی دیکھے جا سکتے ہیں جس کی وجہ سے یہ علاقے سیاحوں کی دلچسپی کا باعث ہیں طلبہ وطالبات نے مقبوضہ کشمیر کے علاقوں کا بھی نظارہ کیا اس موقع پر کیرن کے مقام پر سیاحوں کی جانب سے پھینکے گئے پلاسٹک کے شاپنگ بیگ ،جوس ،مشروبات کی خالی بوتلیں اور دیگر کوڑا کرکٹ بھی جمع کر کے سیاحتی مقامات کو صاف ستھرا رکھنے اورتحفظ ماحولیات کا شعور بیدار کرنے کی کوشش کی اور سیاحت کیلئے آنے والے سیاحوں سے مل کر ان کو بھی ان مقامات کی صفائی برقرار رکھنے 
کے حوالے سے گفتگو کی


نیلم؛ آزادکشمیر ( پی ایف پی نیوز)
وادی نیلم کے گاؤں چنجاٹھ میں گزشتہ دس سالوں سے فروغ تعلیم کیلئے مصروف عمل پریس فار پیس کمیونٹی سکول کے طلبہ و طالبات نے وادی نیلم کے سیاحتی مقامات کیرن اور نیلم گا ؤں کا مطالعاتی دورہ کیا۔طلبہ و طالبات نے کیرن کے مقام پر صفائی مہم کے دوران کوڑا کرکٹ جمع کر کے صحت و صفائی کا شعور بیدار کرنے کی بھی کوشش کی ۔پریس فار پیس کمیونٹی سکول کے طلبہ و طالبات کو سیاحتی گاؤں نیلم اور کیرن کے مطالعاتی دورے کے دوران سیاحتی علاقے کے حوالے سے معلومات فرہم کی گئی




 

لائین آٖف کنٹرول پربھارتی جارحیت کے خلاف کوٹلی میں امن مارچ

posted Aug 29, 2013, 2:35 PM by PFP Admin   [ updated Aug 29, 2013, 2:40 PM ]

خودارادیت کی حمایت میں مختلف عبارات درج تھیں۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ عطا محی دین،ڈاکٹرتوقیرگیلانی،اصغرسیٹھی ، لیاقت حیات نے سیزفائر کی خلاف ورزیوں اور آزادکشمیرکے مختلف علاقوں میں سویلین آبادی پربھارتی جارحیت کی شدید مذمت کی۔جے کے ایل ایف کے سربراہ ڈاکٹرتوقیرگیلانی نے کہا کہ کشمیری عوام تنازعہ کشمیر کے بنیادی فریق ہیں۔دونوں قابض ممالک اپنی افواج کو نکال کرکشمیریوں کو امن سے رہنے کا موقع دیں۔معروف سیاسی رہنما خواجہ عطا محی دین نے کہاکہ ھندوستان کشمیرکے اندر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی کے بعد اب بزدلی پر اتر آیا ہے اور کنٹرول لائین پر نہتے لوگوں کونشانہ بنارہا ہے۔


اصغرسیٹھی اور لیاقت حیات نے کہا کہ حکومت پاکستان معذرت خواہانہ رویہ ترک کرے اور کشمیر پر دوٹوک موقف اختیار کیا جائے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی ختم کرے اور ماورائے انسانیت قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔ پریس فار پیس اور فیوچرکشمیر فورم کے نمائندوں انجنئیر منصور راٹھور اور شوکت راجہ نے کہا کہ ھندوستان اور پاکستان کشمیر کے آبی وسائل پر قبضے کی جنگ چھوڑکر کشمیریوں کا حق خود ارادیت کا احترام کریں۔تنازعہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر جنوبی ایشیامیں امن ایک سراب ہو گا کیونکہ بھارت اور پاکستان امن مذاکرات کا راستہ کشمیر سے گذرتاہے۔

 

کے سیکرٹری جنرل کے نام پیش کیا گئے میمورنڈم میں سیزفائر لائین پر حالیہ کشیدگی پرگہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ لائین آف کنٹرول پر بھارتی افواج کی وحشیانہ فائرنگ روکیں اور کشمیری عوام کی امنگو ں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے عالمی برادری اپنی اخلاقی اور انسانی ذمہ داریاں پوری کرے۔یاداشت میں کہا گیاکہ ا قوام متحدہ پاکستان اور بھارت پر دباؤ ڈالے کہ دونوں ملک سیزفائرمعایدے کی پاسداری کریں تاکہ بے گناہ انسانوں کی جانوں کو بچایا جاسکے اور اگر ان خلاف ورزیوں کو نہ روکاگیا توپوری ریاست جموں وکشمیر اس کے بھیانک اثرات کی زد میں آ جائے گی۔مذید کہا گیاکہ وقت آ گیاہے کہ اقوام متحدہ کشمیری قیادت کو اعتماد میں لے کر اس دیرینہ مسئلے کے دیرپا، پرامن اورمنصفانہ حل کے لیے اپنی قراردادوں پرعملدرامدکرائے تاکہ جنوبی ایشیامیں اسلحے کی دوڑختم ہواور یہاں کے وسائل جنگ اور ہتھیاروں کے بجائے عوامی خوشحالی پر صرف ہوسکیں۔مارچ سے قبل شہرمیں ایک پیس کیمپ کا انعقاد ہوا جس میں سماجی و عوامی حلقوں تاجروں، وکلا، صحافیوں اور دیگر مکاتیب فکر نے امن مارچ کی مکمل حمایت کر تے ہوئے یاداشت پر دستخط کیے۔ اس موقع پر گلو کار خرم بٹ نے آزادی اور امن کے بارے میں گیت اور نغمے پیش کرکے شرکا کے جذبات کو گرمایا ۔ شرکاء نے مختلف پلے کارڈز اور بینر بھی اٹھارکھے تھے جن پر ہمیں جنگی جنون نہیں،تعلیم وترقی چاہیے،پاک بھارت امن کاراستہ کشمیر سے گزرتاہے۔اورامن اور کشمیریوں کی حق 

  سیزفائر امن معائد ے اور حق خودارادیت کی حمایت پریس فار  پیس اور فیوچرکشمیر فورم کی یواین مشن کویاداشت

یواین پاک بھارت کشیدگی ختم اورتنازعہ کشمیرپرامن طریقے سے حل کرائے۔ڈاکٹرتوقیر، انجنئیرمنصو ر،خواجہ عطا ،لیاقت حیات، ،اصغرسیٹھی اور دیگر کا خطاب

کوٹلی: 


لائین آٖف کنٹرول پر ھندوستان کی طرف سے سیزفائر کی خلاف ورزیوں اور آزادکشمیرکے مختلف علاقوں میں سویلین آبادی پربھارتی جارحیت کے خلاف ایک امن مارچ کیا گیا۔امن مارچ کا انعقاد قیام امن اور انسانی ترقی کے لیے کوشاں سول سوسائٹی ادارے پریس فار پیس اور فیوچرکشمیر فورم نے مشترکہ طور پر کیا تھا ۔پیس مارچ کے شرکاء نے شہیدچوک کوٹلی سے اقوام متحدہ کے مقامی مبصرمشن تک مارچ کیا اورسیزفائرلائین پربھارتی جارحیت کے خلاف اور امن کی حمایت میں نعرے بازی کی۔مارچ کے اختتام پر سول سوسائٹی کے نمائندوں انجنئیر منصور راٹھور اور شوکت راجہ نے اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرورز کو ایک یاداشت پیش کی ۔اس موقع پرخواجہ عطا محی دین،ڈاکٹرتوقیرگیلانی،اصغرسیٹھی،عادل بٹ،لیاقت حیات،مظہرکاظمی،مسعود سیال،چوہدری فاروق ،نصیر راٹھور،چوہدری اکرم،اشعرعلی راٹھور،راجہ حبیب الرحمان،بشیربٹ،مس عنبرین ایڈوکیٹ، محترمہ تعظیم ایڈوکیٹ،اور دیگرسیاسی ر ہنما بھی موجود تھے۔ اقوام متحدہ 

وادی نیلم :خواتین کنٹرول لائین پر بھارتی جارحیت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں

posted Aug 21, 2013, 2:37 PM by PFP Admin   [ updated Mar 16, 2014, 4:41 PM ]

امن کے لئے بینرز اور پلے کارڈ ز اٹھائے خواتین نے اس موقع پر عالمی دنیا سے بھی مطالبہ کیا کہ کنٹرول لائن پر گذشتہ کشیدگی کی وجہ سے چودہ سال تک وادی نیلم میں سکول نہیں کھولےجا سکے جس کی وجہ سے ایک پوری نسل ان پڑھ جوان ہو گئی ہے اگر باقی دنیا کے بچوں کو تعلیم کا حق تسلیم کیا گیا ہے تو کشمیریوں کے بچوں کو بھی یہ حق دیا جائے اور ہر اس اقدام سے احتراز کیا جائے جس سے 
کنٹرول لائن پر کشیدگی کو ہوا ملتی ہو









اس موقع پرخواتین کو یقین دلاتے ہوئے مقامی
 فوجی کمانڈر کا کہنا تھا کہ ان کا مطالبہ حکومت پاکستان تک پہنچا دیا جائے گا تاہم اگر بھارت نے کوئی مہم جوئی کی کوشش کی تو پاکستان کی فوج کشمیریوں کی محافظ بن کر ان کو بھارتی بچائے گی ۔
کنٹرول لائین پر واقع وادی نیلم کے ہیڈ کورٹر آٹمقام میں خواتین کنٹرول لائین پر بھارتی جارحیت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں ، مقامی فوجی کمانڈر کے دفتر تک مارچ کر کے یاداشت پیش کی گی
خواتین کا مطالبہ تھا کہ بھارت کیجانب کنٹرول لائن پر بلا اشعال فائرنگ کا سلسلہ یون ہی جاری رہا تو وادی نیلم میں نو ے کی دھائی کی طرح زندگی پھر مفلوج ہو کر رہ جائے گی حکومت پاکستان اقوام متحدہ کی سطح پر بھارت کو جارحیت سے روکنے کے لئے اثر رسوخ استعال 
کرے ۔



سر کے بال کاٹ کرعورت پرتشدد کا نشانہ اور ناک کاٹنے کی کوشش

posted Mar 24, 2013, 3:33 PM by PFP Admin   [ updated Mar 24, 2013, 3:40 PM ]

سسرال والوں نے تشدد کر نے کے بعد مجھے ایک گاڑی میں بند کر کے اپنے میکے بھیج دیا میں اب خاوند کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اور مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے ۔ اس دوران انسانی حقوق کی تنظیم جموں کشمیر ہیومن رائٹس موومنٹ کے صدر راجہ منیر اور پریس فار پیس کی ڈپٹی کو آرڈینیٹر روبینہ ناز نے کہا کہ ہم اس واقعے کی پُر زور مذمت کر تے ہیں اور تہمینہ پر تشدد کر نے والے عبدالغفور اور عبدالجبار کو فوری طور پر قانون کے حوالے کیا جائے ۔ اور مظلومہ کو فوری طور پر انصاف دلایا جائے ۔ انہوں نے آئی جی آزاد کشمیر اور چیف جسٹس آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقع میں ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔ 


متاثرہ عورت نے کہاکہ ملزمان کو فوری طور پر
 گرفتارکرکے نصاف مہیا کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ 08مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر میرے سسر عبدالغفور اور جیٹھ عبدالجبار نے میرے کمرے میں داخل ہو کر مجھے تشدد کا نشانہ بنایا اور میرے بال کاٹ دئیے ۔ اس کے علاوہ میرا ناک کاٹنے کی کوشش کی جس پر میں نے شور مچایا اور پڑوسیوں نے آ کر میری جان بچائی ۔ یہ لوگ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے میری شادی سے لے کر اب تک مجھے ہراساں کر تے رہے ہیں اور تشدد کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ میرا خاوند بیرون ملک ہے اور مجھ پر الزام عائد کیا کہ میں فون پر کسی سے بات کر تی ہوں جبکہ میں فون پر صرف اپنے والدین سے بات کر تی تھی ۔ فون پر بات کر نے کے جرم میں مجھے تشدد کا نشانہ بنا یا جا رہا ہے اور میری زندگی خطرے میں ہے ۔

باغ ( رپور ٹ اور تصاویر : شوکت تیمور )۔ سسر اور جیٹھ نے سر کے بال کا ٹ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور ناک کاٹنے کی کوشش کی ، شورسن کر ہمسایوں نے چھڑایا۔تھوراڑ ہاڑہ کی رہائشی تہمینہ زوجہ ابرار سسرالیوں کے ظلم کا شکار ہو نے کے بعد باغ پہنچ گئی ۔ 

متاثرہ عورت نے جموں کشمیر ہیومن رائٹس موومنٹ کے صدر راجہ منیر ، پریس فار پیس کی ڈپٹی کوآرڈینٹر روبینہ ناز ، شاہدہ پروین ، شازیہ اور سلمی حمید کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ اس کی ڈیڑہ سال قبل ابرار سے شادی ہو ئی تھی۔ شروع دن سے ہی سسرالی لعن طعن کر رہے اورظلم کرتے تھے۔ اس کے خلاف تھانہ تھوراڑ میں رپورٹ درج کروائی گئی لیکن تا حال دونوں ملزمان گرفتار نہیں ہو سکے ۔ 

پاکستانی کشمیر میں توانائی کے منصوبے

posted Mar 21, 2013, 3:10 PM by PFP Admin   [ updated Mar 21, 2013, 3:20 PM ]

اس کے لیے ورلڈ بینک ، اسلامک ڈوپلمنٹ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے قرض مہیا کیا ہے۔

منصوبے کی تعمیر کرنے والی کمپنی کے منیجر ایچ ایس سی آفتاب عالم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ آب وہوا دوست منصوبہ ہے جس کی تعمیر سے سالانہ تین سو ٹن مضرصحت گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آئے گی اور اس منصوبے سے مظفرآباد شہر کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور دو پارکوں کی تعمیر بھی کی جائے گی۔

پاکستانی کشمیر کے پرائیویٹ پاور سیل کے ڈائریکٹر جنرل فاروق حیدر گگرو نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ میر پور میں پرائیویٹ سیکٹر میں تعمیر ہونے والا 80 میگا واٹ کا ایک منصوبہ مکمل بھی ہو چکا ہے جبکہ پبلک سیکٹر میں واپڈا کے تحت تعمیر ہونے والے نیلم جہلم کے علاوہ کئی چھوٹے منصوبوں پر کام جاری ہے۔

زیر تعمیر پن بجلی منصوبوں میں سے دو بڑے منصوبے پترینڈ اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹس دارالحکومت مظفرآباد کے قریب واقع ہیں۔

ان میں 150 میگا واٹ پترینڈ ھائیڈرو پرا جیکٹ خیبر پختونخوا سے بہہ کر پاکستانی کشمیر میں داخل ہونے والے دریا ئے کنہار پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ پرائیویٹ سیکٹر یا آئی پی پی کا توانائی پیدا کرنے کا تا حال سب سے بڑا منصوبہ ہے جسے ایک کورین کمپنی تعمیر کر رہی ہے۔


زیر تعمیر پن بجلی منصوبوں میں سے دو بڑے منصوبے پترینڈ اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹس دارالحکومت مظفرآباد کے قریب واقع ہیں۔


(روشن مغل)

مظفر آباد — پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا خطہ آبی وسائل سے مالا مال ہے جہاں ندی نالوں اور دریاؤں کے پانی سے اب تک ساڑھے آٹھ ہزارمیگا واٹ بجلی پیداکرنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ان میں سے کئی منصوبوں کی تعمیر کی جا رہی ہے جن سے آئندہ تین بر سوں میں تین ہزار میگا واٹ بجلی پیداکی جائے گی۔ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے پن بجلی کے کئی بڑے منصوبوں کی ڈیزایئنگ اور ان کی جلد تعمیر شروع کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عورتوں کے گلہ کاٹنے،قتل کرنے کے واقعات قابل مذمت ہیں۔فریال بٹ

posted Mar 21, 2013, 11:36 AM by PFP Admin   [ updated Mar 21, 2013, 11:43 AM ]

اعلی عدلیہ عورتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم پر سوموٹو ایکشن لے کر مظلوم خواتین کے ورثاء کو انصاف فراہم کرے۔فریال بٹ
 
انھوں نے مطالبہ کیاکہ پولیس ملزمان کو جلداز جلد گرفتارکر کے باغ، ہجیرہ، پلندری اور دیگر علاقوں میں عورتوں کے ٖخلاف سنگین جرائم اور قانون شکنی کے مرتکب ملزمان کو گرفتار 
کرکے قرار واقعی سزا دے۔



ہجیرہ میں ایک نہتی عورت کو سوتے میں گلہ کاٹ کر ہلاک کرنے کاواقعہ قابل مذمت اور شرمناک ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ چیف جسٹس ہائی کورٹ عورتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور سوموٹو ایکشن لے کر مظلوم خواتین کے ورثاء کو انصاف فراہم کرے۔ باغ نبیلہ قتل کیس پولیس اور عدلیہ کی کارکردکی جانچنے کے لیے ایک ٹسٹ کیس ہے۔ چیف جسٹس اس کیس پر ہونے والی پیش رفت کو خود مانیٹرکریں اور متاثرہ خاندان کوجلد از جلد انصاف فراہم کیاجائے۔ خواتین کے تحفظ اور انھیں معاشرے میں ایک باوقارمقام دلانے کے لیے حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ پریس فار پیس کی رہنما کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم مظلوم خواتین کو انصاف کی فراہمی کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھا ئے گی اور متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ 
باغ، مظفرآباد(پ ر)
غیر سرکاری تنظیم پریس فار پیس نے خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات پر حکومتی بے حسی پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پلندری، ہجیرہ،باغ سمیت آزادکشمیر کے مختلف علاقوں میں عورتوں پر تشدد، بہیمانہ قتل کی وارداتوں اوربدسلوکی کی کارروائیوں میں ملوث قانون شکن عناصر کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے ، اعلی عدلیہ سمیت ذمہ دار ادارے خواتین کے جان ، مال اور عزت کے تحفظ لیے اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں۔ ایک جاری کردہ بیان میں پریس فار پیس کی سنئیر عہدے دار مس فریال حمید بٹ کا کہنا تھاکہ خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات پر حکومتی اور عدالتی بے حسی افسوس ناک ہے۔

باغ کی بہاریں کب لوٹیں گی

posted Mar 10, 2013, 3:36 PM by PFP Admin

سڑکیں خستہ حالی کا شکار ہیں، باغ میں موجود ادارے جہاں بیٹھے کمیشن خور قومی خزانے کو چونا لگانے میں مصروف ہیں ان اداروں کی کار کردگی صفر ہے ایرا،سیرا کی فائلوں،ویب سائٹس پر دنیا کی نظروں میں دھول جھونکنے کیلئے باغ کی تعمیر نو و بحالی کا کام سو فیصد مکمل دکھایا تو جا رہا ہے مگر اصل حقیقت بڑی بھیانک اور افسوس ناک ہے کہتے ہیں ،،جس ملک و قوم کے اداروں اور افراد میں رشوت،کمیشن اور سود خوری سرایت کر جائے اس قوم اور ملک کی تباہی و بربادی کو کوئی نہیں روک سکتا ،،بدقسمتی سے آج ہم بھی اسی ڈگر پر چل نکلے ہیں پتا نہیں ہمارا انجام کتنا بھیانک اور کتنا خوفناک ہو گا آج باغ کا ہرذی شعور فرد یہ سوال کر رہا ہے کہ زلزلہ باغ کے علاوہ مظفر آباد،راولاکوٹ اور ایبٹ آباد مانسہرہ میں بھی آیا تباہی اور قیامت وہاں بھی برپا ہوئی؟ وہاں تو تعمیر و ترقی کے کام ہو رہے ہیں اور زیادہ ادارے پایہ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں۔۔۔؟ آخر باغ میں کب تعمیر و ترقی کا عملا آغاز ہوگا؟ باغ کی بہاریں کب لوٹیں گی۔۔۔؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہماری حکومت،این جی اوز،ایرا،سیرا سمیت دیگر ذمہ دار اداروں و افراد نے دینا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟

ہمارے اجڑے باغ کی داستان ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جسے بیان کرتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے،ہاتھ کانپنے لگتے ہیں دل و دماغ کی گردشیں جام ہونے لگتی ہیں،ذہنوں میں ایک خوفناک سرسراہٹ کا احساس ہونے لگتا ہے۔۔۔۔!! زلزلے کے بعد این جی اوز اور اداروں نے دیگر متاثرہ علاقوں کی طرح باغ کا بھی رخ کیا ایرا،سیرا اور نہ جانے اور کون کون سے اداروں کا قیام عمل میں آگیا اربوں روپے کی امداد جسے عالمی برادری اور انسانیت سے ایک مقدس رشتے سے پیار کرنے والوں نے متاثرہ افراد کی امداد و بحالی کیلئے جذبہ خیر سگالی کے طور پر بھیجا مگر یہاں بیٹھے مگرمچھوں نے سب کچھ ہڑپ کر لیا جن اداروں کی براہ راست مانیٹرنگ عالمی اداروں یا ڈونرز نے کی وہ ادارے آج زمین پر نظر آتے ہیں اور وہاں کام بھی جاری و ساری ہے مگر جہاں مداخلت حکومت،قومی اداروں،لوکل این جی اوز یا ٹھکیداروں کی ہوئی وہاں کوئی منصوبہ مکمل ہوتا دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس کے مکمل ہونے کے آثار نظر آتے ہیں ۔۔۔۔۔!!

آج یہی وجہ ہے کہ زلزلے کو آٹھ برس بیت گئے مگر باغ میں تعمیر نو و بحالی کا کام مکمل تو کیا بلکہ صحیح معنوں میں اس کا آغاز بھی نہیں ہوا باغ کے میگا پراجیکٹس سمیت دیگر چھوٹے بڑے منصوبہ جات پر کام ادھورا پڑا ہے انتظامیہ کے دفاتر بھی ابھی تک عارضی شیلٹرز،کرایہ کی عمارات میں چل رہے ہیں،تھانہ باغ،سکولز،صحت عامہ کے مراکز بھی تعمیر نہیں کئے جا سکے 

* تحریر : سیّد عمران حمید گیلانی

غازیوں،مجاہدوں،شہدا کی سر زمین باغ جس کی بہاریں آج سے آٹھ برس قبل ایک قیامت خیز اور تباہ کن زلزلے میں ہم سے روٹھ گئیں باغ والوں سے گویا ہر نعمت ہر سہولت چھن گئی وہی باغ جو زلزلے سے پہلے خوشیوں اور مسرتوں کی پھلواری تصور کیا جاتا تھا جہاں ہر طرف بہاریں اپنا رنگ دکھاتی ہوئی نظر آتی تھیں،جہاں پرندوں کے سنگیت کانوں میں رس گھولتے تھے آج وہی بد قسمت باغ ملبے کے ڈھیر پر اہل باغ کی بد قسمتی کی کہانی بیان کر رہا ہے زلزے کی تباہ کاریوں جانی و مالی نقصانات بارے بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے ،ا

س اجڑے باغ کی المناک داستان کا ہر فرد عینی شاہد ہے ذرا سوچئے اور تصور میں لائیے وہ منظر کتنا درد ناک اور پر سوز ہوا ہو گا جب باغ والوں پر 8اکتوبر کو زلزے کی صورت میں ایک قیامت صغریٰ بپا تھی ہر طرف خوفناک تباہی کے دلدوز مناظر تھے انسانیت ملبے تلے دبی سسک رہی تھی مصیبت زدہ افراد مدد کیلئے آہ و بکا کر رہے تھے مگر کوئی ان کی مدد کیلئے تیار نہ تھا نفسا نفسی،افراتفری کی اس گھڑی میں ہر فرد ہر گھرانہ اور ہر ادارہ مدد کا منتظر تھا۔۔۔۔۔۔۔!!

1-10 of 35