تعلیمی اصلا حا ت کے لیے تجا ویز

posted Feb 13, 2013, 6:14 PM by PFP Admin   [ updated Feb 13, 2013, 6:17 PM ]
جو نصا ب پڑ ھا رہے ہوں اُ س نصا ب کے متعلق اساتذہ کو کم از کم تین
 ما ہ  کے کو ر سز کر وائے جا ئے. پر ائمر ی ٹیچر ز کی تقر ری کے لیے کم از کم بی ۔ اے ، بی ۔ ایڈ تعلیمی معیا ر مقر ر کیا جا ئے . تعلیمی اداروں میں سفا رش کی بجا ئے میرٹ کو تر جیح دی جا ئے_کم از کم 25سا ل سر وس کر نے والے میٹرک ، ایف اے پا س اساتذہ کو فا رغ کر کے میرٹ کی بنیا د پر B.A،B.Edبے رو ز گا ر نو جو انوں کو تعینا ت کیا جا ئے _میٹر ک پا س اساتذہ کو فو ری فا رغ کیا جا ئے _ تعلیمی اداروں میں تعینا ت اساتذہ کی تر قیا ں 70فیصد رزلٹ سے منسلک کی جا ئیں _ تعلیمی اداروں میں تعینا ت اساتذہ اور تعلیمی اداروں کا فاصلہ کم سے کم کیا جا ئے اور انہیں اپنے ہو م سٹیشن پر ہی تعینا ت کیا جا ئے _ عر بی ٹیچر ز کے علا وہ تما م ٹیچر ز کے لیے ٹیسٹ انٹر ویو صر ف انگر یز ی زبا ن میں لیئے جا ئیں _تعلیمی اداروں میں تشد د کو قا نو نی جر م دیا جا ئے اور اس کے لیے قا نو ن سا زی کی 
جا ئے_بہتر ین کا ر کر دگی دیکھا نے والے طلبہ و طا لبا ت اور اساتذہ کو حکو متی سطح پر ایو ارڈ دیئے جا ئیں اور اُ ن کی حوصلہ افز ائی کی جا ئے ۔ 
وزیر اعظم آ زاد کشمیر ، وزیر تعلیم سکو لز کا لجز ، سیکرٹر ی تعلیم ان تجا ویز پر عمل درآ مد کے لیے اقدا ما ت کریں کیونکہ ان تجا ویز سے جہاں آ زاد کشمیر میں معیا ر تعلیم بہتر ہو گا وہاں آ زاد کشمیر کے سب سے بڑے سر کا ری محکمہ میں ہز ا روں کی تعد اد میں اسا میاں بھی خالی ہوں گی اور ایک سنیئر ٹیچر کی جگہ 4پر ائمر ی و مڈل ٹیچر ز بھر تی ہو سکیں گے جسکی وجہ سے آ زاد کشمیر میں بے رو ز گا ر ی میں بھی کمی آ ئے گی اور پڑ ھے لکھے بے رو ز گا ر نو جو انوں کو با عز ت رو ز گا ر بھی ملے گا ۔ 
آ زاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں جوفریش گر یجو یٹ ، ما سٹر ڈگر ی ہو لڈ ر ز ہیں وہ تو کا فی حد تک اس نصا ب کے با ر میں سمجھتے ہیں لیکن25یا 30سا ل قبل جو اساتذہ مڈ ل یا میٹر ک کر نے کے بعد ٹیچر ز تعینا ت ہو ئے تھے اُ ن کے لیے شد ید مشکلا ت ہیں اور اس کی وجہ سے آ زاد کشمیر میں معیار تعلیم تبا ہ ہو نے کا خد شہ ہے ۔ ایسی صو ر ت حا ل اکثر سر کا ری تعلیمی ادا روں میں دیکھنے کو ملتی ہے اس میں ایک اور فیکٹر بھی شا مل ہو گیا ہے جسے علا مہ اقبال اوپن یو نیو رسٹی کہتے ہیں ۔ ویسے تو علا مہ اقبا ل اوپن یو نیو رسٹی کا شما ر دنیا کی بڑی یو نیو رسٹیوں میں ہو تا ہے لیکن آ زاد کشمیر میں اس یو نیو رسٹی نے جو گل کھیلا ئے ہیں وہ کسی سے پو شید ہ نہیں ۔ اُ س کے نصا ب میں تو کو ئی کمی نہ تھی لیکن اُ س کے امتحا نی طر یقہ کا ر کے با عث آ زاد کشمیر میں ایسے ہز اروں بے شما ر گر یجویٹ اساتذہ اور دیگر شعبوں میں افسران مو جو د ہیں جو آ ج بھی نہ تو اردو درست طر یقے سے پڑ ھ سکتے ہیں اور نہ ہی ایک درخواست انگر یز ی میں لکھ سکتے ہیں ۔ 
25یا 30سا ل قبل اور آ ج کی جد ید سا ئنسی علو م کا مطا لعہ کیا جا ئے تو اس میں زمین آ سما ن کا فر ق ہے ۔ خا ص کر بیا لو جی ، کیمسٹر ی ، میتھ، فز کس وغیر ہ ہیں ۔ اس سا ری صو رتحا ل کا مقا بلہ کر نے اور محکمہ تعلیم کو جد ید 
خطو ط پر استو ار کر نے کے لیے چند تجا ویز پیش کر تے ہیں ۔
۱۔ آزادکشمیر کے تعلیمی نظا م کو غیر جا نبد ارنہ اور غیر فر قہ وارانہ بنیا دوں پر استوار کیا جا ئے _ ہر سا ل تما م اساتذہ کو اپنے اپنے تد ریسی نصا ب کی بنیا د پر امتحا ن سے گز ا رہ جا ئے ( جو تحر یر ی اور زبا نی بنیا دوں پر لیا جا ئے )
تحریر : محمد شو کت تیمو ر 
تعلیم کسی بھی سما ج کی تر قی کے لیے بنیا دی اہمیت کی حا مل ہے ۔ تعلیم جنتی معیا ری ہو گی سما ج اسی حسا ب سے تر قی کر ئے گا ۔ آ زاد کشمیر میں ویسے کہنے کو تو تعلیم میں پا کستا ن کے تما م خطو ں سے بہتر ہے ۔ شر ح خوا ند گی کا معیا ر بلند دیکھا یا جا تا ہے لیکن اس میں ابھی بھی کچھ کو تا ئیاں مو جو د ہیں ۔ اس میں قصو ر کس کا ہے؟ اساتذہ ، والد ین یا محکمہ تعلیم ۔۔۔۔! یہ بر حال اس وقت تک سوا ل ہی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس میں ان محر کا ت کے علا وہ بڑا محر ک پا لیسی سا ز اداروں کا ہے جو نصا ب وہ تیا ر کر تے ہیں اساتذہ وہی نصا ب بڑ ھا نے پر مجبور ہو ہو تے ہیں ۔ دانشو روں ، ما ہر ین تعلیم کی زیر نگر انی نصا ب کو تیا ر کر کے تعلیمی اداروں تک پہنچا یا جا تا ہے لیکن اُ س کے بعد تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی ذہنی سطح کا بلکل خیا ل نہیں رکھا جا تا اور آ یا یہ جو نصا ب تر تیب دیا گیا ہے اس کو30سا ل پہلے تعینا ت ہو نے والے اساتذہ پڑ ھا بھی سکتے ہیں یا نہیں ۔۔۔؟ یہی المیا اس وقت در پیش ہے کہ آ زاد کشمیر کے تعلیمی اداروں خاص کر پر ائمر ی ، مڈل اور ہا ئی کلا سز کے لیے تر تیب دیا گیا نصا ب اکثر اساتذہ کی سمجھ سے بالا تر ہے ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ اساتذہ نا لا ئق ہیں بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ جو نصا ب انہوں نے پڑ ھا تھا اُ س میں شا ہد وہ ما ہر تھے لیکن آ ج سا ئنس و ٹیکنا لو جی نے سار ے تعلیمی نظا م کو تبد یل کر کے رکھ دیا ہے اور آ ج بچوں کی ذہنی سطح 20یا 30سا ل پہلے کے بچوں کی نسبت سو فیصد مختلف ہے۔ ہما رے بچوں کو جد ید تعلیم سے آ راستہ کر نے کے لیے جد ید نصا ب کے ما ہر اساتذہ کی ضر ور ہے ۔
Comments