حفاظتی دعوے ۔۔۔ اور لہو لہو قانون کی راہداریاں

posted Mar 16, 2014, 4:30 PM by PFP Admin   [ updated Mar 16, 2014, 4:35 PM ]

///تحریر :۔ راحت فاروق ایڈووکیٹ /// 


یہ حادثہ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ کون لوگ ہیں جو قانونی اداروں کو کمزور کرنے کے درپے ہیں، آج مختلف وجوہات اور تاویلیں پیش کی جا رہی ہیں کہ کچھ گرفتار دہشت گردوں کی عدالت میں پیشی تھی جس بناء پر یہ آپریشن کیا گیا، اسی طرح ایڈیشنل سیشن جج صاحب رفاقت اعوان شہید کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ سابق صدر جنرل مشرف کوایک کیس میں ضمانت پر رہا کئے جانے کی وجہ سے انہیں ٹارگٹ کیا گیا یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے کہ عدلیہ کو آزادانہ طور پر فیصلہ کرنے کی بھیانک انداز سے سزا دی جائے ، ایسی صورت میں انصاف کی فراہمی ممکن نہیں ہو گی اور معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہو گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس افسوسناک واقع کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، پوری وکلاء کمیونٹی اس المناک حادثے میں شہید ہونے والوں کے غم میں برابر کی شریک ہے اور عہد کرتی ہے کہ ان کے خون کا ایک قطرہ بھی رائیگاں نہیں جانے دیا جائیگا۔ اللہ تعالیٰ ان شہیدوں کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ 
ایسے رونما ہونے والے واقعات مایوس ہونے کی بجائے قوم کو اتحاد، اتفاق اور فکری لام بندی کے ذریعے اپنی بقاء کی جنگ لڑنے کے لئے متحد ہو کر حالات کا مقابلہ کرنے کا تقاضا کرتے ہیں اور پوری قوم حکومت سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ انصاف کے نقیبوں اور قانون کے سپاہیوں کے تحفظ کے لئے ترجیحی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات کئے جائیں تا کہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہو سکیں۔ 
پاکستانی معاشرہ کو اپنی شناخت اور حیثیت کے حوالے سے جن چیلنجوں کا سامنا ہے اور دانش وران قوم بشمول حکومتی اور اپوزیشن حلقوں کے مختلف توجیہی طبقات فکر کی تجاویز کے غوغا میں دردمندان و صاحب دل احباب جس بے بسی کی قید میں ہیں وہ کسی بھی صاحب الرائے کی نظر سے پوشیدہ نہ ہے۔
غیر محسوس طور پر پوری قوم کو دیوار سے لگانے کی عالمی قوتوں کی سازشوں کے علی الرغم تحریک طالبان پاکستان اور ریاست مملکت خدا داد پاکستان کے ارباب اختیار کے درمیان مذاکراتی عمل کی ڈوبتی ابھرتی ناؤ کے لاچار کرنے والے ہچکولوں کے درمیان 3 مارچ 2014ء کو اسلام آباد کے افق پر طلوع ہونے والا سورج دہشت گردی کے آتش فشاں پر کھڑے، کرپشن، غربت اور بیروز گاری میں گھرے اس ملک کی فضا کو ایک بار پھر سوگوار کر گیا جب محفوظ ترین قرار دیے جانے والے دارالحکومت اسلام آباد کے حساس علاقے ایف ایٹ ضلع کچہری میں قانون کی راہداریاں خون سے رنگین کر دی گئیں اور ابر رحمت کی طرح کالے کوٹ پہنے قانون کے سپاہیوں کو بے دردی سے دہشت گردی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ دہشت گردوں کی یہ کارروائی اس قدر ہولناک اور بے رحمانہ تھی کہ آسمان انگشت بدنداں زمین دم بخود اور چشم سنگ بھی اشک بار ہوئے بغیر نہ رہ سکی ، دہشت گرد دندناتے ہوئے آئے اور سینکڑوں سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں معصوم انسانوں کے خون کی کھل کر ہولی کھیل کر یوں رخصت ہوئے جیسے کسی پکنک سے لوٹ کے گئے ہوں ، ریاست کے اہم ترین ستون پر شب خون مارنے والے اسلام آباد کے قلب میں تباہی پھیلا گئے اور اسلام آباد کو محفوظ ترین علاقہ قرار دیئے جانے کے دعوؤں پر اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان چھوڑ گئے تحریک طالبان پاکستان اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکراتی عمل بھی اس بدترین واقعہ کے بعد سوالیہ نشان بن گیا۔ اس ہولناک واقعہ میں 11 افراد شہید ہوئے اور 25 زخمی ہیں۔ سیکیورٹی کے دعوے کرنیوالوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے خون سے رنگین دیواریں اور گوشت کے لوتھڑے کافی ہیں، جو ان سے سوال پوچھ رہے ہیں کہ کالے کوٹ پہنے قدم قدم پر لازوال قربانیاں دے کر مادر وطن کو جمہوریت کا تحفہ دینے والی یہ کمیونٹی جو قانون کی حکمرانی کے لئے کوشاں ہے، جو عوام کے حقوق کے تحفظ کو ممکن بنانے کی ضامن ہے کا کیا قصور تھا کہ انہیں خون میں نہلا دیا گیا، جام شہادت نوش کرنیوالے شہداء کے لواحقین پر کیا گزری ہو گی جنہوں نے اپنے پیاروں کو خون میں لت پت دیکھا اور بے دردی سے ان کو ٹکڑے ٹکڑے ہوتے دیکھا۔ اس ماؤں کے دکھ کا درماں کون کرے گا۔ جنہوں نے اپنے جگر گوشوں کو صبح مسکراہٹوں کے ساتھ رخصت کیا ہو گا، آنکھوں میں ڈھیر ساری امیدوں کے ساتھ کہ شام کو واپس ملیں گے مگر شام ان کے لئے ہولناکیوں اور وحشتوں کی خبر لائی، اس شام کا ڈوبتا سورج ان کی زندگی کے چراغوں کو گل کرتے ہوئے غروب ہوا ۔ 
Comments