امن کی فاختہ

posted Feb 24, 2013, 2:50 PM by PFP Admin   [ updated Feb 24, 2013, 2:52 PM ]
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعے کے پیش منظر میں قیام امن کی جو غیرمعمولی عوامی تحریک برپا ہوئی ہے وہ منزل مقصود کے حصول تک جاری رہے۔ایک پرامن اور علم اور سماجی انصاف اور مساوات سے معمور معاشرے کے قیام کا جو خواب امن کی فا ختہ ملالہ نے دیکھا ہے ، ملک کے تما م امن دوست عوام اس خواب میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے متحد ہو کرجہدوجہدکریں۔


حقیقت یہ ہے کہ یہ سب گردان اصل مسلہ سے توجہ ہٹانے کی بھونڈی کوشش ہے اور تو اور جعلی تصویروں کے زریعے اسے سی آئی اے کا ڈرامہ قرار دیا جارہا ہے،اور لوگوں کی توجہ اصل دہشت گردی کے واقعہ سے ہٹاکر دوسری طرف مبذول کرائی جا رہی ہے،ہو سکتا ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں یہ بھی کہا جائے کہ ایسا واقعہ ہوا ہی نہیں،ملالہ پر گولی چلی ہی نہیں ،یہ سب ڈرامہ بازی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملالہ یوسف زئی نے جن اہم مسائل کی طرف توجہ دلانے کے لئے آواز بلند کی،کیا وہ غلط ہیں؟ملالہ یوسف زئی نے امن،تعلیم اور پرامن زندگی گزارنے کی بات کی جو سراسر اسلامی اور انسانیت سے ہم آہنگ رائے ہے۔اسلام تو امن اورمحبت کا مذہب ہے،جو بھائی چارہ،رواداری اور اتفاق کا درس دیتا ہے،اس وقت ساری قوم کو مل کر اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہے کہ یہ کون لوگ ہیں جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ان کے ظالمانہ اعمال اور سو چ سے لگتا ہے کہ ان لوگوں کا تعلق قبل اسلام دور سے ہے جب بچیوں کو زندہ دفن کر دینے کا رواج عام تھا ۔ ایک سچا مسلمان 14سالہ معصوم بچی کو شناخت کے بعد اس پر اور اسکی سہیلیوں پر گولیاں برسا کران کی زندگی چھینے کی حرکت نہیں کر سکتا،کیا گولیاں برساتے وقت ملالہ ،شازیہ اور کائنات کے معصوم چہروں میں انہیں اپنی بچیوں کا چہرہ نظر نہیں آیا؟
یوسف کشمیری

دہشت گردی کے خاتمہ اور امن کی بحالی کے لیئے آواز بلند کرنا ملالہ یوسف زئی کی آواز ہی نہیں بلکہ یہ پوری پاکستانی قوم کا مطالبہ ہے،14سالہ ملالہ یوسف زئی نے بحالی امن،لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں اور لڑکیوں کے اسکولوں کو بموں سے تباہ کرنے اوردہشت گردی کے خاتمہ کے خلاف آواز بلند کی جو کہ اس کا جرم بن گئی،اور اسی جرم کی پاداش میں امن کی اس فاختہ اور اس کی سہیلیوں شازیہ اور کائنات کو نام مذہب کے نام نہادٹھیکیداروں کی گولیوں کا نشانہ بننا پڑا، افسوس ناک امر یہ ہے کہ واقعہ کی ذ مہ داری قبول کرتے ہوئے طالبان نے اس واقعہ کو اسلام کے عین مطابق ،جائز ا ور اسے اسلام کی خدمت سے تعبیر کیا۔جبکہ بعض مذہبی جماعتوں کے ٹھیکیدار اس واقعے کو سی آئی اے کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔
اس دلخراش اور افسوسناک واقعہ کی خبر میڈیا پرچلتے ہی نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ان امن کی فاختاؤں کی صحت یابی کے لئے لاکھوں ہاتھ فضاء میں بلند ہوئے۔اور اس واقعہ کی مذمت اور افسوس کے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے اورپوری قوم یک جان اور یک آواز ہو کر طالبان کی دہشت گردی اور ان کے قوم، ملک اور مذہب دشمن اینجنڈے کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔دوسری طرف رجعت پسند حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیااور دیگر ذرائع ابلاغ پر منظم پروپگنڈہ مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے،اور اصل ہونے والے دہشتگردی کے واقعہ کی مذمت کرنے کے بجائے بے سرو پا بحث و مباحثہ شروع کردیا گیا ہے۔گولی دائیں لگی یا بائیں جیسی شرمناک بحث وہی سنگدل لوگ کرسکتے ہیں جن کے سینے میں دل اور جذبات نہیں۔ 
Comments