تنازعات کی زبان

posted Feb 12, 2013, 1:54 AM by PFP Admin   [ updated Feb 12, 2013, 2:01 AM ]

تنازعات کے تناظر میں منفی زبان  کے استعمال کی کئی صورتیں ہیں۔ پہلی صورت  یہ ہے کہ مخالف فریق کے متعلق تواتر کے ساتھ جھوٹ بولا جائے۔ اگرچہ ابلاغ کے عالمی ذرائع کی موجودگی میں ایسا کرنا ناممکن تو نہیں مگر مشکل ضرور ہے ۔  جب حکومتی سطح پر اس کی سرپرستی ہو تو ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔  دوسر ی صورت یہ ہے کہ  الزام تراشی کی جائے ۔ الزامات کو درست یا غلط ثابت کرنے  کے لئے اچھا  خاصا وقت درکار ہوتاہے ۔ اور  تنازعات کی صورت تشکیل دینے میں وقت کا ماہرانہ استعمال  حکمت عملی کا لازمی حصہ ہوتاہے۔

تیسری قسم کی  زبان نفسیاتی نوعیت کی اور تفاخر پر مبنی ہوتی ہے ، یعنی مخالف فریق کو اتنا حقیر قرار دے دینا کہ اس کے لئے  اپنا  وجود ہی ثابت کرنا مشکل ہو جائے۔ 

 تنازعات کے میدان میں یہ ایک کارگر  ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔  چوتھی قسم ایسی زبان کا استعمال ہے جس کو سمجھنے  کے لئے صدیاں درکار ہوں، حقائق گورکھ دھندا اور فریب کاری  حقیقت معلوم ہو۔  

اور آخری قسم ایسی زبان کی ہے جس میں عوام کو مخصوص معلومات فراہم کی جاتی ہیں  مکمل بات کو کبھی افشا نہیں کیا جاتا بلکہ اسے ٹکڑوں میں بانٹ کر عام کیا جاتا ہے۔  

اکثر تنازعات  کی  حرکیات میں جذبات یا  جذبات کی رو میں بہہ  کر بنائی جانے والی پالیسیوں کا بہت بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔  جبکہ جذبا تی انداز سے سوچنے کا تنازعات  سے بچنےکی کوششوںپر  بھی براہ راست اثر ہوتا ہے ۔   لہٰذا تنازعات کے حل کی کوششوں  کے لئے غیر جانبدارنہ و غیرجذباتی ماحول اور دونوں فریقین کی جانب سے  زبان و بیان میں احتیاط اشد ضروری ہے۔


 

اس کا مطلب یہ  بھی ہے کہ اختلاف کی اپنی کوئی زبان نہیں ہوتی ۔ یہ ہمیشہ وہی شکل اختیار کرتا ہے  جیسی اختلاف کرنے والا چاہتا ہے۔  جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں سویلین آبادی کو جو نقصان پہنچتا ہے  فوج اسے کولیٹرول  ڈیمیج یا  غیرارادی نقصانات کہتی ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے جنگ کی تباہ کاریا ں اور انسانی المیہ قرار دیتی ہیں۔

جہاں اختلاف ہو وہاں ایک ہی غیر محتاط جملہ جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہوتا ہے۔  خاص طور پر تنازعات کے ضمن میں اشتعال انگیزی  کسی بم سے کم نہیں ہوتی۔ جو تباہ کاریاں زہریلے اور خوفناک ہتھیاروں سے ممکن ہیں ویسی ہی صورت حال الفاظ کے بے رحمانہ استعمال سے ممکن بنائی جا سکتی ہے۔  لہٰذا تنازعات کے ابھرنے کے بعد زبان و بیاں  پر حد درجہ کنٹرول کی ضرورت ہوتی ہے۔   جہاں اختلافی بات کہنے سے بچنا  ناممکن ہو وہاں مناسب اور دھیمے الفاظ کا چناؤ کیا جانا چاہیے۔ اور بات کہنے سے پہلے یہ ضرور خیال کر لیناچاہیے کہ دوسرا اس سے کیا تاثر قبول کرے گا۔

ملکوں کے درمیان تنازعات کسی آتش فشاں سے کم نہیں ہوتے۔ اور ان کی اپنی ہی حرکیات ہوتی ہے۔ وہ الفاظ اور جملے جو عام گفتگو میں بالکل بے ضرر یا کم ضرر سمجھے جاتے ہیں ، سفارتی میدان میں مختلف معنی رکھتے ہیں۔ خاص طور پر جب دو ملکوں کی فوجیں ایک دوسرے پر اسلحہ تان کر بیٹھی ہوں تو  سویلین آبادی کا مستقبل ٹریگر پر رکھی ہوئی انگلی سے  کم اور سفارت کاروں کی زبان سے زیادہ جڑا ہوتا ہے۔

اسی طرح کسی ملک کا میڈیا اور اس سے منسلک افراد کی تمام حرکات و سکنات  اس تنازع کے باہمی تار و پود بننے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ تنازعات کے ماحول  میں  ٹیلیویژن  یا ریڈیو کا  ایک نشریہ  یا کسی مقامی اخبار کی ایک کالمی خبر ماحول کو پراگندہ کرنے کی پوری  صلاحیت رکھتی ہے۔  جبکہ توپوں کی گھن گرج میں  یہ   چھوٹی سی خبر کسی ٹائم بم سے زیادہ ہولناک ثابت ہو سکتی ہے۔

جب دو ملکوں میں بداعتمادی اور شک کی فضا قائم ہو تو فیصلہ ساز اداروں اور چوٹی کے  حکومتی نمائندوں کی ذاتی رائے پر اثر انداز ہونے کے لئے کسی غیر معمولی تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ تواتر کے ساتھ بولا جانے والا جھوٹ یا سچ ان کی رائے کی فصیل میں دراڑیں ڈال سکتا ہے۔  اور یہ کام   میڈیا سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا۔   ایک جانب سے چلائی جانے والی نامکمل اور غیر مصدقہ اطلاعات کی مہم کو روکنا اس لئے بھی مشکل ہوتا ہے کہ مخالف سمت کا میڈیا بھی اسی قسم کے پروپیگنڈا کا شکار ہو چکا ہوتا ہے۔ 

مظہر اقبال

کسی بھی زبان  میں ایسے بے شمار الفاظ  ہوتے ہیں جو   ناخوشگوار اور ناپسندیدہ  تاثر قائم کرتے ہیں۔  اردو زبان کا لفظ  '' تنازع '' بھی ان میں سے ایک  ہے ۔ جب بھی اور جہاں بھی اس لفظ کو استعما ل کیا  جاتا ہے،   پہلا اور عمومی تاثر یہ ابھرتاہے  کہ کسی بات پہ اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔

 مگر کیا ایسا ممکن ہے کہ اس لفظ یا اس جیسے دیگر الفاظ کو استعمال کئے بغیر  کسی متنازع  بات پر اتفاق رائے حاصل کر لیا جائے۔؟  جی ہاں ایسا  نہ صرف ممکن ہے بلکہ تجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ کسی بھی   ناپسندیدہ صورت حال سے بچنے کے لئے اگر محتاط اور  خوشگوار  الفاظ استعمال کئے جائیں تو   مقاصد بہت جلد حاصل کر لئے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر کسی انتہائی خوشگوار موقع پر چبھتے ہوئے الفاظ، کاٹ دار جملوں اور توہین آمیز گفتگو کا سہارا لیا جائے تو چند ہی لمحوں میں ہی وہاں کا ماحول ناخوشگوار ہو سکتا ہے۔

 کچھ لوگوں کے لئے  کئی الفاظ ہی انتہا ئی خوفناک اور تکلیف دہ   ہوتے ہیں۔ اور ان الفاظ کو اگر تواتر کے ساتھ ان کے سامنے دہرایا جاتا  رہے تو وہ ان کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت پر انتہائی برا اثر قائم کرتے ہیں۔مثلاً لفظ اذیت کو پڑھتے  یا سنتے ہی جو  معانی اور مطالب ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں وہ  خود اس لفظ  کی تصویر کشی کرتے نظر آتے ہیں۔ جیسا کہ دکھ ، درد، تشدد، جنگ وجدل،  خوف ، دہشت، بے  رحمی اور سنگ دلی ۔

کسی بھی اختلافی بات کو بیان کر نے کے ایک سے زائد انداز ہو سکتے ہیں ۔ تاہم  یہ ہمیشہ کہنے والے پہ منحصر ہوتا ہے کہ وہ  اپنی  بات سے کیا تاثر قائم کرنا چاہتا ہے۔  مثال کے طور پر یہ کہنا کہ  ہم دونوں میں اس بات پر شدید اختلاف  ہے،   زیادہ ناخوشگوار بات ہے۔ اس کے برعکس اگر یہ کہا جائے کہ  ہم دونو ں کا نقطہ نظر ایک دوسرے سے مختلف ہے،  تو یہ زیادہ مناسب ہوگا۔

 اس بات کو دوسرے طریقے سے کہنے سے   اختلاف کی شدت تو کم نہیں ہوتی مگر ماحول زہرآلود بھی نہیں ہوتا۔  ہم اسی بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ  ہمارے پاس بہت سے حل موجود ہیں مگر ہم کسی ایک حل پر متفق ہونا چاہتے ہیں۔  

 اسی اختلافی بات کو کہنے کا   ایک انتہائی مثبت انداز یہ بھی ہوسکتا ہے "  ہمیں موقع ملا ہے کہ  بات چیت کے ذریعہ  ہم ایک دوسرے کو سمجھ سکیں۔ "

Comments