انقلاب یا تضاد

posted Feb 24, 2013, 3:26 PM by PFP Admin   [ updated Feb 24, 2013, 3:33 PM ]

ہندوستان میں بابری مسجد کا انہدام ہو یا گولڈن ٹمپل پر حملہ، گجرات اور احمد آباد میں پھوٹ پڑنے والے فسادات ہیں یا پھر پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک، اِن سب کے پیچھے وہی مخصوص سوچ کارفرما ہے جو حکمران، نوابوں، وڈیروں، جاگیرداروں اور مہاراجوں نے اپنے ظلم کو قا ئم رکھنے اور ذاتی مفادات کے حصول کیلے تشکیل دی ہے۔ مرزا غالب اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں:
مانا کہ دلی میں رہیں گے
پر کھا ئیں گے کیا ؟
دلی میں آج بھی غریب کے لے روٹی کا حصول اتنا ہی مشکل ہے جتنا مسلمان سلاطین کے دور میں تھا۔اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان کے اسلام آباد میں بھی بندہ مزدور کے اوقات بہت تلخ ہیں۔حوا کی بیٹی کی عزت نہ تو دلی میں محفوظ ہے اور نہ ہی اسلام آباد میں
اگر نریندر مودی اور آنجہانی بال ٹھاکرے ، بجرنگ دل اور راشٹریہ سنگ سیوک کی سیاست مذہبی تشدد پر مبنی ہے تو پاکستان میں شیعہ اور سنی کا قتلِ عام بھی مذہبی تشددکے زمرے میں آتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ ایک رام کے نام پر استحصال کرتا ہے تو دوسرا خدا کے نام پر۔ اسی طرح دہلی کا لال قلعہ ہو یا لاہور کا شاہی قلعہ، آگرہ کا تاج محل ہو یا شالیمار باغ، اِن سب کی بنیادیں غربا کی کمائی اور قومی دولت کی لوٹ کھسوٹ پر رکھی گئیں تھیں جس طرح آج لاہور میں بلاول ہاؤس کی بنیادیں عوام کے خون پسینے کی کمائی اور ٹیکس چوری پر استوار کی  ہیں۔
ان سب کی تعمیر سے کون سے اسلامی فنِ تعمیر اورتہذیب کی عکاسی ہوتی ہے۔فیصلہ آپ کے ہاتھ میں لیکن یہ بات حق بجانب ہے کہ اگر ہم اپنے معاشرے میں انقلاب لانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سیاست کو موروثیت اور مذہب کو دقیانوسیت سے پاک کرنا ہو گا وگرنہ تضاد در تضاد کا کلچر پروان چڑھتا رہے گا اور عوام ہمیشہ سیاسی، معاشی و معاشرتی تنزل کا شکا ر رہیں گے۔

(ٹی ایچ شاہ پریس فار پیس کے شعبہ تحقیق و تصنیف سے منسلک ہیں۔ اور عرصہ دراز سے دیارغیر میں بسنے کے باوجود  پاکستان کے سماجی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ )

پاکستان میں حکمرانوں اور سول و ملٹری بیوروکریسی کی اکثریت آکسفورڈ اور کیمرج یونیورسٹیوں سے سندیافتہ ہونے کے باوجود قوم کو ایک مربوط نظامِ تعلیم نہیں دے سکی جس سے ریاست میں معاشی آزادی اور سیاسی شعور کا شجر پروان چڑھ سکتا۔پاکستان میں شرح تعلیم نیپال سے بھی نیچے گر چکی ہے اور حال یہ ہے کی اِقرا سے شروع ہونے والی وحی کے پیروکاروں کے سکولوں میں جانور بندھے ہونے کی خبریں آئے روز عالمی میڈیا کی زینت بنتی ہیں اور تو اور خیبر پختون خواہ اور قبائلی علاقوں میں تو تعلیمی اداروں کو بم دھماکوں سے اڑایا جا رہا ہے۔

کچھ اس سے ملتی جلتی صورتحال ہندوستان میں بھی دیکھی جا سکتی ہے جہاں نہ صرف مسلمان تعصبی رویہ کا شکار ہیں بلکہ دلیت ہندوؤں کی اکثریت تعلیم تو درکنار بلکہ دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہے۔

اسکی وجہ یہ ہے کہ برِصغیر کی سیاست صدیوں سےَ گھسے پِٹے تصورات اور شخصیات کے اِرد گِرد گھومتی آ ئی   ہے یہ شخصی کردار چاہے مسلمانوں میں ہوں یا ہندوؤں میں، دونوں نے عوام کا جبری استحصال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

اگر گاندھی کا اہنسا ہندوستانی معاشرے سے سیاسی تشدد اور مذہبی تعصب کو ختم نہیں کر سکا تو پاکستان کا اسلام بھی غریب عوام کو معاشرے میں با عزت مقام دینے میں ناکام رہا ہے۔

ٹی۔ایچ شاہ

پاکستان میں انقلاب کی نوید سنانے والے اور اس کے لیے جدوجہد کرنے والے مذہبی و سیاسی زعماء برصغیر کے سیاسی مزاج کو نظرانداز کر دیتے ہیں جہاں انقلاب کی روایت ہمیشہ مفقود رہی ہے۔

 برِصغیر کی سیاست اور معاشرت ہمیشہ ایک خاص رخ میں چلتی رہی ہے جس میں جمہوریت اور مذہبیت ایک مخصوص سماجی عمل میں مقید ہو کر رہ گئی  ہے۔ ہندوستان جیسے سیکولرآئین کا پرچار کرنے والی ریاست میں اگرآج بھی گاۓ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان وجہ تنازعہ ہے تو پاکستان میں بھی مسلمانوں کے فرقے ایک دوسرے سے اتنی ہی نفرت کرتے ہیں جتنی  ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین گاۓکی وجہ سے ہے جبکہ یہی گاۓ اور یہی فرقے اِنگلستان کی سرزمین پر فرنگی آہین کی روایات میں جھاگ کی طرح بہہ جاتے ہیں۔

پاکستان کی سرزمین پر بسنے والا کوئی عیسائی یا دہریہ کسی مسلمان کے سامنے خنزیر کا گوشت کھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا جبکہ اِنگلستان میں بسنے والے مسلمانوں اور ہندوں کی اکثریت اس طرح کے فعل روز اپنی آنکھوں کے سامنے رونما ہوتے دیکھتی ہے مگر اس سے دونوں کے ایمان پر کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ اکثر اللہ کے نام لیوا شراب کے کاروبار بھی کر رہے ہیں اور اگر بات کی جاۓ تو دلیل یہ دی جاتی ہے کہ کیا کیا جاۓ ؟حالات کے 
مطابق تو چلنا پڑتا ہے۔

جمہوری معاشروں میں جمہوری سوچ سماجی عمل کے ساتھ شروع ہو جاتی ہے جس میں ذاتی حقوق کا دعوٰی کرنے سے پہلے دوسروں کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کو مدِنظر رکھا جا تا ہے یہی جمہوریت کی کامیابی ہے۔جمہوریت کی بنیادی شرائط میں حقِ تعلیم کو اولین حیثیت حاصل ہے جبکہ معاشی آزادی اور سیاسی شعور ذیلی شرایط کے زمرے میں آتے ہیں۔
Comments