روہنگیا بحران: تاریخ اور حقائق

posted Sep 10, 2017, 3:36 PM by PFP Admin


تحقیق و تحریر: جلال الدین مغل

اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 25 اگست کے بعد سے میانمار سے روہنگیا پناہ گزینوں کی بنگلہ دیش ہجرت کے سلسلے میں تیزی آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ پچاس ہزار کے قریب روہنگیا میانمار کی شمال مغربی ریاست رخائن میں جاری تشدد کی وجہ سے بھاگنے پر مجبور ہوئے ہیں۔اس بحران کا آغاز اس وقت ہوا جب روہنگیا جنگجوؤں نے پولیس چوکیوں پر حملے کر کے متعدد پولیس اہلکاروں کو مار ڈالا۔ اس کے بعد میانمار کی فوج نے روہنگیا کے خلاف آپریشن شروع کر دیا۔روہنگیا خواتین، بچوں اور مردوں کا کوئی ملک نہیں ہے یعنی ان کے پاس کسی بھی ملک کی شہریت نہیں۔ اگرچہ یہ ميانمار میں ہیں لیکن انہیں میانمار کا شہری تسلیم کرنے کے بجائے صرف غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر مانا جاتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی سرحد کے قریب روہنگیا افرادکی متعدد اجتماعی قبریں ملی ہیں۔2015ء میں جب غیرقانونی تارکین کے خلاف کچھ سختی کی گئی تو کشتیوں پر سوار سینکڑوں روہنگیا کئی دنوں تک سمندر میں پھنسے رہے۔

روہنگیا کون ہیں؟
اقوام متحدہ کے مطابق بدھ اکثریتی میانمار(سابق برما) کی شمال مغربی ریاست رخائن میں رہنے والی نسلی اقلیت روہنگیا دیناکے سب سے پسے ہوئے اور تشدد کا شکار طبقات میں سے ایک ہے۔جنوب مشرقی ایشیائی ملک میانمار کی آبادی کی اکثریت بدھ مت سے تعلق رکھتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق میانمار میں روہنگیا نسل سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد گیارہ لاکھ کے لگ بھگ ہے جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے جبکہ دیگر مذاہب میں برہمن اور عیسائی بھی شامل ہیں۔

اُن لوگوں کی زبان ’روہنگیا‘ یا ’روئنگا‘ کہلاتی ہے اورمیانمار بھر میں عام طور پر بولی جانے والی دیگرزبانوں سے یکسر مختلف ہے۔ روہنگیا قبیلہ میانمار میں سرکاری طور پر تسلیم شدہ دیگر 135 نسلی گروپوں میں شامل نہیں۔ اُنہیں 1982 سےمیانمار میں شہریت کے حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ یوں ایک طرح سے یہ قبیلہ زمین کے ایک ٹکڑے پر قابض ہونے کے باوجود ملکیت کے حق اور شہریت سے محروم اور عملاً بے وطنی کا شکار ہے۔

شناخت کا بحران
روہنگیاوں کی متنازعہ شناخت کے باعث حکومت نے انھیں شہریت دینے سے انکار کر دیا ہے ۔میانمار کی حکومت نے روہنگیا نسل کے لوگوں کو مستقل قومی رجسٹریشن کارڈ کے بجائے عارضی رجسٹریشن کارڈ جاری کیے ہیں جس کے باعث ان کی اکثریت جائیداد اور ووٹ کے حق سے محروم ہے۔روہنگیا میانمار کے غریب ترین قبائل میں سے ایک ہے اور وہ زیادہ تر گھیٹو یا جھگی طرز کے کیمپوں میں گزارہ کر رہے ہیں جہاں اُنہیں زندگی کی بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں ہیں۔ انھیں وسیع پیمانے پر نسلی و مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک اور زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لاکھوں کی تعداد میں بغیر دستاویزات والے روہنگیا بنگلہ دیش میں رہ رہے ہیں جو دہائیوں پہلے میانمار چھوڑ کر وہاں آئے تھے۔ ریاست رخائن میں 2012 سےنسلی بنیادوں پر تشدد جاری ہے۔اس تشدد میں بڑی تعداد میں لوگوں کی جانیں گئی ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بےگھر ہوئے ہیں۔ شناختی اور سفری دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ نہ تو اپنی مرضی سے کہیں آ جا سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی مرضی سے کام کر سکتے ہیں۔ جن گھروں اور جھونپڑیوں میں یہ رہتے ہیں، ان پر بھی ان کے مالکانہ حقوق نہیں ہیں اور یہ جھونپڑیاں ان سے کسی بھی وقت خالی کروائی جاسکتی ہیں۔ انصاف کے حصول کے لئے عدالت یا کسی سرکاری ادارے تک رسائی ہے اور نہ شنوائی۔

روہنگیا کہاں سے آئے؟
روہنگیا نسل کا دعویٰ ہے کہ وہ عرب تاجروں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور بارہویں صدی سے اسی علاقے میں آباد ہیں تاہم میانمار میں عمومی رائے یہی ہے کہ وہ بنیادی طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر ہیں۔ جو تقسیم برما پر انگریز راج کے دوران ہندوستانی علاقوں سے برما میں منتقل ہوئے اور یہ سلسلہ تقسیم برصغیر کے بعد بھی جاری رہا ۔میانمار میں روہنگیا افراد کو ایک نسلی گروپ کے طور پر تسلیم نہ کرنے کی ایک وجہ 1982ء کا وہ قانون بھی ہے، جس کے مطابق شہریت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی نسلی گروپ کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ 1823ء سے قبل بھی میانمار میں ہی تھا۔

روہنگیا کا مسئلہ کیا
یہ عالمی طور پر تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ روہنگیا مسلمان میانمارمیں بہت مشکل وقت گزار رہے ہیں۔ 1984 میں میانمار کی برطانیہ سے آزادی سے لے کر اب تک کی حکومتوں نے روہنگیا لوگوں مسائل کو حل کرنے کے بجائے ان میں مذید گھمبیرتا پیدا کی ہے۔اس تنازعہ کی ابتدا خالصتاً ایک نسلی تنازعہ کے طور پر ہوئی مگر بتدریج اسے ایک مذہبی تنازعہ کی شکل دے دی گئی۔ اب یہ تنازعہ روہنگیا قبیلے کی شناخت اور شہریت کے حصول کے مسئلے کے بجائےایک مسلمان اقلیت اور اکثریتی مذہب (بدھ مت) کے پیروکاروں کے درمیان مذہبی تصادم کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اس پہلو کی وجہ سے عالمی تناظر میں بھی یہ قضیّہ انسانی حقوق کی فہرست سے نکل کر مذاہب کے درمیان کشمکش کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔ چنانچہ اس صورتِ حال نے تنازع کے حل کی کوششوں کے پورے منظر نامے کو تبدیل کردیا ہے۔

روہنگیا پاکستان میں
پاکستان کے ساحلی علاقوں خصوصاً کراچی میں برمی روہنگیا مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ غیر ملکیوں کی رجسٹریشن کے قومی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق لگ بھگ پانچ لاکھ روہنگیا کراچی میں بن قاسم اور اورنگی کے علاقوں میں آباد ہیں۔ ان میں سے کچھ تو تقسیم کے وقت سے کراچی میں مقیم ہیں جبکہ ایک بڑی تعداد اسی کی دہائی میں یہاں منتقل ہوئی۔

سابق آمر جنرل ضیاء نے بنگالی اور روہنگیاوں کو پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دی تھی۔ افغان جنگ کے دوران متعدد روہنگیاوں کو تربیت اور اسلحہ دے کر افغانستان بھیجا گیا جبکہ ان کے بچوں کو مختلف دینی مدارس میں داخل کروایا گیا۔ لگ بھگ پینتیس سالوں سے کراچی میں آباد روہنگیا کمیونٹی اگرچہ بلدیاتی، صوبائی اور قومی اسمبلی کے انتخابات میں ووٹ ڈالتی ہے تاہم ان میں اسے غالب اکثریت کے پاس پاکستان کو قومی شناختی کارڈ یا کوئی دیگر شناختی دستاویز موجود نہیں۔شناختی دستاویزات نہ ہونے کے باعث روہینگیا کراچی پولیس کے ساتھ ساتھ شدت پسندوں کا بھی آسان شکار ہیں۔ شناخت کے بحران سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے روہنگیا نوجوان اکثر و بیشتر شدت پسند تنظیم اور مذہبی گروہوں کے ساتھ اپنی شناخت جوڑ لیتے ہیں۔

حل کیا ہے

بظاہر آنگ سان سو چی کی سربراہی میں ایک جمہوری حکومت قائم ہونے کے باوجود میانمار کے سیاسی نظام میں فوج کو فیصلہ کن بالادستی حاصل ہے۔ سیاسی اور انتظامی امور پر مکمل کنٹرول کے باعث فوج فی الحال اندرونی اور بیرونی دباؤ کو خاطر میں نہیں لاتی اس لئے پڑوسی ممالک کے لئے میانمار پر سفارتی دباوڈالنا ممکن نہیں لگ رہا اور نہ ہی فوج کسی بیرونی ادارے کو ملک کے اندر شورش زدہ علاقوں تک رسائی دینے کو تیار ہے ۔تاہم چین واحد ملک ہے، جواگر چاہے تومیانمار کی پالیسیوں پربڑی حد تک اثرانداز ہوسکتا ہے۔

پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے طرز پرچین میانمار، بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان بھی ایک راہداری منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ صرف چین ہی نہیں، میانمار، بھارت اور بنگلہ دیش کے مفادات بھی براہ راست اس منصوبے کے ساتھ منسلک ہیں۔ چین میانمار میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اس سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے امن کا قیام انتہائی ضروری ہے۔چین بھارت اور بنگلہ دیش کی خاموش سفارت کاری میں اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

میانمار کی حکومت کو سیاسی دباو کے زریعے یہ باور کروانا ہو گا کہ اتنی بڑی تعداد میں انسانوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنا میانمارکے وجود کے لئے کسی بھی طور پر مفید نہیں ہو گا۔ اور روہنگیا قیادت کو بھی اس بات کا ادراک رکھنا چاہیے کہ مکمل شہریت کے بنیادی حق سے انہیں کسی صورت محروم نہیں کیا جا سکتا مگر اس حق کے حصول کے لئے کسی قسم کے تشدد کا راستہ اختیار کرنا ایک کمزور قبیلے کے لئے مذید خطرات کا باعث بن سکتا ہے لہذا نہیں اپنے حق کے حصول کے لئے پر امن اور سیاسی راستے اختیار کرنےکے ساتھ ساتھ بین الاقومی برادری کے سامنے اپنا مقدمہ موثر انداز میں پیش کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں پڑوسی مسلمان ممالک خصوصاً بنگلہ دیش اور پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش میں مقیم روہنگیا کمیونٹی بہتر طور پر سفارت کاری کر سکتی ہے۔

حرف آخر: ریاستی اور نسل پرستانہ تشدد کے باعث ہزاروں کی تعداد میں روہنگیا مسلمان کو اپنے کیمپوں سے نکل کر نکل مکانی کرنا پڑی۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد محفوظ اور روشن مستقبل کا خواب آنکھوں میں سجائے انسانی سمگلروں کے مکروہ دھندے کا نشانہ بنے اور سمندر میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ انہیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ کوئی بھی پڑوسی ملک بشمول مسلمان ممالک انہیں پناہ دینے کو تیار نہیں۔ بنگلہ دیش نے عارضی طور پر انہیں پناہ دینا شروع کی ہے مگر امکانات کم ہیں کہ یہ سلسلہ تا دیر چلے۔ گذشتہ ایک ماہ سے سوشل میڈیا میں روہنگیا مسلمانوں پرغیرانسانی مظالم کی جو کہانیاں تصاویر اور ویڈیو سامنے آئی ہیں ان میں سے اکثر غیر حقیقی اور مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔ میانمار میں قائم اسلامی ممالک کے سفارت خانوں سمیت کسی بھی             آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔


Comments