نیلم ویلی ڈویلپمنٹ بورڈ ۔۔۔۔۔ ذاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن

posted Feb 10, 2013, 1:45 PM by PFP Admin
نیلم ویلی ڈویلپمنٹ بورڈ کے بانی میاں غلام رسول مرحوم کے چھوٹے بھائی میاں عبدالوحیدپانچ سال اپوزیشن میں بطور ممبر اسمبلی گزارنے کے بعد گذشتہ پونے دو سال سے آزاد کشمیر حکومت کے با اثر اور با اختیار وزیر ہیں ۔ جبکہ میاں صاحب مرحوم کے فرزند میاں اخلاق الرسول پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر ضلع نیلم کے صدر ہیں اور حکمران سیاسی جماعت میں اپنے اچھے اثر رسوخ کے باعث پہچانے جاتے ہیں ۔ 2011ء کے انتخابات کے بعد جب پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں برسر اقتدار آئی تو راقم الحروف کو ذاتی طور پر یہ توقع تھی کی میاں اخلاق الرسول نیلم ویلی ڈویلپمنٹ بورڈ کی چیئر مین شپ سنبھال کر ادارے کی اسی روش پر ترقی کے لئے اقدامات شروع کریں گے جس روش پر ان کے والد مرحوم چاہتے تھے اور ان کے ادھورے رہ جانے والے خواب کو وہ اپنے ہاتھوں شرمندہ تعمیر کریں گے تاہم انہوں نے راقم سمیت متعدد دیگر لوگوں کی توقعات کے برعکس اس ذمہ داری کو قبو ل کرنے کے بجائے اپنے ایک ’’سیاسی کارکن‘‘ کو اس منصب کے لئے نامزد کیا ۔
ماضی کی طرح اس وقت بھی نیلم ویلی ڈویلپمنٹ بورڈ روائتی بلدیاتی اداروں کی طرح ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے فکر میں ہے۔ ضلع نیلم کی سیاحتی اہمیت کے پیش نظر نیلم ویلی ڈویلپمنٹ بورڈ سرکاری وسائل اور حکومتی گرانٹس پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے محدود وسائل کو استعمال کرتے ہوئے پبلک پرائیویٹ پارٹنز شپ کے تحت نجی سرمایہ کاروں کے تعاون سے ایسے منصوبہ جات شرو ع کر سکتا ہے جس نہ صرف علاقے کی تعمیر و ترقی کے لئے اہم کردار ادا کریں گے بلکہ مقامی لوگوں کو روزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ادارے کی مستقل آمدنی کے ذرائع بھی پیدا ہو سکتے ہیں جن کے ذریعے مستقل قریب میں ادارے کو ایک فعال، منافع بخش اور مالی لحاظ سے خودمختار ادارہ بنایا جا سکتا ہے۔مگر اس مقصد کے لئے جہاں ادارے میں منصوبہ سازوں اور عملدرآمد کرنے والے محنتی اور دیانتدار ملازمین کی ضرورت ہے وہیں ایک پڑھے لکھے، جہاں دید ، درد دل رکھنے والے اور حقیقی معنوں میں کچھ کر گزرنے والے با اختیار منتظم کی ضرور ت ہے 
اگر میاں عبدالوحید اور میاں اخلاق الرسول کی با اختیار پوزیشنز پر موجودگی کے باوجود نیلم ویلی ڈویلپمنٹ بورڈ چھے منتظمین سے محروم رہے گا اور ماضی کی طرح غیر فعال اور عضو معطل رہے گا تو یہ ان دونوں شخصیات کی نااہلی اور نیلم ویلی کے عوام کی بدقسمتی ہو گی۔ دو با اختیار سیاسی جانشینوں کی موجودگی میں اگر میاں غلام رسول مرحوم کے ہاتھوں لگایا جانے والا پودہ تناور درخت بننے کے بجائے قطع و برید کا شکار رہے گااور عقابوں کے نشیمن ذاغوں کے تصرف میں رہیں گے تووادی نیلم کے عوام ان سے پوچھیں نہ پوچھیں قیامت کے روز میاں غلام رسول مرحوم ان سے یہ بات ضرورسوال کریں گے کہ:
؂ چمن کو اس لئے مالی نے خون سے سینچا تھا؟؟؟؟؟
ادارے کے رولز میں ہونے والی اولین تبدیلی سے ہی اس ادارہ کی تنزلی کا سفر شروع ہو گیا تھا اور میاں عبدالوحید ایڈوکیٹ کے بعد آنے والے تمام سربراہان خواہ وہ سیاسی کارکنان تھے یا بیورکریٹ ان عہدوں کو Status Symbolکے طور پر Enjoyکیا ہے اور کسی نے بھی اس ادارے کی بہتری کے لئے اقدامات کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اور شائد یہی وجہ ہے کہ لگ بھگ پندرہ سال قبل بننے والا یہ ادارہ جسے آج ایک منافع بخش اور وسائل کے لحاظ سے خودمختار ادارہ ہونا چاہیے تھا کوڑی کوڑی کا محتاج ہے اور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے دوسرے محکمہ جات سے رائیلٹی کی شکل میں ملنے والے فنڈز اور حکومتی گرانٹس کا محتاج ہے ۔ 
پندرہ سالوں کے دوران ادارہ تین سیاسی شخصیات کے علاوہ درجنوں بیورکریٹس کو بطور چیئر مین بھگتا چکا ہے اور لگ بھگ یہی حال سیکرٹری کے عہدے کا بھی ہے مگر ان پندرہ سالوں کے دوران پورے ضلع میں نیلم دویلپمنٹ بورڈ کی جانب سے مکمل کئے گئے منصوبہ جات میں کوئی بھی ایسا قابل ذکر منصوبہ نہیں جس کا علاقے کی تعمیر و ترقی ، عوام کی فلاح و بہبود اور معیار زندگی کی بہتری کے لئے کوئی قابل ذکر کردار ہو۔ اور نہی کوئی ایسا منصوبہ شروع کیا جا سکا ہے جو ادارے کی مستقل آمدنی کا ذریعہ ثابت ہو سکے۔ دوسری جانب اخراجات کی بات کی جائے تو اب تک چیئر مین اور سیکرٹری کے عہدے پر فائز رہنے والی سیاسی شخصیات اور بیورکریٹس اب تک کروڑوں روپے کی تنخواہیں مراعات اور دیگر اخراجات وصول کر چکے ہیں۔ 
ممبران اسمبلی کے صوابدیدی ترقیاتی فنڈز اور محکمہ لوکل گورنمنٹ کے دیگر فنڈز کی سیاسی رشوت کے طور پر تقسیم کی طرز پر نیلم ویلی ڈویلپمنٹ بورڈکے فنڈز اور آمدنی کو بھی 25ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے کی سکیموں کے تحت سیاسی کارکنوں میں تقسیم کرنے کی مثالیں بھی موجود ہیں جبکہ ماضی میں شروع کئے گئے درجنوں ایسے منصوبے جن پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے ان کا زمین پر کہیں وجود نظر نہیں آرہا البتہ فائلوں میں وہ سب کے سب منصوبہ جات مکمل ہیں اور ان کی ادائیگیاں بھی کی جا چکی ہیں جبکہ عملاً ان منصوبوں کا بھی وہی حال ہے جو اٹھمقام میں نیشنل بنک کے ساتھ کئی سالوں سے’’ زیر تعمیر ‘‘شاپنگ پلازے، اٹھمقام ہیں میں دریائے نیلم کے درمیان ’’ہوائی ریسٹورنٹ ،سفاری پارک‘‘ اور کٹن کے مقام پر شروع ہونے والے ’’پبلک پارک ‘‘ کا ہے ۔
نیلم ویلی قدرتی حسن اور وسائل سے مالا مال خطہ ہے اور اگر اس علاقے کے وسائل سے ایک معمولی حصہ بھی نیلم ویلی ڈویلپمنٹ بورڈ کے ذریعہ نیلم ویلی کی تعمیر و ترقی پر خرچ کیا جائے تو پندرہ سالو ں میں تعمیر و ترقی کا انقلاب برپا ہو سکتا ہے مگر اس میں بنیادی شرائط یہ ہیں کہ اور تو رائیلٹی کا یہ حصہ بروقت نیلم ویلی ڈویلپمنٹ بورڈ کو فراہم کیا جائے اور دوسرا یہ کہ ادارہ کی انتظامیہ پوری محنت ایمانداری، دیانتداری اور خلوص کے ساتھ ان وسائل کو مناسب منصوبہ جات پر صرف کرے نہ کہ اسے محض تنخواہوں اور مراعات کی ادائیگی کر خرچ کیا جائے اور بچی کھچی رقم کو سیاسی کارکنان میں بطور سیاسی رشوت تقسیم کر دیا جائے۔ 

/جلال الدین مغل

پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے بانی جنرل سیکرٹری اور سابق وزیر حکومت جناب میاں غلام رسول(مرحوم) کی خدمات یوں تو آزاد کشمیر کی پارلیمانی اور جمہوری تاریخ کے لئے ناقابل فراموش ہیں تاہم وادی نیلم جو ان کے عرصہ حیات میں تو ضلع نہیں بن سکا اور جہاں فانی سے ان کے انتقال کے بعد اس علاقہ کو ضلع کا درجہ ملا اس کی تعمیر و ترقی اور لوگوں میں سیاسی شعور کی بیدار کے ساتھ ساتھ عوام کے معیار زندگی کی بہتری اور وادی نیلم کو اس کے وسائل کے حوالے سے ریاستی اور ملکی سطح پر ایک پہچان دلانے کے لئے ان کو کردار کو شائد کئی نسلوں تک بھلایا نہیں جا سکے گا ۔ اگرچہ میاں غلام رسول (مرحوم )وادی نیلم کو ضلع کا درجہ دلوانے کی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہوا تو وہ اپنی زندگی میں نہیں دیکھ سکے مگر اپنے دیگر متعدد کارناموں کے علاوہ اپنے عرصہ حیات کے آخری ایام میں انہو ں نے نیلم ویلی ڈویلپمنٹ بورڈ کے قیام کی شکل میں نیلم ویلی کو ایک شناخت دلوانے کے ساتھ ساتھ علاقائی وسائل سے علاقے کی ترقی اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ایک سنگ بنیاد ضرور رکھ گئے تھے۔ 
نیلم ویلی ڈویلپمنٹ بورڈ کے قیام کا اولین اور بنیادی مقصد مقامی قدرتی وسائل سے ایک مناسب حصہ کو رائیلٹی کی شکل میں وصول کر کے مقامی عوام کی فلاح بہبود اور معیار زندگی کی بہتری اور علاقے کی تعمیر و ترقی پر خرچ کرنا تھا ۔ادارے کے بانی کی حیثیت سے ان کے ذہین میں ادارے کا جو خاکہ تھا اس کے مطابق انہوں نے نیلم ویلی ڈویلپمنٹ بورڈ کو محض رائیلٹی کے حصول اور خرچ تک محدود رکھنے کے بجائے اسے مالی وسائل کے لحاظ سے ایک منافع بخش اور خود مختار ادارہ بنانے کا پلان تیار کر رکھا تھا ۔ مگر شائد ان کی بے وقت رحلت نے انہیں اس منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا موقع نہیں دیا ۔ادارے کے قیام کے وقت منظور شدہ رولز کے تحت علاقے سے منتخب ہونے والے رکن اسمبلی کو بلحاظ عہدہ نیلم ویلی ڈویلپمنٹ بورڈ کا چیئر مین ہونا تھا جبکہ اس کا سیکرٹری کسی ایکس آفیشو گورنمنٹ سرونٹ کو ہونا تھا جو کہ ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ یا آفس مینجمنٹ گروپ کا گریڈ سترہ یا اس سے اوپر کا آفیسر ہونا تھا تاہم اس کا تقرر متعلقہ ایم ایل اے کی تجویز کے مطابق ہی ہونا تھا ۔ ادارے کے قیام کے ابتدائی دنوں میں ہی ان رولز میں ترمیم/تبدیلی کے ذریعے چیئر مین کے عہدے کے لئے اہلیت کی شرائط کو تبدیل کر کے میاں غلام رسول مرحوم کے چھوٹے بھائی اور موجودہ وزیر تعلیم میاں عبدالوحید کو ادارے کا چیئر مین مقرر کیا گیا ۔ تب سے لیکر اب تک ادارے کی چیئر مین شپ اور سیکرٹری شپ ایک سیاسی عہدہ رہی ہے جس پر تقرری وزیر اعظم کی صوابدید پر ہوتی رہی ہے اور یہی حال نیلم ویلی ڈویلپمنٹ بورڈ کے پرائیوئٹ ممبران کے تقرر کا بھی رہا ہے ۔ 
Comments