نگارش قلم ( لولی پاپ )

posted Mar 16, 2014, 4:22 PM by PFP Admin   [ updated Mar 16, 2014, 4:23 PM ]
تحریر: سیّد عمران حمید گیلانی ///

جھوٹے زمینوں کے کیسز میں ا لجھانے کا کیا رواج ابھی تک ہمارے معاشرے میں قائم نہیں۔۔۔۔۔؟ یہاں تو آج بھی دفاتر کے اندر پٹواری بادشاہ یا کلرک کا راج قائم ہے اور ہوتو وہی ہے جو یہ چاہیں گے متاثرین ہوں یا حقدار وہ لاکھ کوشش و سعی کر لیں ان کا کام اس وقت تک نہیں بن پاتا جب تک دفاتر کے اندر براجمان ان مگر مچھوں کی خدمت خاطر نہ کر لیں اور بھاری نذر نیاز اور نذرانوں سے ان کو رام نہ کر لیں۔۔۔۔! ورنہ وہی ہو گا جو آج سے قبل ہوتا رہا ہے کل آنا ،آج صاحب مصروف ہیں یا دفتر حاضر نہیں ۔آپ فکر نہ کریں کام ہو جائے گا یہ لولی پاپ کا کون سا روپ ہے؟ا سی طرح واپڈا،برقیات، ٹیلی فون و مواصلات سمیت دیگر محکمہ جات میں کیا بیچارے عوام بوگس بلات ماہانہ بھرنے پر مجبور نہیں ہیں ؟ کسی شکوہ شکایت کی افسران کو آگاہی ممکن بنائی جائے تو کوئی بات نہیں کرتا اور بالفرض کوئی بات کرنے کا احسان کر بھی لے تو کیا افسران کی جانب سے متاثرین کو لولی پاپ کے بنڈل نہیں ملتے، ہم کسی سے نفرت کر رہے ہوں یا پھر پیار،کسی غمی کی رسم میں شریک ہوں یا خوشی و پر مسرت لمحات کے مقامات پھر بھی لولی پاپ دے اور لولی پاپ لے رہے ہوتے ہیں 
قارئین اب آپ ہی انصاف کیجئے کیا میرے یہ ٹوٹے پھوٹے اور بے ترتیب الفاظ میرے مقصد و مدعا کی غمازی نہیں کرتے؟؟؟ بولئے نہ کہیں آپ بھی تو لولی پاپ دینے کے چکروں میں نہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

البتہ کبھی آئینہ کے سامنے کھڑے ہو جائیں تو انہیں اپنے نقش و نگار پر بڑھاپے کی پر چھائیں اور مایوسیوں اور نا میدیوں کے سائے ضرور گردش کرتے دکھائی دیتے ہیں ساری زندگی جوانی ،جوش اور طاقت صرف کرنے کے بعد بھی نہ وہ بدلے اور نہ ہی ان کا پریوار بدلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! بدلے تو بس اس کار خانہ اور فیکٹری کے نصیب بدلے پہلے ایک فیکٹری تھی تو اب چار ہیں پہلے ایک کار تھی تو ابھی لش پش کرتی قیمتی گاڑیوں کی اک لمبی قطار اس کی منتظر ہے ان بیچارے محنت کشوں کے نصیب میں تو وہی محرومیوں اور بے چارگیوں میں پرورش پانے والے ادھورے سپنے اور ارمان ہیں جو کبھی پورے نہیں ہوتے اور موت کا فرشتہ پہنچ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
کیا آپ نے سر بازار راہ گیروں کو نہیں دیکھا جو اس دیدہ دلیری سے دوسروں کو لولی پاپ چٹا رہے ہوتے ہیں جیسے شہد کی مکھیاں چھتے میں شہد پر مر مٹی ہوں ،ٹرانسپورٹ پر سفر کرتے ہوئے سواریوں سے من مانے کرایہ جات وصول کرنا،بازاروں میں سستی اشیاء غلط بیانیوں کی وجہ سے مہنگے داموں فروخت ہونا، انصاف کے کٹہروں میں انصاف کرنے والوں کا سائیلین کو لارے لپے لگانا، 
قانون کے رکھوالوں کا پیسے لیکر ظالم کا ساتھ دینا اور مظلوموں کو محض جھوٹی تسلیاں دینا یا الٹا ان پر مقدمات قائم کرنے کی روش اختیار کرنا یہ بھی تو آخر لولی پاپ کی قسمیں اور بہروپ ہی تو ہیں اور انہیں کیا نام دیں ۔۔۔۔۔!
لولی پاپ بچوں کی وہ من پسند و مرغوب ٹافی ہے جو نہ صرف ان کے من کو بھاتی ہے بلکہ وہ بڑے مزے لے لے کر اسے چوستے ہیں ۔ یہ تو ہوئی بچوں کی کیفیت مگر حقیقت یہ ہے کہ اس وقت من حیث القوم ہم سب لولی پاپ ایک دوسرے کو دے اور لے رہے ہوتے ہیں آپ بھی حیرت کے سمندر میں یقیناًاس وقت غوطہ زن ہو رہے ہونگے کہ میں یہ کیا عجیب انکشاف حقیقت کر رہا ہوں کہیں میں بھی تو آپ کو لولی پاپ نہیں دے رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
ہماری سوسائٹی میں اس وقت ہر وہ فرد جو کسی میل میلاپ میں کوشاں رہتا ہے وہ اپنے سامنے والے کو لولی پاپ اس ماہرانہ انداز سے دیتا ہے جیسے ماں اپنے پیارے اور لاڈلے بچے کو خوراک کے نوالے منہ میں ڈال رہی ہو ہمارے حکمرانوں کو ذرا ملاحظہ فرمائیں جب عوام کے سامنے حاضر ہوتے ہیں تو عوام کی نفسیات اور تقاضوں کو بھانپتے ہوئے بر ملا انہیں یوں لالی پاپ دیتے ہیں جیسے کوئی ماہر فنکار سٹیج پر کھڑا ہو کر عوام کو اپنے لطائف،چٹکلوں اور مزے دار باتوں سے محظوظ کر رہا ہو بھلا ہمارے حکمران و سیاستدان بھی کیا کسی فنکار سے کم ہیں ؟ بیچارے عوام کو لولی پاپ دینا ہو یا گولی کسی ماہر جرنیل کی طرح عوام کو لولی پاپ چوستے چھوڑ کر یوں غائب ہو جاتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ، اسمبلی کے اندر حکومت کے اراکین اپوزیشن کو اور اپوزیشن حکومت کو لولی پاپ کے طفیل ہی اپنا وقت ایوان میں پاس کرتے ہیں، صحت عامہ کے مراکز میں ڈاکٹر طبی سہولیات کی عدم دستیابی پر مریض کو اور تعلیمی اداروں میں اساتذہ نصاب پر دسترس نہ رکھنے پر اپنے شاگردوں کو لولی پاپ کے سہارے ہی تو اپنی ظاہری آن بان اور شان کو قائم و دائم رکھنے میں کوشاں نظر آتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے نان کے حصول کو بھی تو کنفرم کرنا ہوتا ہے ورنہ ان کے اہل خانہ بھوکے ،ننگے ہی مر جائیں ، کارخانوں اور فیکٹریوں میں مالکان اپنے زیر اثر کام کرنے والے مزدورں کو سنہرے مستقبل کے سہانے سپنے سجا کر یوں لولی پاپ دیتے ہیں کہ بیچارے غریب محنت کش ان حسین سپنوں کو سچ کرنے میں یوں جت جاتے ہیں کہ انہیں وہ منزل دور دور تک دکھائی نہیں دیتی
Comments