مقبول بٹ سے افضل گوروتک

posted Mar 13, 2013, 5:19 PM by PFP Admin   [ updated Mar 13, 2013, 5:21 PM ]
بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ افضل گورو کے خلاف کوئی ٹھوس شہادتیں یا ثبوت موجود نہیں تھے اور انہیں محض’’ قرینی شہاتوں Circumstantial Evidences‘‘کی بناء پر بھارتی عوام کے ’’اجتماعی شعور ‘‘کی تسکین کے لئے پھانسی کی سزاء سنائی جاتی ہے ۔مگر جس’’اجتماعی شعور‘‘ کی تسکین کے نام پر ایک بے گناہ کا خون بہایا گیا آج وہی اجتماعی شعور اس فیصلے پر مختلف سوالات اٹھا رہا ہے ۔ ’’ارون دھتی رائے‘‘ کی طرح کئی دیگر بھارتی دانشور ، وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنان اسے عدالتی قتل سے تشبیہ دے رہے ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مقبول بٹ اور افضل گورو کو سزائے موت سنائے جانے کے مقدمات میں مماثلت محض اتفاقیہ ہے یا پھر ’’جمہوریہ عظمیٰ بھارت‘‘ کا کوئی طے شدہ منصوبہ۔غیر جانبدار حلقوں کا کہنا ہے کہ اسے سوئے اتفاق کہاجائے یاحسن اتفاق کا نام دیاجائے کہ مقبول بٹ شہید کو11فروری1984ء کوتختہ دار پر چڑھایاگیا جب کہ افضل گرو کے نام کا قرعہ9فروری2013ء کانکلا۔
ماہرین قانون اس بات پر بھی بحث کر رہے ہیں کہ آیا افضل گورو اور مقبول بٹ کے مقدمات میں انصاف کے تقاضے پورے کئے گئے ہیں یا پھر محض Face Savingکی خاطر دو معصوم انسانوں کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ اور کیا بھارتی نظام انصاف منفرد نوعیت کے ان فیصلوں کو آئندہ بھی پھانسی کے مقدمات میں بطور نظیر پیش کرتا رہے گا ؟؟؟؟؟۔
یہ حقیقت بھی سب پرعیاں ہے کہ مقبول بٹ کی پھانسی تحریک آزادی کشمیر کابڑاموڑثابت ہوئی۔ جس کے بعد اس میں بے پناہ شدت آئی، بظاہریہی لگتا ہے کہ افضل گرو کا خون بھی رائیگاں نہیں جائے گا اور ان کی شہادت آزادیِ کشمیر کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔بہرحال مقبول بٹ اور افضل گرو جیسے جانبازوں نے راہِ آزادی میں جانوں کانذرانہ پیش کرکے دنیا کودیکھادیا ہے کہ بھارت اگر مقبول بٹ اور افضل گورو کی پہلو بہ پہلو قبروں کی طرح تہاڑ جیل کے خالی احاطے کو کشمیری حریت پسندوں کے قبرستان میں بھی تبدیل کر دے تو کشمیر سے تحریک آزادی کو ختم اور جذبہ حریت اور جذبہ حصول حق خود ارادیت کو کبھی ماند نہیں کر سکے گا ۔ البتہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویداروں کے نظام عدل انصاف کے منہ پر طمانچے ، عدالتی نظام پر پھٹکار اور سوالیہ نشانات کے انبار چھوڑ جائے گا ۔ 
پکارتا رہا بے آسرا یتیم لہو
کسی کو بہر سماعت نہ وقت تھا نہ دماغ
نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا
یہ خوں خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا۔

(مضمون نگار مظفرآباد میں فری لانس صحافی ہیں اور قیام امن کے لئے سرگرم ادارہ’’پریس فار پیس ‘‘ کے ساتھ وابستہ ہیں jalaluddin.mughal@pressforpeace.org.uk
برطانوی اقتدار سے آزادی حاصل کرنے کی ساڑھے 65برس کی بھارتی تاریخ پر نظرڈالیں تو ناقدین کی یہ رائے حقیقت پر مبنی نظرآتی ہے کہ دہلی کے سیاسی حکمرانوں اور برہمن منصفوں نے یہ وطیرہ اپنارکھا ہے کہ ان کے یہاں پرندوں اور جانوروں کومارنے پرتواچھی خاصی پابندی ہے، مگربے گناہ انسانوں کے خونِ ناحق سے ہولی کھیلنا بھارتی بالادست طبقات کا طرّہ امتیاز نظرآتاہے۔۔بہرکیف افضل گرو سے پہلے11فروری1984ء کو سفاک بھارتی حکومت نے کشمیری مجاہد مقبول بٹ کوبھی جرمِ بے گناہ ہی میں تختہ دار پر لٹکایاتھا اور انہیں بھی تہاڑجیل دہلی کے اندرہی دفن کردیا گیا تھا۔ مگر کیا یہ پھانسیاں کشمیری تحریکِ آزادی کو کچلنے میں معاون ثابت ہوئیں، اس کا جواب یقیناًنفی میں ہے۔ بلکہ مقبول بٹ کی شہادت کے بعد ہی تحریک آزادی میں نئی جان پیداہوئی۔ اور اس راہِ آزادی میں اب تلک ایک لاکھ سے زائدکشمیری اپنی جان کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں، اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔واضح رہے کہ ’’افضل گرو‘‘مقبوضہ کشمیر کے ضلع"سوپور"کے گاؤں"آباغ"میں 1969ء میں پیداہوئے ،ان کے والد حبیب اللہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ ۔بھارتی پارلیمنٹ پر مبینہ طورپر 13دسمبر2001ء کو حملہ ہوا، اس میں ملوث ہونے کے الزام میں افضل گرو گرفتار کرلئے گئے۔2002ء میں خصوصی عدالت نے انہیں موت کی سزاسنائی۔2003میں دہلی ہائی کورٹ نے اس کی تائید کردی جب کہ 2005ء میں بھارتی سپریم کورٹ نے بھی انصاف کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کی اپیل خارج کردی۔ 2006ء میں بھارتی سپریم کورٹ نے داخلی سیاسی وجوہات اور عالمی رائے عامہ کے ممکنہ دباؤکے پیش نظران کی سزائے موت پر عمل تاحکمِ ثانی معطل کردیا۔ اس دوران بھارتی صدر"پرنب مکرجی"نے23جنوری2013ء کو ان کی رحم کی اپیل بھی خارج کردی۔ اور ان کی موت کے بلیک وارنٹ جاری کردئے گئے۔اس معاملے کا افسوس ناک پہلویہ ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے ان کوموت کی سزادینے کے حکم نامے میں لکھا کہ اگرچہ13دسمبر2001ء کے بھارتی پارلیمنٹ حملے میں ملوث ہونے کے کسی قسم کے ٹھوس شواہد افضل گرو کے خلاف نہیں ملے، مگربھارت کے اجتماعی عوامی شعور احساسات کی تسکین کی خاطر انہیں سزائے موت دیناضروری ہے۔ یوں کسی قانونی اور اخلاقی ضابطے کے بغیر9فروری2013ء کی صبح افضل گرو سے زندہ رہنے کا بنیادی انسانی حق چھین لیاگیا۔نامور بھارتی انسان دوست دانشور بشمول"ارون دھتی رائے"کی رائے ہے کہ افضل گرو کوتختہ دار پر لٹکا کرخودبھارتی سالمیت کے مستقبل کو پھانسی کے پھندے پر لٹکادیاگیا ہے،نہ صرف ان کے عزیزواقارب کومروجہ طریقے سے آخری ملاقات نہیں کرائی گئی، بلکہ ان کے جسد خاکی کو بھی مقبول بٹ کی مانند تہاڑجیل کے اندر ہی دفن کردیا گیا۔گویابہادرشاہ ظفر کے بقول۔ 
پسِ مرگ قبرپہ اے ظفر،کوئی فاتحہ بھی کہاں پڑہے 
وہ جوٹوٹی قبرکا تھانشان، اسے ٹھوکروں سے اڑادی

سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے حصول کے خواہشمند اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار بھارت کے کالے قوانین اور نظام انصاف پر سوالات اٹھنا تو ایک معمول کی بات ہے مگر ریاست جموں وکشمیر کے مقبوضہ علاقے میں ریاستی جبر و تشدد اور کشمیر حریت پسندوں پر کالے ریاستی قوانین کا جبری نفاذ بھارت کے عدالتی نظام پر ایک تاریخی دھبہ اور سوالیہ نشان ہے جس پر کشمیری عوام اور انسانی حقوق کے ادارے وقتاً فوقتاً آواز اٹھاتے رہے ہیں تاہم عالمی طاقتوں اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کا ڈھنڈورہ پیٹنے والوں نے شائد آج تک کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کو تسلیم نہیں کیا۔ اور یہی وجہ ہے کہ بھارت جب چاہے کسی بھی حریت پسند کارکن یا لیڈر کو من گھڑت مقدمات کے ذریعہ پھانسی پر لٹکا دیتا ہے۔ بھار ت کے ریاستی جبر کا شکار ہونے والے حریت پسند نوجوانوں کا ایک لامتناعی سلسلہ تو تو ایک عرصہ سے جاری ہے اور برہمنی انصاف کی مثالیں 15اگست1947ء کو بھارت کے قیام سے لے کرآئے روز کسی نہ کسی شکل میں سامنے آتی رہتی ہیں۔ مگر11فروری 1984ء اور 09فروری2013ء کے دن اس حوالے سے اور بھی سنگین ترین ثابت ہوے،جب دو بے گناہ کشمیری حریت پسند نوجوانوں مقبول بٹ شہید اور افضل گروکو دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑجیل میں تختہ دار پر لٹکانے کے بعد پہلو بہ پہلو سلا دیا گیااور ورثاء کو آخری ملاقاتیں ادا کرنے کی اجازت دی گئی نہ آخری رسومات میں شریک کیا گیا۔ اور یوں جدوجہدآزادی کشمیر میں ایک ایسے ابواب کا اضافہ ہواجنہوں نے بھارت کے عدالتی نظام اور نظام انصاف پر پہلے سے موجود دھبوں کو مزیر واضح کر دیا اور کئی سوالیہ نشانات چھوڑ دیے جن کے منطقی نتائج بہرصورت بھارت کی ریاست، معاشرت اور سیاست پر مرتب ہوکررہیں گے۔اس صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے مبصرین کا خیال ہے کہ ہے کہ اگرچہ انسانی تاریخ کے مطالعے سے یہ تلخ سبق حاصل ہوتا ہے کہ بالعموم تاریخ سے بہت ہی کم افراد یا اقوام سبق حاصل کرتی ہیں، وگرنہ دنیا میں تلخ حوادث اتنے تسلسل کے ساتھ رونمانہ ہوں۔ مگر بھارت تو اس حوالے سے کچھ زیادہ ہی آگے نکل چکا ہے۔
Comments