عکس خیال

posted Mar 16, 2014, 3:27 PM by PFP Admin   [ updated Mar 16, 2014, 3:46 PM ]
تحریر: راحت فاروق ایڈووکیٹ///معاشرتی رویوں کی آگ میں جھلسنے والی مظلوم  عورت کئی بار مرتی اور سانسوں کی گنتی پوری کرنے کیلئے دوبارہ زندہ ہونے پر مجبور ہوتی ہے اور اپنے ان مسائل کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کو ترجیح دیتی ہے
المیہ یہ ہے کہ کل آبادی کا 52% خواتین پر مشتمل ہے جبکہ 5%سے بھی کم عورتیں زمین پر مالکانہ حقوق رکھتی ہیں عورت فاؤنڈیشن کی جانب سے 2012کی عورتوں کے خلاف تشدد رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں گھریلو تشدد کے 25.5%واقعات اور تیزاب پھیکنے کے 26.51%واقعات درج ہوئے جوسر اقتدار طبقات اور عورتوں کے حقوق کی تنظیموں کیلئے لمحہ فکریہ اور سوالیہ نشان ہیں۔محض قانون سازی مسئلے کا حل نہیں بلکہ سماجی سطح پر پائے جانے والے تصورات اور رویوں کی اصلاح ضروری ہے انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کا احساس ضروری ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ اہم فیصلہ ساز اداروں میں کلیدی عہدوں پر خواتین کو تعینات کیا جائے جو خواتین اسمبلی میں موجود ہیں یا دیگر کلیدی عہدوں پر تعینات ہیں ۔عملی طور پر ان کی موجودگی اور اس کے ثمرات کا نظر آنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آزاد ریاست جموں وکشمیر میں اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں میں آبادی کے تناسب سے اضافہ کیا جانا چاہیے۔اس کے علاوہ ہر محکمہ میں خواتین کا کوٹہ مخصوص کیا جائے یہ المیہ ہے کہ کشمیر کونسل جیسے اہم ادا رے میں اور ریاست کے اہم ستون اعلیٰ عدلیہ میں خواتین کی نمائندگی موجود ہی نہیں اسی طرح علیحدہ پولیس اسٹیشنز کا قیام انتہائی ضروری ہے۔
خواتین کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ان کے وراثتی حقوق کے شعور سے آگاہی دی جائے اور قرآن پاک کے اس متعین کردہ حق کو ہر حال میں ممکن بنایا جائے۔ اگرچہ عشق رسول کے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں مگر ان پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے اگر اسلامی تعلیمات کے مطابق خواتین کے حقوق دیے جائیں تو معاشرہ عروج کی بلندیوں پر اورامن کا گہوارہ بن سکتا ہے دوسری طرف خواتین کو بھی اپنے حقوق کاشعور اور فرائض اور ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔آج ہمارے انحطاط پذیر معاشرے کو اخلاقی پستی سے باہر لانے کیلئے محمد بن قاسم اور محمود غزنو ی جیسے بہادر اورجری انسانوں کو وجود بخشنے اور تربیت کرنے والی ماؤں کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اس دن کو محض رسم کے بجائے دعوت عمل قرار دے اس کے مقاصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔
۔ان تمام تعلیمات پر عمل پیرا نہ ہونے کی وجہ سےہی ہم اخلاقی انحطاط اور زوال کا شکار ہیں تاریخ گواہ ہے کہ جس معاشرے میں بھی عورت بے توقیر ہوئی اس کی حق تلفی کی گئی وہ معاشرہ برسوں میں نہیں دنوں میں انحطاط پذیر ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ آج عالمی سطح پر 
i) universal declaration of Human Rights 1946.
ii) Convention on the elimination of All form of discrimination against women 1979.
iii) Int. Court for crimes against women 1976
موجود ہیں۔اسی طرح پاکستان کا آئین 1973کا آرٹیکل Equality of citizen 25سے متعلق ہے پاکستان میں خواتین کو تیزاب سے جلانے والے بھیانک جرم کے مرتکب افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات میں تبدیلی کی گئی۔ ایسے مجرم کو دس لاکھ جرمانہ اور 14سال قید کی سزا دی جائے گی۔ ونی، سوارہ، جبری یا قرآن سے شادی اور خواتین کو املاک میں حق وراثت سے محروم رکھنے پر دس لاکھ جرمانہ ہو گا اوریہ جرائم ناقابل ضمانت ہوں گے۔ کام کی جگہوں پر ہراساں کرنے کا قانون 2010ء میں نافذ ہوا ۔اسی طرح آزاد کشمیر میں 
i) Family court Act 1993
ii) Dissolution of Marraige Act 1939.
iii) Acid Thowing Act
iv) Domestic violance Act
v) AJK establishment of a commission on th status of women ordinance 2013.
vi) protection against Harrasment of women at work places Act 2014.
موجو د ہیں۔ مگر ان تمام قوانین کے باوجود خواتین کے مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ان کے حقوق کے حوالے سے ہونے والی قانون سازی کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ اس طرح استحصال کا شکار ایک گھریلو عورت جو صبح سے شام تک اپنے اعمال حسنہ سے اپنے گھر کی کائنات کی کوری تصویروں میں نقش بھارتی اوراپنا آرام و سکون تیاگ کر گھر کو امن کا گہوارہ بناتی ہے۔ یا ورکنگ ویمن جو اپنے کندھوں پر دوہری ذمہ داری اٹھائے اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہے ۔اس کے حقوق ہر صورت بری طرح پاما ل ہو رہے ہیں ۔عورت کسی بھی جگہ محفوظ نہیں ۔اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے صرف 2013اور جنوری 2014میں 3567 فیملی مقدمات آزاد کشمیر میں دائر ہوئے جن میں سے 1710مقدمات ابھی زیر کار ہیں لا تعداد مقدمات پولیس کے پاس درج ہیں۔ اور پولیس کے رویے اور عدالتی پیچیدگیوں کی وجہ سے کئی دلخراش واقعات کو رپورٹ ہی نہیں کروایا جاتا اور 
خواتین کا عالمی دن ۔۔۔
 ایک رسم یا دعوت عمل 
معاشرتی رشتوں، تعلقات اور اداروں کے حوالے سے عالمی سطح پر جو دن منائے جاتے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ایام کو منائے جانے کی غرض و غایت اور افادیت و اہمیت کیا ہے اور ہماری روزمرہ زندگی سے اس کا کیا تعلق ہے۔یہ امر ایک حقیقت چلی آر ہی ہے کہ ہمارا معاشرہ عقل و شعور سے عاری فہم وفراست سے مبرا بے ڈھنگی بھیڑ چال کا شکار بنتے ہوئے جس مقام پر اب پہنچ چکا ہے اگر بر وقت اس کا تدارک نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف تو کیا کریں گی خاکم بدہن کہیں ہمیں یاد کرنے والی نسلیں ہی باقی نہ رہیں تقصیر معاف 8مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے جو میری دانست میں اس امر کا ثبوت ہے کہ کرہ ارض کے بسنے والے انسان استحصال کی جس مختلف حیثیتوں اور سطحوں پرشکارہے یا کرتا ہے ۔ان میں سے ایک جنسی لحاظ سے غاصبانہ اور غیر فطری تفریق و امتیاز ہے جس باعث انسانی آبادی کا ایک معتدبہ حصہ کرہ ارض کو جنت بنانے کے خواب میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔اس دن کا منایا جانا جس کا آغاز 1908میں نیو یارک میں خواتین نے اپنے حقوق کے حصول کیلئے مظاہرے کیے جن میں خواتین کے سیاسی ،معاشی،معاشرتی اور ووٹ کے حقوق کیلئے مطالبات کئے گئے اس کے بعد کوین ہیگن میں سو شلسٹ ویمن کی سیکنڈا نٹرنیشل کانفرنس میں ویمن کے وفود گئے اور تجویز کیا کہ اس دن کو بین الاقوامی سطح پر منایا جائے جس کے نتیجے میں خواتین کے حقوق کو اجاگر کرنے کیلئے عالمی سطح پریہ دن منایا گیا ۔اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے عورت کو بیش بہا عزت ،تقدس اور لازوال رحمت کا مقام عطا کیا مگر آج بھی اگر معاشرے میں نظر دوڑائی جائے تو عظمت ورفعت کے درجات پر متمکن یہی بنت حوا انتہائی غیر مخفوظ اور ہرطرف استحصال اور ظلم کا شکار نظر آ تی ہے۔ جو نبی کریمﷺ کے ہر پیروکار کے لئے سوالیہ نشان ہے۔ اور آٹھ مارچ کو اس دن کے منائے جانے کا مقصد بنیادی طور پر افراد معاشرہ کو جھنجوڑنا ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات سے انحراف کے مرتکب ہو کر اس عظیم مقام کو بھول چکے جو نبی کریم ؐ نے عورت کو عطا کیا تھا۔ اگرچہ ہماری رہنمائی کیلئے قرآن کریم موجود ہے اور عورت کی عزت اور اہمیت اور مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے۔ کہ قر آن پاک کی 114سورہ میں سے کسی کا نام ’’الرجل‘‘نہیں مگر تخلیق کے عظیم عمل میں قدرت کی شریک کار عورت کو اس عظیم درجہ پر متمکن کیا گیا کہ قرآن پاک کی سورۃ کو سورۃ النساء کانام دے کر وراثت اور زندگی گزارنے کے تمام اصول و ضوابط کے ساتھ ساتھ عورتوں کے حقوق کا تعین کر دیاگیا ۔اس کے بعد رسول کریمؐ کی بحیثیت والد اور بحیثیت شوہر زندگی ہمارے لیے بہترین مشعل راہ ہے اور خطبہ حجۃ الوداع دنیا کا ’’فرسٹ چارٹر آف ہیومن رائٹس‘‘ کی صورت میں بہترین رہنمائی موجود ہے ۔
Comments