خارجہ پالیسی : نئے خطرات

posted Feb 9, 2013, 1:17 PM by PFP Admin
گوادر پورٹ کی معاشی اور تزویرائی حیثیت مسلمہ ہے لیکن جب تک بلوچستان میں لگی آگ کو بجھایا نہیں جاتا ، ایران پائپ گیس لائن کی کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی کیونکہ ایران سے آنے والی گیس لائن کا ایک بڑا حصہ بلوچستان کے اس حصے سے گزرے گا جو بلوچ مزاحمت کاروں کی جولاں گاہ بنا ہوا ہے ، گوادر پورٹ کی سنگا پور چین کی منتقلی کی صورت میں شنگھائی اس پورٹ کو اپنے مقاصد کے ساتھ ساتھ تزویرائی مقاصد کیلئے بھی استعمال کرے گا ، جو 1914ء میں افغانستان سے افواج کی واپسی کے باوجود خطے میں موجود رہنے کیلئے امریکی عزائم سے متصادم ہیں ، امریکی کونسل جنرل مائیکل ڈیننر نے پاکستان کو واضح الفاظ میں تنبیہ کی ہے کہ ایران سے گیس خرید کے منصوبے کے بعد اسلام آباد کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، پیپلز پارٹی اور حکومت کے عالی دماغوں کو اس منصوبے کے بارے میں عالمی اور علاقائی حرکیات کا ادراک بظاہر نظر نہیں آتا ہے ۔
سیاسی و اخلاقی اصولوں کا تقاضہ یہی ہے کہ حکومت کو یہ اہم فیصلہ آنے والی جمہوری حکومت پر چھوڑ دینا چاہیے ، اس صورت میں پاکستان کو ایران کے جوہری پروگرام پر سفارتی اور سیاسی صورتحال اور پابندیوں کا منظر نامہ مزید واضح ہو جائے گا اوربدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں معاشی اور سفارتی حکمت عملی کی تشکیل نو کیلئے 
اسلام آباد کو مناسب وقت مل جائے گا ، پاکستان کو اس منصوبے کو عالمی اداروں سے ماحول دوست ایندھن اور توانائی کے دیگر میگا پراجیکٹس کیلئے وسائل کی فراہمی کے ساتھ مشروط کرنا چاہیے کیونکہ کئی ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں نے پہلے ہی پاکستان کیلئے توانائی کے سیکٹر میں سرمایہ کی فراہمی سے انکار کردیا ہے جس کے ملکی معیشت اور سماجی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب ہو ں گے ۔
(مضمون نگار پریس فار پیس کے بانی ہیں۔رابطہ : www.pressforpeace.org.uk )
***
سلامتی کونسل میں روس اور چین نے ویٹو پاور کے استعمال سے ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی اخلاقی قوت کو فراہمی کے خلاف وقتی روک لگا رکھی ہے ، عالمی برادری میں انڈیا، روس ، چین اور ترکی کے علاوہ کوئی دوسرا ملک ایران کو تیل فراہم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ، برطانیہ ، امریکہ اور کئی یورپی ممالک میں کئی طاقتور بنکوں اور کاروباری اداروں کو ایران کے ساتھ لین دین کی پاداش میں کئی ملین ڈالر کے غیر معمولی جرمانے ہوئے ہیں۔ تہران کے خلاف ان اقتصادی بندشوں کے اخلاقی اور انسانی جوا ز پر دنیا کے انصاف پسند دانشور اور ادارے کئی سوال اُٹھاتے ہیں ، لیکن حاصل یہی ہے کہ موجودہ سیاسی اور معاشی عالمگیریت کے نظام میں کوئی بھی ملک خواہ وہ قدرتی وسائل سے کتنا ہی مالا مال کیوں نہ ہو بین الاقوامی برادری کے مغائر چلنے کی جسارت نہیں کر سکتااور اگر کرے بھی تو اقتصادی زنجیروں کے ذریعے ا س کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر نا استعما ر کیلئے مشکل نہیں ہے ۔ 
اس علاقائی اور بین الاقوامی پس منظر میں دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان جیسا ملک جس کا بدن دہشت گردی کے زخموں سے لہو لہان اور معاشی دیوالیہ پن کی دہلیز پر کھڑا ہے ، ایران گیس پایپ لائن کی بین الاقوامی معاشی ، سیاسی اور سٹریٹجک حرکیات کو برداشت کرنے کی سکت رکھتا ہے یا نہیں جس کا جواب یقیناًنفی ہے کیونکہ زرداری حکومت کے دور میں ملکی قرضوں کے حجم تیرہ ٹریلین روپے کی ریکارڈ رقم تک پہنچ گیا ہے ، زر مبادلہ کے ذخائر صرف آٹھ دس ڈالر رہ گئے ہیں، آئی ایم ایف سے نئے قرضوں کی امید ٹوٹ چکی ، کیونکہ اسلام آباد کے پاس قرضوں کو بیل آؤٹ کروانے کے علاوہ کوئی اور آپشن موجود نہیں ہے ، دوسری طرف ا س بدترین اقتصادی بحران سے نمٹنے کیلئے جیالی حکومت کی منصوبہ بندی یہ ہے کہ حکومتی اشرافیہ میں شامل جیالوں اوران کے ہمدردوں کو اربوں روپے مالیت کی ٹیکس معافی دے گی جن کے قرضوں کی مجموعی مالیت عالمی بنک سے لئے قرضوں کے حجم سے بھی زائد ہے۔ملک بد ترین توانائی بحران کا شکار ہے یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گیس جو ملکی پیداواری سیکٹرکا انجن ہے ، کی قلت میں 1920ء تک 75فیصد کا اضافہ ہو جا ئے گا ۔
تحریر: ظفر اقبال

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اور گوادر کو چین کے حوالے کرنے کے حکومتی فیصلے کا مستقبل خطرات سے خالی نہیں ہے، لوڈ شیڈنگ کے اندھیروں میں روشنیاں بکھیرنے اور نحیف و نزار ملکی معیشت کو وقتی سہارے کے لیے بظاہر خوش کن فیصلے پاکستان کو عالمی تنہائی کے اندھے کنویں میں دھکیلنے کے مترادف ہے ،عوام کے ارمانوں کا خون کرنے والی زرداری حکومت نے اپنے عہد کرب و بلا کی معیاد کو پاکستان کو کرپشن کی عالمی درجہ بندی میں 34ویں کرپٹ ترین ملک کے درجے تک پہنچا نے میں گزار دیا اور اب جب کہ الیکشن کی آمد آمد ہے ، خراب ترین طرز حکمرانی کے داغدار سیاسی ورثے کے ساتھ جیالی حکومت عوامی عدالت میں ووٹ کی بھیک مانگنے نکلنے والی ہے، یہ تازہ ترین حکومتی فیصلے آمدہ انتخابات میں عوام کو دھوکہ دینے کا ایک سیاسی حربہ ہے ، ایران کے عالمی برادری کے ساتھ بگڑے ہوئے معاشی اور سیاسی تعلقات کے تناظر میں یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو آنے والی جمہوری حکومت کیلئے یقیناًایک کڑوی گولی ثابت ہو سکتاہے ، با لخصوص پاک امریکہ تعلقات کو مزید کشیدہ کرنے کیلئے یہ فیصلہ مہمیز کا کام دے گا ۔
پاک ایران گیس منصوبہ کئی دہائیوں سے اقتدار کی راہ داریوں میں زیر بحث رہا ہے ، تاہم ایران کے جوہری پروگرام پر مغربی ناراضگی کی وجہ سے ماضی کی کئی حکومتوں نے اس بھاری پتھر کو کئی بار چوما اور بین الاقوامی سیاسیات کی مصلحتوں کی آغوش میں چھوڑ دیا ، تہران کے جوہری پروگرام کی وجہ سے ایران پر عائد تیل کی ضرورت اور کاروبای لین دین پر پابندیوں کی وجہ سے ایرانی معیشت زوال پذیر ہے ، ایران کو ایک پسماندہ ملک سے ایک ترقی پذیر معیشت بنانے میں اس کے تیل کا کلیدی کردار رہا ہے ، لیکن عالمی پابندیوں کے باعث اس تیل کی پیداوار ملکی تاریخ کی کم ترین شرح کو چھو رہی ہے ،ڈالر کے مقابلے میں ایران کرنسی روز بروز گر رہی ہے، عوام کمر توڑ مہنگائی کے ہاتھوں تنگ آ چکے ہیں، امریکہ مخالف جذبات رائے عامہ کو خوش کرنے کے لیے ایرانی انتظامیہ ان اقتصادی پابندیوں کے اثرات سے یکسر انکاری ہے لیکن ملک میں ادویات کی کمی کے باعث بڑے پیمانے پر ہلاکتیں حالات کی سنگینی کی عکاس ہیں۔
Comments