جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے

posted Feb 11, 2013, 12:23 AM by PFP Admin   [ updated Feb 11, 2013, 12:33 AM ]
 جنگ تو خود ایک مسلہ ہے جنگ کسی مسلے کا حل نہیں اس لیے اس کے ٹلتے رہنے کی دعا مانگتے رہنا چاہیے

نسل در نسل غلامی بد عنوانی اور ہماری منا فقت نے ہماری شناخت تو ختم کر ہی دی تھی اب ہماری حالت بھی قابل رحم بنا لی ہے ہمارے گھر کی کنڈیاں اندر سے کھلتی ہیں اور ہم دوشی غیروں کو جانتے ہیں اللہ نے چاہا تو کشمیر ایک دن ضرور آزاد ہو گا بس اس وقت کا انتظار کہ اللہ یہ کام کس سے اور کب لے گا ہم بحثیت کشمیری یہ سمجھتے ہیں کہ جن لوگوں نے ہمارا مقدمہ سفارتی معاذ پہ لڑنا تھا وہ اس میں بری طرح نا کام ہو چکے ہیں ہم دونوں ملکوں کی حکومتوں سے یہ کہتے ہیں کہ یہ دور زمینی جنگوں کا نہیں سوجھ بو جھ رکھنے والے عناصر نے کبھی جنگ کی طرف داری نہیں کی اصل مسلے کے طرف توجہ دیتے ہوے مسلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں کشمیریوں کوپر امن رائے شماری کا حق دیا جائے یہی وقت کا تقاضا بھی ہے اور حالات کی نزاکت بھی کیونکہ جنگ تو خود ایک مسلہ ہے جنگ کسی مسلے کا حل نہیں اس لیے اس کے ٹلتے رہنے کی دعا مانگتے رہنا چاہیے اور بقول ساحر لدھیانوی 
خون اپنا ہو یا پرایا ہو 
امن عالم کا خون ہے آخر
کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے
زیست فاقو ں سے تلملاتی ہے
جنگ خود ہی ایک مسلہ ہے
جنگ کیا مسلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی 
اس لیے اے شریف انسانو
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے 
قارئین کرام۔۔۔۔آج پاک و ہند کی فضاؤں میں بارود کی بو سونگھی جا رہی ہے اگرچہ سرحد میں چھائے خطرے کے بادل چھٹ گئے ہیں اور کشیدگی کم کرنے کی طرف دونوں طرف سے ہاتھ بڑھایا جا رہا ہے اس سے یقیناًدونوں طرف ماحول خوشگوار ہوگا اور وہ جوآگے بڑھنے کی سوچ رکھے ہوئے ہیں انہیں اس بات سے کسی حد تک اطمینان بھی ہوا ہو گا کیونکہ جنگ اور جنگ کی باتیں وہی لوگ کرتے ہیں جو کشیدگی اور تناؤ کو فروغ دیتے ہیں انڈیا کی جانب سے سرحد پر جو اشتعال انگیزی ہوئی اس واقعہ سے مشتعل ہونا فطری امر تھا لیکن ہمارا سفارتی معاذ ہمیشہ کی طرح کمزور ہی رہا اور سرحد کے اس پار جو رد عمل ہوا وہ ہماری نرم پالیسیوں کا قصور تھا وہاں کی بی جے پی اور الیکٹرونک میڈیا نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا اور ستم یہ کہ بھارتی وزیراعظم نے بھی اپنے منصب کا خیال رکھے بغیر یہ تک کہہ دیا کہ اب پاکستان کیساتھ معمول کے رشتے ممکن نہیں وہ پاکستان جو گزشتہ دس برس کے دوران اپنی سر زمین پر پچاس ہزار سے زائد افراد دہشت گردی کی نظر کر چکا ہے یہ تعداد پاک وہند کے درمیان لڑی گئی جنگوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے کہیں ذیادہ ہے جن لوگوں نے پاکستان میں دہشت گردی کی صنعت قائم کی تھی وہ آج منظر پر موجود نہیں ہیں لیکن یہ صنعت آج اتنی مضبوط اور توانا ہے اتنا ہی پاکستان اندر سے کمزور اور کھو کھلا ہو چکا ہے پاکستان نے جتنی طاقت پرائی جنگ میں خرچ کی جو جنگ ہماری کبھی تھی ہی نہیں اگر اسکی چوتھائی طاقت بھی اپنے ملک و قوم کی تعمیر اور تشکیل پر لگائی جاتی تو آج پاکستان ایک مضبوط اکائی کی صورت میں دنیا کے سامنے ہوتا اسے دوسروں کا دست نگر اور محتاج نہ بننا پڑتا دہشت گردی کو ایک سفارتی پالیسی کے طور پر اپنانے والے پاکستان کے دوست نما دشمنوں نے ملک کو آتش فشاں کے دھانے تک پہنچا دیا ہے پاک و ہند کے درمیان کشیدگی کی اصل وجہ مسلہ کشمیر ہے مسلہ کشمیر کے حل کے بغیر دونوں ملکوں میں امن قائم نہیں ہو سکتا آپ مذاکرات کے لیے ایک ہزار بار مل بیٹھے جب تک آپ ایک نکاتی ایجنڈے یعنی مسلہ کشمیر اس ایجنڈے کو لے کر آگے نہیں بڑھتے دونوں ملکوں کے درمیان قیام امن کے سارے فارمولے بیکار ہیں انڈیا اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کی تاریخ محض کھٹی میٹھی یادوں کے سواء کچھ بھی نہیں گرچہ مذاکرات کاکا ر آمد سلسلہ ہمیشہ پاکستان کی پہل سے شروع ہوتا ہے اور اس دفعہ بھی یہی ہوا تھا کہ ویزا ضابطوں میں نرمی ،تجارت اور کھیل کے نئے ادوار حالات کھبی کروٹ نہیں بدل سکتے جب تک کہ کشمیر کا مسلہ حل نہ ہو۔۔۔ رہی اس میں کشمیری قیادت کے کردار کی بات تو وہ ہم خوب جانتے ہیں کہ کچھ لوگوں کی روٹی اور کچھ لوگوں کی کرسی اس مقدمے سے مشروط ہے کشمیری قیادت خواہ اس پار ہو خواہ اس پار ہمیں خبر ہے دشمن کے سب ٹھکانوں کی شریک جرم نہ ہوتے مخبری کرتے
کی مصداق ہے 
امجد شریف ، اسپین
جنگیں بنیادی طور پر توازن اور برتری کے مقصد کے تحت لڑی جاتی ہیں آپ
 اگر یورپ ہی کی مثال لیں شہنشاہ ولیم نے جرمنی کو بلا منصوبہ پرا ئی جنگ کی آگ میں جھونکا تو اس نے نہ صرف برطانیہ کو اپنا حلیف بنایا بلکہ جاپان امریکہ سے بھی اس کی ٹھن گئی یہ تمام اقوام مسلح ہو گئی ہر گز رتے سال کے ساتھ انہوں نے بندوق ،اوزاروں ،جنگی جہازوں اور ایسے ہی دیگر اسلحہ کی تیاری کے لیے مختص قومی آمدنی کی شرح بڑھانی شروع کر دی اور آخر وہ وقت آہی پہنچا جب جرمنی اور آسٹریا نے فرانس، روس اور سربیا پر دھاوا بول دیا جرمن فوجیں بیلجیم میں داخل ہوئی تو برطانیہ فورا بیلجیم کی حمایت میں جنگ میں کودپڑا اور جاپان کو اپنا حلیف بنا لیا ۔جلد ہی ترکی نے جرمنی کی حمایت کا اعلان کر دیا اطالیہ نے 1915میں آسٹریا کے خلاف علم جنگ بلند کیا اسی برس بلغار یہ مر کزی طاقتوں سے جا ملا یوں1916اور 1917میں امریکہ رومانیہ اور چین بھی میدان جنگ میں کود پڑا مضمون میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ ہم اس عظیم سانحہ کے وقوع میں مختلف اقوام کے قصور کا اندازہ لگا ئیں اور میرے نزدیک دلچسپ سوال یہ نہیں کہ یہ عظیم جنگ کیوں چھڑی میں ان حالات کی تصویر کشی کرنا چاہتا ہوں جو ہم کر گزرنے کے بعد اکثر سوچا کرتے ہیں اس وقت بھی دو گروہ موجود تھے ایک اس جنگ کو محب الوطنی سے تعبیر کر رہا تھا تو دوسری طرف دوسر ا گروہ جو چند لوگوں کا مختصر گروہ تھا جو اس کو احمکانہ فعل قرار دے رہا تھا اور یورپی اتحاد کا علم اٹھا ئے ہوئے تھا اس وقت طاقت کا استعمال اچھا ہوا یا برا اسکا انحصار دنیا کی اخلاقی سیاسی سوچ پر تھا یورپی حکومت نفرت اور شک کی قدیم حکمت عملیوں کی پر ور دہ تھی انکے ہاتھوں میں جارحیت اور دفاع کی بے مثال طاقت سمٹ آئی تھی جنگ آگ کی طرح چار وانگ عالم میں پھیل گئی جس میں فاتحین اور
 مفتو حین ہر اعتبار سے گھا ٹے میں ہی رہے
پاک و ہند کے درمیان کشیدگی کی اصل وجہ مسلہ کشمیر ہے مسلہ کشمیر کے حل کے بغیر دونوں ملکوں میں امن قائم نہیں ہو سکتا 

Comments