حوا کی بیٹیاں۔۔۔۔ فیصلہ کس کا جرگہ یا عدالت

posted Feb 13, 2013, 6:24 PM by PFP Admin   [ updated Feb 13, 2013, 6:29 PM ]
 جرگہ کے با اثر افراد نے گزشتہ دنوں جن اخبارات میں اس واقعہ کی تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی تھی پورے کے پورے بنڈل ہی غائب کروا لیے۔ اس ساری صورتحال میں جن مشکلات سے میڈیا کے لوگوں کو سامنا کرنا پڑا ہے ان کی الگ داستان ہے۔ 
نبیلہ کی روح سوال کرتی ہے
 میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں 
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے 
آزاد کشمیر میں جرگہ سسٹم ختم کرنے کے لیے قانون سازی عمل میں لائی جائے ۔کیوں کہ جرگہ سسٹم براہ راست ریاستی قوانین کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے ۔ جب تک اس کو ختم نہیں کیا جاتا انسانی حقوق کی پامالیاں ہوتی رہیں گی۔ اور اسی طرح بٹییوں کی عزتیں تار تار ہوتی رہیں گی اور جرگوں کے غلط فیصلوں سے قربانی کی بھینٹ چڑھائی جاتی رہیں گی۔ عدالتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جرگوں کے نام پر جرائم پر پردہ ڈالنے اور غلط اور خلاف قانون فیصلے کرنے میں مصروف ہیں۔ ان جرگوں کا انعقاد کرنے والوں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ۔ 
تا کہ قانون اور انصاف کی عملداری ہو اور جرگوں کے بجائے عدالتوں سے انصاف مل سکے ۔

 اس پر اسرارہلاکت کی تحقیقات کے لیے علاقے کے باشعور لوگوں نے چیف جسٹس آزاد کشمیر ،آئی جی، ڈی آئی جی سمیت دیگر اداروں کو خطوط جاری کیے ہیں جس میں اُنہوں نے اس واقعہ کا نوٹس لینے اور جوڈیشل انکوائری کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر عدالتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہیں تو انہیں ذمہ دار ہونے کا 
احساس بھی دلانا ہو گا۔

میری جھکی نگاہیں تلاش کرتی ہیں
کوئی ضمیر کا لہجہ، کوئی اصول کی بات ؂
نبیلہ کی ہلاکت کے بعد گاؤں کے بااثر افراد پر مشتمل جرگہ تشکیل دیا گیا جس نے لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے 50سالہ درندہ صفت دکاندار ملازم حسین پر 5لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اور طاقت کے زور پر مظلوم خاندان کو خاموش کرا دیا گیا ۔ جرگہ نے جنسی زیادتی پر تو ملازم حسین کو 5لاکھ جرمانہ ادا کرنے کا کہا مگر لڑکی کی پراسرار ہلاکت کا ذمہ دارن کون؟ جرگہ کو ہلاکت کے معاملے پر چپ لگ گئی، اور اس معاملہ کو دبانے کے لیے لڑکی کے ورثا ء کو دھمکیاں دی گئیں۔ قانون اور ضابطے صرف کتابی ہوں تو ہر ظالم یہی سمجھتا ہے کہ اُسے کوئی دیکھنے والے نہیں ، کوئی پوچھنے والا نہیں ، کوئی اسے سزا نہیں دے سکتا ، کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا مگر ایک ذات ہر کسی پر نظررکھے ہوئے ہے۔ معاشرہ میں موجود با ضمیر اور زندہ انسان اب بھی موجود ہیں۔
آزاد کشمیر میں جرگہ سسٹم ختم کرنے کے لیے قانون سازی عمل میں لائی جائے ۔کیوں کہ جرگہ سسٹم براہ راست ریاستی قوانین کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے ۔ 

وقت گزرنے کے ساتھ یہ خبر جب میڈیا تک پہنچی تو معاشرے کے اس ضمیر نے جان کی پروا کیے بغیر اس معاملہ کو منظر عام پر لایا مگر اس باوجود اس کے باوجود باغ کی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں جو
 صر ف غیر ملکی چندے پر چلنے کے لیے ڈھونگ رچاتی ہیں کسی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی ، سب کے سب خاموش تماشائی بنے ابھی تک دیکھ رہے ہیں۔اور الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق با اثر افراد اب میڈیا کو دھمکا رہے ہیں۔ 
تحریر :محمد شوکت تیمور 

آزاد کشمیر میں بڑھتے ہوئے تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائیوں کا کردار ادار کرنے لگے ۔ پولیس اور عدلیہ سمیت تمام اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال کا از سر نو جائزہ لیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے ۔ 
سادہ لوح نبیلہ کی پراسرار ہلاکت کے ساتھ ساتھ اس کے بطن میں پلنے والی معصوم جان بھی ہلاک ہو گئی

تمام قوانین صرف کتابوں کی حدتک درست ہیں ان کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ۔ اگرایسا ہوتا تو 19سالہ نبیلہ نور نامی سادہ لوح لڑکی کی پراسرار ہلاکت پر ریاست میں موجود کوئی ادارہ تو حرکت میں آتا ، کسی کو تو احساس ذمہ داری ہوتا ، کوئی تو اس ظلم کے خلاف کارروائی کرتا ،کوئی تو مظلوم خاندان کے دکھ کر درماں کرتا مگر۔۔۔۔۔۔۔ مذکورہ لڑکی کا تعلق باغ کے نواحی گاؤں کھرل عباسیاں سے ہے ۔ جسے طویل عرصہ سے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ 

معلوم نہیں کہ کتنے عرصہ سے انسانی بھیڑیے اسے اپنی ہوس کا نشانہ بناتے رہے ۔ اور جب وہ حاملہ ہو گئی تو ان بھیڑیوں کی پشت پناہی کرنے کے لیے علاقے کے نام نہاد "وڈیروں"نے اس جرم کو چھپانے کے مذکورہ لڑکی کے حمل کو ضائع کروانے کے لیے غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کیے ۔ اس دواران سادہ لوح نبیلہ کی پراسرار ہلاکت کے ساتھ ساتھ اس کے بطن میں پلنے والی معصوم جان بھی ہلاک ہو گئی۔
Comments