لفظ " پاکستان" کا حقیقی خالق کون؟

posted Aug 10, 2012, 5:00 PM by PFP Webmaster   [ updated Aug 10, 2012, 6:09 PM ]
سید غلام حسن نے 1936 میں پاکستان اخبار کا پہلا اردو شمارہ ایبٹ آباد سے شائع کیا 


زمیندار میں کام کے دوران ہی کاظمی صاحب نے ڈپٹی کمشنر ایبٹ اآباد کو 1928 میں شمالی مغربی صوبہ سے" اخبار پاکستان" کے ڈیکلریشن کے لئے درخواست دی۔ 1929 میں ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد نے سید غلام حسن شاہ کاظمی کو پاکستان اخبار کا ڈیکلریشن دینے سے انکار کیا اور یہ خبر کاظمی صاحب کو بذریعہ خط بنڈر بازار بمبئی میں موصول ہوئی جہاں وہ زمیندار کے لئے رپورٹنگ کرتے تھے۔ 

محمد ا سلم میر ایک نجی ٹیلی ویزن کے سات بطور بیورو چیف وابستہ ہیں
۔ ایکٹ 1935 کے تحت جب صوبوں کو مزید انتظامی اختیارات مل گئے تو کاظمی صاحب تیسری مرتبہ ڈیکلریشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گے یوں 1936 میں انہوں نے پاکستان اخبار کا پہلا اردو شمارہ ایبٹ آباد سے شائع کیا۔ دو سال تک کامیاب اشاعت کے بعد صوبہ سرحد کی کانگریسی حکومت نے پاکستان اخبار کا ڈیکلریشن منسوخ کر کے اسے بند کر دیا۔ کانگرنس حکومت پاکستان اخبار کے اداریوں ، خبروں اور شزروں سے ناخوش تھی کیوں کہ اخبار کے پس منظر میں تصور پاکستان جبکہ ہر اداریے میں درس حریت نمایاں نظرآتاتھا۔"اب یا کبھی نہیں " کے مصنف چوہدری رحمت علی نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ ملکر انگلستان میں لفظ " پاکستان" تخلیق کیا۔ دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو برصغیر میں لفظ پاکستان کے اصل خالق اور ترویج و تشہیر کا کریڈٹ فرزند کشمیر سید غلام حسن شاہ کاظمی مرحوم کو جاتا ہے اور اس سے یہ بات بھی واضع ہوجاتی ہے کہ تصورپاکستان میں علامہ اقبال کے ساتھ ساتھ ایک اور کشمیری سپوت نے اس تصور کو حقیقی رنگ دینے میں جو کردار ادا کیا وہ نہ صرف قابل رشک بلکہ تاریخی بھی ہے۔ یوں آپ کہہ سکتے ہیں کہ مغربی صوبہ سرحد بالخصوص ہزارہ اور کشمیر کے علاقوں میں لفظ پاکستان کی 1928 سے جو تشہیر و اشاعت کی گی وہ کاظمی صاحب کی کوششوں اور کاوشوں کا نتیبجہ ہے۔ دوسری جانب چوہدری رحمت علی ، اسلم کھٹک اور ان کے دیگر ساتھیوں کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، البتہ وہ انگلستان میں تھے جبکہ سید غلام حسن شاہ کاظمی نے اردو اخبار پاکستان کی صورت میں لفظ "پاکستان" کی جو تشہیر اور اشاعت کی وہ یقیناًتاریخ پاکستان لکھنے والوں کی توجہ چاہتی ہے۔۔۔ اس سلسلے میں صدارتی ایواڈ یافتہ معروف محقق عقیل عباس جعفری نے " پاکستان کرینیکل" میں واضع طور پر لکھا ہے کہ چوہدری رحمت علی اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ ساتھ سید غلام حسن شاہ کاظمی نے بھی لفظ پاکستان " تخلیق "کیا ہے اور اس نام سے1936 میں باضابطہ ایبٹ آباد سے پاکستان اخبار بھی شائع کرتے رہے۔

تحقیق : محمد ا سلم میر 

قیام پاکستان میں کئی واقعات کی اہمیت مسلمہ ہے تاہم لفظ پاکستان کی تخلیق کا واقعہ عظیم کارنامہ گردانا جاتا ہے۔لفظ پاکستان کی تخلیق میں چوہدری رحمت علی سمیت چھ افراد کا تذکرہ تاریخ کی صفحات کی زینت بنتا رہا ہے لیکن تاریخ ایک ایسے گمنام کشمیری مجاہد آزادی کوہمیشہ سے نظر اندازکرتی رہی ہے جنہوں نے لفظ پاکستان کی تخلیق کے ساتھ ساتھ اس کی ترویج وابلاغ کا فریضہ بھی انجام دیا۔یہ کشمیری مجاہد آزادی سید غلام حسن شاہ کاظمی تھے جن کے والد صاحب نے تحریک پاکستان کے اوائل میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے بارہ مولا سے ایبٹ آباد کی جانب ہجرت کی اور یہیں آباد ہوئے۔ سید غلام حسن شاہ کاظمی کو بچپن سے ہی لکھنے پڑھنے کا شوق تھا یوں 1924 میں کاظمی صاحب نے باضابطہ طورپر لکھنا شروع کیا۔ تحریک پاکستان کے ترجمان اخبار زمیندار میں کام کرنے کے بعد سید غلام حسن شاہ کی تحریر میں پختگی آگی۔ روزنامہ زمیندار میں کام کے دوران ہی کاظمی صاحب نے ڈپٹی کمشنر ایبٹ اآباد کو 1928 میں شمالی مغربی صوبہ سے" اخبار پاکستان" کے ڈیکلریشن کے لئے درخواست دی۔ 1929 میں ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد نے سید غلام حسن شاہ کاظمی کو پاکستان اخبار کا ڈیکلریشن دینے سے انکار کیا اور یہ خبر کاظمی صاحب کو بذریعہ خط بنڈر بازار بمبئی میں موصول ہوئی جہاں وہ زمیندار کے لئے رپورٹنگ کرتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود سید غلام حسن شاہ کاظمی ہمت نہیں ہارے اور ایک نئے جزبے کے ساتھ اپنی صحافیانہ سرگرمیاں جاری رکھیں۔ جوانی میں قلم سے لکھے حروف کا اپنا ہی اثر ہوتا ہے جسے انگریز سامراج نے قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے 1931 میں غلام حسن شاہ کاظمی کی تحریروں کو فارن ریلیشن آرڈیننس کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے انہیں جیل بھیج دیا۔ رہائی کے بعد سید غلام حسن شاہ کاظمی نے دوبارہ پاکستان اخبار کے لئے ایبٹ ا?باد میں ڈیکلریشن کے لئے درخواست دی لیکن سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر نے ایک مرتبہ پھر ڈیکلریشن جاری کرنے سے انکار 
کر دیا۔
 
Comments