معاشرتی انصاف کا عالمی دن

posted Feb 24, 2013, 3:43 PM by PFP Admin   [ updated Feb 24, 2013, 3:46 PM ]
عدل و انصاف،میرٹ کی بالادستی،کو بحال کر کے جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل پیراء ہوا جائے تب جا کر معاشرتی نا انصافیوں کو کم کر کے انصاف کے پر چم کو لہرایا جا سکتا ہے ورنہ محض معاشرتی انصاف کا عالمی دن منا لینا،لمبی چوڑی تقاریر کر لینا،تقاریب کا انعقاد کر کے فوٹو سیشن کر لینا کوئی معنی نہیں رکھتا،ہمیں جہاں اپنے اندر کے انسان کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے وہاں دوسروں کی اصلاح کیلئے نیک نیتی سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔معاشرتی انصاف کے عملی قیام کیلئے ہمیں پہلے اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا اور لوگوں کی سوچ و فکر بدلنے کیلئے انہیں شعور و 
آگاہی فراہم کرنا ہوگی۔
ہر سال پوری دنیا میں20فروری کو ،،معاشرتی انصاف کا عالمی دن منایا جاتا ہے
 
اس دن کو منانے کا مقصد جہاں دنیا میں معاشرتی انصاف کے بارے شعور و 

آگاہی فراہم کرنا ہے 

وہی حضرت عمرؓ جو قبول اسلام سے قبل اونٹ صحیح طرح سے نہیں چرا سکتے تھے اور جب گھر لوٹتے تھے تو والد سے ڈانٹ پڑتی مگر جب اسلام قبول کیا اور بنیﷺ کی تربیت نے ایسے اثرات اور اعلٰی اوصاف اور خوبیاں پیدا ہوئے کہ عمرؓنے اپنے دور میں بائیس لاکھ مربع میل پر ایسی حکمرانی کی جو کہ ایک عدل و انصاف کی اعلیٰ نظیر ہے۔

انہی کا قول ہے کہ اگر دریا فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو اس کا حساب بھی عمر سے ہو گاکہاں گئے وہ حکمران کہاں سے اب لائیں وہ عظیم الشان مثالیں جو آج ہمیں بے کار دکھائی دیتی ہیں۔

معاشرتی بگاڑ میں جہاں بے شمار عناصر کار فرما ہیں ان میں ایک بڑی بیماری معاشرتی نا انصافی و نا ہمواری بھی ہے۔ افراد کا تفرقوں میں بٹنا،برادری ازم،امیر غریب، حاکم محکوم،اکثریت اقلیت،پسند ناپسند وغیرہ جیسے ناسور معاشرتی انصاف کی راہ میں نہ صرف بڑی رکاوٹ ہیں بلکہ انصاف کے بڑے قاتل بھی ،عالمی سطح پر محض ایک دن مختص کر کے معاشرتی انصاف کا حصول ممکن نہیں
 ضرورت اس امر کی ہے کہ افراد و اقوام میں اجتماعی طور پر ایثار و قربانی کا جذبہ پیدا کیا جائے،صبر،برداشت ، اخوت بھائی چارہ ،رواداری کا جذبہ پیدا کیا جائے۔
 تحریر: سیّد عمران حمید گیلانی

ہر سال پوری دنیا میں20فروری کو ،،معاشرتی انصاف کا عالمی دن منایا جاتا ہے اس دن کو منانے کا مقصد جہاں دنیا میں معاشرتی انصاف کے بارے شعور و آگاہی فراہم کرنا ہے وہاں دنیا میں پائی جانے والی معاشرتی نا انصافیوں،نا ہمواریوں، کو بھی سامنے لانا ہے ،عالمی امن کا قیام،معاشرتی نا انصافیوں کا خاتمہ،اور انسانوں کو بنیادی حقوق خوراک،صحت،تعلیم،رہائش اور ان کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی 
بنانے کیلئے اقدامات کرنا شامل ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آج پوری دنیا ایک گلوبل ویلج کا روپ دھار چکی ہے کسی ایک ملک کے حالات و واقعات کے براہ راست دیگر ممالک اور اقوام پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔دنیا کی چھ ارب آبادی میں اگر دیکھا جائے تو معاشرتی انصاف یکساں دکھائی نہیں دیتا،گورے،کالے،امیر،غریب،حاکم، محکوم،ترقی یافتہ،ترقی پذیر، کے سابقے اور لاحقے آج بھی ان افراد و اقوام کے ساتھ جڑے نظر آتے ہیں معاشرتی انصاف کے قیام کیلئے چودہ سو سال پہلے ہمارے نبی حضرت محمدﷺ نے خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا کہ،، کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فوقیت نہیں تم میں اللہ کے ہاں وہی بلند مقام رکھتا ہے جو متقی و پرہیز گار ہو،،معاشرتی انصاف کا جو چارٹر ہمارے نبیﷺ نے پیش کیا اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی حتیٰ کے حضورﷺ نے اپنے صحا بہؓ جو اسلام قبول کرنے سے قبل معاشرے میں پائی جانے والی جاہلانہ اور فرسودہ رسم و رواج کے علمبردار تھے مگر اسلام قبول کرنے کے بعد حضورﷺ کے دست شفقت سے فیض یاب ہوئے اور اعلیٰ و ارفع تربیت،حلیم مزاجی،ملنساری،سادگی،عاجزی و انکساری، سے ایسے کندن ہوئے اور پھر چمکے کہ دنیا میں ان صحابہ کا ڈنکا بجا۔
Comments