پاکستان کے آمدہ الیکشن۔۔۔تھرڈ آپشن

posted Mar 21, 2013, 3:27 PM by PFP Admin   [ updated Mar 21, 2013, 3:32 PM ]

پاکستان تحریک انصاف نے اپنے انٹرا پارٹی انتخابات کامیابی سے مکمل کرکے موروثیت کے منہ پر طمانچہ رسید کیا ہے۔پشاور میں ایک اور کامیاب جلسہ منعقد کرکے ان ناقدین کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ جو یہ سمجھتے تھے کہ سونامی ماند پڑسکتی ہے ۔23 مارچ کا جلسہ تحریک انصاف کو صحیح معنوں میں ایک متبادل تیسری سیاسی قوت کے طورپر منظر عام پر لے آئیگا۔

پاکستانی عوام کے پاس آزادی ہے جس کو چاہیں ووٹ دیں مگر میری ذاتی رائے میں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی میں کوئی فرق نہیں ہے جو لوگ ابھی بھی ان روائتی سیاسی جماعتوں کوووٹ دینے کے حق میں ہیں جو گزشتہ دو دہائیوں سے بھی زائد اقتدار میں ہیں اور جن کی پالیسیوں کی بدولت پاکستان ان حالات تک پہنچ چکا ہے کہ بقا کے لالے پڑے ہوئے ہیں ان کی مثال کچھ ایسے ہی ہے کہ

میرکیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

آمدہ انتخابات میں بہت سے فیکٹرز تحریک انصاف کے حق میں جاتے ہیں۔ پہلا یہ کہ عوام اس بار تبدیلی چاہتے ہیں اور دوسرا یہ کہ تحریک انصاف کو کبھی اقتدار کا موقع نہیں ملا۔یہ آزمائی ہوئی جماعت نہیں ہے۔ لہذا عوام سمجھتے ہیں کہ اب کی بار کسی نئے کو موقع ملناچاہیے ۔انہی فیکٹرز کو لیکر اگر تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنان انتخابی مہم کے دوران عوام خاص طورپر نوجوانوں کی بڑی تعداد کو راغب کرکے پولنگ بوتھ تک لے جانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو حیران کن نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

اس مرحلے میں یہ کہنا کون سی جماعت سادہ یا غالب اکثریت حاصل کرے گی قبل ازوقت ہوگا۔ مگر اگر انتخابات ممکنہ دہشت گردی سے متاثر نہ ہوئے اورالیکشن کمیشن صاف وشفاف انتخابات منعقد کرانے میں کامیاب ہوگیا تو ایسے نتائج سامنے آسکتے ہیں جو سیاسی پنڈتوں کے تجزیوں کو الٹ کر رکھ دیں۔ پاکستان تحریک انصاف کتنا ہی کامیاب ہوتی ہے یا ناکام یہ تو بعد کی بات ہے مگر نوجوانوں کی دھماکہ خیز انٹری نے بڑے بڑے جغادری سیاست دانوں کی گردنوں میں پڑے سریے نکال دیئے ہیں۔

آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی حصہ نہیں ہیں مگر ان خطوں کے اندر رہنے والے عام پاکستانی انتخابات میں گہری دلچسپی لیتے ہیں کیونکہ پاکستانی سیاسی جماعتوں کی پالیسیاں اور حکومتی طرز عمل ان کے سیاسی عمل اور گورننس پر اثر انداز ہوتا ہے۔اسی حوالے سے گزشتہ دنوں مسلم لیگ (ن) نے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کرتے ہوئے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کی محرومیوں کو اپنے انتخابی منشور کا حصہ بنایا ہے اس پر کتنا عمل ہوتا ہے یہ توآنے والا وقت ہی بتائے گا مگر پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت کی طرف سے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے حقوق کی بات کرنا نہایت ہی خوش آئند امر ہے۔ بلاشبہ اس کا کریڈٹ مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر کی قیادت کو جاتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف اور دوسری سیاسی جماعتیں بھی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو حق حکمرانی بحال کرنے کے حوالے سے اپنے منشور کا حصہ بنائیں گی ۔یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔!

ابھی تک عمران خان کی جماعت تحریک انصاف نوجوانوں کی مقبول ترین جماعت سمجھی جارہی ہے۔عمران خان اپنی سولہ سالہ محنت، مستقل مزاجی اور فائٹنگ سپرٹ کی وجہ سے پاکستانی سیاست کا ایسا فیکٹر بن چکے ہیں جو روایتی سیاسی جماعتوں کے گلے کی ہڈی بن چکے ہیں۔عمران خان اور تحریک انصاف کی اسی یلغارکو مد نظر رکھتے ہوئے مولانا فضل الرحمن جو پاکستانی سیاست کی وہ مچھلی ہیں جو صرف اقتدار کے پانیوں میں رہنا پسند کرتی ہے نے بھی نواز شریف کواتحاد کے لیے رام کردیا ہے۔

شریف برادران اور مولانا گزشتہ کافی عرصے سے کبھی بھی ایک دوسرے کے لیے پسندیدہ چوائس نہیں رہے مگر سیاست میں نہ تو کوئی دائمی دوست ہوتا ہے اور نہ ہی دائمی دشمن بس مفادات ہی دائمی ہوتے ہیں یہ دیکھتے ہوئے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں کسی اتحاد کے بغیر تحریک انصاف کا راستہ روکنا مشکل ہے،نواز شریف اور مولانا حلیف بن گئے۔

دوسری طرف جماعت اسلامی ہے جس کے لیے سمجھا جارہا تھا کہ اس بار کسی روائتی سیاسی اتحاد اور status queکی جماعت مسلم لیگ (ن) یا اس کی طرف سے کسی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی۔دکھائی دیتا ہے کہ وہ بھی اتحاد کے پیروں تلے پناہ لے گی۔ گو کہ ابھی تک جماعت اسلامی اورمسلم لیگ(ن) میں کوئی باقاعدہ اتحاد تو نہیں ہوا اور نہ ہی سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا کوئی فارمولہ طے پایا ہے۔ مگر آثارو قرائین بتاتے ہیں کہ مستقبل قریب میں ان دونوں کے درمیان یا پھر کسی وسیع تر سیاسی اتحاد کی شکل میں کوئی قابل قبول فارمولہ طے پاجائے گا۔

گر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے درمیان کوئی اتحاد یا سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا کوئی فارمولہ طے پاجاتا ہے تو غالب امکان ہے کہ خیبر پختونخوا میں دونوں مل کر حکومت بنانے کی پوزیشن میں آسکتے ہیں۔ اور صوبہ پنجاب میں بھی نتائج پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ جماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا کی تنظیم تحریک انصاف سے اتحاد کے حق میں ہے بلکہ پنجاب کی تنظیم مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد کا نہیں ہے۔

جماعت اسلامی گزشتہ انتخابات کے بائیکاٹ اور مولانا فضل الرحمن کی وعدہ خلافیوں کے بعد اس بار بہت محتاط ہے اور سیاسی شطرنج کی بساط پر اپنے پتے پوری طرح سے سامنے نہیں لارہی۔ مگر کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل جماعت اسلامی کی قیادت کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستانی نوجوانوں میں تبدیلی کی امنگ کی بدولت اس بار پاکستانی سیاست کا رخ بدلنے کا وقت ہے


 لہذا اگر وہ اپنا وزن تبدیلی کے حق میں ڈال دیں تواس کے دور رس نتائج برآمد ہونگے مگراس کے برعکس اگر اس بار پھر جماعت اسلامی کسی روائتی اتحاد کا حصہ بنی تواس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا ہوگا۔ ایسی صورت حال میں ہم اتنا ہی کہیں گے کہ۔

نادان سجدے میں گرگئے جب وقت قیام آیا

//جاوید حیات

پاکستان میں انتخابات کا باقاعدہ طبل جنگ بجنا باقی ہے مگر غیر اعلانیہ طورپر سیاسی سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ پاکستان کے آمدہ الیکشن کئی اعتبار سے منفرد ہیں اوران کے دور رس نتائج برآمد ہونگے۔یہی انفرادیت تو ہے کہ پہلی بار کوئی جمہوری حکومت اپنی مدت مکمل کرے گی اور انتخابات کے بعد نئی حکومت کو اقتدار منتقل کرے گی۔ گزشتہ پانچ سالوں میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے جمہوریت بہترین انتقام ہے کے اقوال زریں پر عمل کرتے ہوئے عوام سے ایسا انتقام لیا ہے کہ پاکستانی عوام گزشتہ ادوار کی بری طرز حکمرانی اور کرپشن کو تقریباً بھول ہی چکے ہیں۔اسی تسلسل میں پاکستان مسلم لیگ(ن) نے مکمل ساجھے داری نبھائی ہے۔پاکستان کے ساٹھ فیصد علاقے پر حکمرانی کے باوجود تمام الزامات وفاقی حکومت پر دھرے جاتے ہیں مگر گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے میں مسلم لیگ نے قدرے بہتر طرز حکمرانی کا مظاہرہ کیا مگر اس کی بڑی وجہ عمران فوبیا ہے۔ عمران خان کے تیس اکتوبر2011ء کے جلسے نے شریف برادران کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ میاں برادران خواب غفلت سے جاگے اور اپنی صفیں درست کرتے ہوئے ان تمام سیاستدانوں کے لئے اپنی جماعت کے دروازے کھول دیئے جو گزشتہ پانچ سالوں سے شجر ممنوعہ سمجھے جاتے تھے۔سوائے چوہدری برادران اور شیخ رشید کے ، مشرف کا ساتھ دینے والے تقریباً تمام سیاستدان اس بس پر سوار ہوچکے ہیں جوان کے خیال میں اقتدار کے ایوانوں تک جاتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان کی بدولت نوجوانوں اور ان سیاسی کارکنوں کو بھی وہ اہمیت ملنا شروع ہوئی جس کو وہ ترسے ہوئے تھے۔ لیپ ٹاپ سکیم سے لیکر ترقیاتی سکیموں اور نوکریوں کے پیکج گزشتہ ایک سال ہی میں متعین کئے گئے مگر یہ حقیقت ہے کہ میاں برادران نے زبردست کم بیک کیا ہے۔ اس بار الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی بدولت صورتحال بدلتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس مرحلے پر کوئی حتمی رائے دینا مناسب نہ ہوگا کیونکہ نتائج کا انحصار کئی عوامل پر ہے جن میں سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم،ملکی اور بین الاقوامی قوتوں کا کردار، نگران حکومتوں کا قیام اور ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد پیدا ہونے والی صورت ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر آنے والے انتخابات میں ان دو کروڑ نوجوان ووٹروں کا کردار 
فیصلہ کن ہوگا جو پہلی بار ووٹ دینے کے اہل ہوئے ہیں۔



Comments