کاش ۔۔۔۔میں بھی رئیوونڈ کا مور ہوتا!

posted Mar 24, 2014, 2:12 PM by PFP Admin   [ updated Mar 25, 2014, 11:14 AM ]
وہاں کے مکینوں کا واحدذریعہ معاش مال مویشی تھے نہ صرف انسان بلکہ مال مویشی بھی بدترین قحط کا شکار ہوئے میں کئی دن تک سوچتی رہی کہ اس موضوع پر لکھا جائے لیکن قارئین کرام! اگر سچ کہوں تو ان دل دہلا دینے والے مناظر کو دیکھ کر حوصلہ ہی نہ ہوا کہ قلم اٹھانے کی جسارت کر سکوں ہر لمحہ یہی سوال دل اور ذہن پر کچوکے لگاتا رہا کہ بحیثیت قوم ہم بے حسی کی اس انتہا پر پہنچ چکے کہ محسوس ہوتا ہے کہ ضمیر نام کی کوئی چیز ہمارے اندر نہیں رہی اور حکمرانوں کے توکیا کہنے؟ وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کا تعلق سید گرانے سے ہے جو حضور اکرمؐ کی آل میں سے ہیں میں نہیں جانتی کہ ان کی حکمرانی میں سک سک کر جان دینے والے ان معصوم بچوں کا خون ان کی گردن پر ہے وہ اس بوجھ کے ساتھ اپنے حلق سے اتنے بر تکلف کھانے کیسے اتارتے ہیں انہیں نیند کس طرح آتی ہے اور بروز حشر جنؐ کی آل سے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ان کے سامنے کیا جواب دیں گے وہ تو بھلا ہو میڈیا کا!۔ جس کی وجہ سے راتوں رات حکمرانوں ، این جی اوز اور مخیر حضرات نے صحرائے تھر کا رخ کیا ورنہ نہ جانے اور کتنی جانیں لقمہ اجل بن جاتیں ابھی یہ سلسلہ کنڑول نہ ہو سکا آج بھی مزید تین اموات ہوئیں یہ بات اب ثابت ہو چکی ہے کہ قحط مصنوعی طور پر پیدا کیا گیا گندم بروقت حکام کے حوالے کر دی گئی مگر تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے اس نقصان کا سامنا کر نا پڑا پھر اس مجرمانہ لاپروائی کے مرتکب ذمہ داران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟؟ جس سے دوسرے لوگ سبق سیکھتے وزیر اعظم پاکستان نے دورہ تھر کے دورا ن پر تکلف ظہرانے سے انکار کرکے تھر کے باسیوں سے اظہار یکجہتی کیا اور سو کر وڑ امداد نقد متاثرین کو مہیا کرنے کا اعلان کیا اگرچہ یہ امداد ان زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتی جو اپنے پیاروں کو کھو کر تھر کے مکینوں کو ملے مگر مشکل اور سخت ترین حالات میں زندگی گزارنے والے تھر کے باسیوں کے لئے زندگی کی سے سے بری خوشی پیٹ بھر کر کھانا مہیا ہونا ہے اس امداد کو شفاف طریقے سے متاثرین تک پہنچا کر کچھ حد تک ان مشکلات میں کمی متوقع ہے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اب تھر کے علاوہ دوسرے اضلاع جن میں سانگھڑ، عمر کوٹ، میر پور خاص اور بدین بھی اس قحط کی لپیٹ میں آنے کا خدشہ ہے اور پنجاب کے صحرا چولستان میں بھی لاتعداد مویشی قحط کی بھینٹ چڑھ چکے ڈھائی سو قیمتی جانوں کا ضیاع پہلے ہی پوری دنیا میں بری طرح پاکستان کی بدنامی کا باعث بن چکا اب بارڈر ایریاز کے قریب گندم کی سملنگ کو روک کر ایسے تمام علاقے جہاں قحط کی وارننگ ہے وہاں بچاؤ کے اقدامات کیے جانے وقت کی اہم ضرورت ہے ورنہ یہ معصوم جانیں سوال کناں رہیں گی کہ کاش ہم صحرائے تھر یا چولستان میں پیدا ہونے کے بجائے رائیونڈ کے مور ہوتے تو ہماری زندگی اور جان کی قیمت اتنی ارزاں نہ ہوتی۔

عکس خیال

تحریر:۔ راحت فاروق ایڈووکیٹ 
rahatfarooq4@gmail.com 

میں ابھی پورے طور سے ماحول سے آشنائی نہ کر پائی تھی کہ مجھے اپنا دامن ایک طرف سے کھنچتا ہوا محسوس ہوا تو میں نے ہڈیوں کے ڈھانچے پر کھنچی جلد کے ساتھ ایک معصوم بچے کا سراپہ دیکھا جو اپنے چہرے پر معصومیت سے زیادہ بھوک اور پیاس کے اثرات سمیٹے ہوئے تھا ا گرچہ وہ اتنا چھوٹا تھا کہ شاہد اس دنیا میں وہ اپنی زبان سے کوئی بات بھی نہ کر پاتا اور میں اس کی غوں غاں کو اپنی ممتاکے ناطے سمجھ سکتی مگر حقیقت یہ ہے کہ بچے معصوم ہوتے ہیں دنیا سے رحلت کے بعد بھی عالم ارواح سے وہ ہمارے درمیان موجود ہوتے ہیں مگر دنیا کے بڑے زرعی ممالک میں شمار ہونے والا، دودھ کی پیدوار میں پانچواں بڑا اور جملہ اجناس و خوراک میں خود کفیل مادر وطن پاکستان کا23ہزار مربع کلو میٹر پر پھیلا کم و بیش12لاکھ افراد پر مشتمل آبادی والے ضلع تھر میں ڈھائی سو کے قریب معصوم بچوں نے بھوک و پیاس سے نڈھال ہو کر دانستہ پیدا کردہ قحط کا شکار ہو کر بلک بلک کر ایڑیاں رگڑ کر جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ وزیر اعظم پاکستان کی رہائش گاہ جاتی عمرہ میں ڈیوٹی پر معمور پولیس افسروں کی غفلت کی وجہ سے ایک جنگلی بلا داخل ہوا اور انتہائی قیمتی مور کو کھا گیا جس کے نتیجے میں21پولیس اہلکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے گئے اور پولیس فورس کو حکم دیا گیا کہ جنگل میں آپریشن کیا جائے اور مجرم بلے کو زندہ یا مردہ کسی بھی حالت میں گرفتار کر کے دربار میں حاضر کیا جائے ضلع تھر کے قحط میں سک سک کرہم جان دینے والوں نے عالم ارواح سے جب سے یہ منظر دیکھا تو دل میں یہ حسرت پیدا ہوئی ہے کہ کاش ہم صحرائے تھر میں پیدا ہونے کی بجائے رائیونڈ کے مور ہوتے تو 2008سے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر برا جمان سید قائم علی شاہ ان کی کابینہ ، خصوصاََ وزارت صحت اور اس کے تمام ذمہ داران جن کی گردن پر ڈھائی سو معصوم جانوں کا خون ہے وہ آج ان عہدوں پر براجمان نہ ہوتے بلکہ انہیں ان عہدوں سے فارغ کر کے لی گئیں تمام تنخواہیں اور مراعات واپس لے کر ان کی ملکیتی جائیدادوں کو بھی بطور سزا فروخت کر کے تھر میں ایسے اقدامات کیے جاتے کہ آئندہ کوئی ننھی جان بھوک اور پیاس کا شکار ہو کر اس دنیا سے رخصت نہ ہوتی گزشتہ کئی دنوں سے اخبارات دل دہلا دینے والے واقعات اور دلخراش تصویروں سے بھرے پڑے ہیں۔
 کی مرتے لمحے ٹھہری ہوتی آنکھوں میں پوری قوم اور خصوصاََ حکمرانوں سے کئی جن سوال پنہاں ہیں کہ ہم نے اس ملک میں پیدا ہو کر کیا گناہ کیا جس کی انتی بھیانک سزا ملی کہ عوام کے خون پیسے کی کمائی سے پرتعیش زندگی گزارنے والے اور ہرن کے کوفتے اور انواع و اقسام کے انتہائی پر تکلف کھا نوں سے لطف اندوز ہونے والے حکمرانوں کی ناک کے نیچے معصوم بچے بلک بلک کر جان دیتے رہے اور انہوں نے خبر تک نہ لی تین ماہ پہلے سے یہ تنبیہ تھی کہ تھر کے علاقے میں بدترین قحط کا خدشہ ہے مگر انتہائی مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی اقدامات نہ کیے گئے اور
گلستان حیات کی شادابی معصوم بچوں کی کلکاریوں ،سووزیاں کی فراستوں سے بے نیاز قہقوں سے سجتی ہے اور اس امر سے بھی انکار نہ ہے کہ بچے بچے ہوتے ہیں وہ گھر گھر نہیں خانہ دیو لگتا ہے۔ جہاں ان ننھے فرشتوں کے آواز ے بلند نہ ہوتے ہوں ہر باشعور قوم اورمعاشرہ اپنے مستقبل کے ان نونہالوں کو سردو گرم تھپیڑوں سے بچا کر پروان چڑھانے کو ترجیح دیتا ہے کہ اقوام عالم میں سر بلند ہو سکے اور جس کسی نے جب بھی اس سے غفلت برتی اسے قعر مذلت کی پہنائیوں سے چھٹکارا نہ ملا۔ دست قضا کبھی انہیں ہم سے جدا بھی کر دے تو وہ اپنی معصومیت کے ساتھ آسمان زندگی پر ٹمٹما کر اپنے ہونے کا احساس دلاتے رہتے ہیں نوخیز کلیوں کے شاخ نہال سے نوچے جانے کا دکھ اور بھی بڑ ھ جاتا ہے اگر ایسا بھوک او رپیاس کے سبب ایسے معاشرہ میں جو دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی قوت ہونے کی دعویدار قسمت کے عطا کر دہ وافر وسائل کے اعتبار سے کسی بھی پہلو سے کم نہ ہواور ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ پاکستان میں پیدا ہونے والے غلے کی ایک بڑی تعداد سمگل ہو کر افغانستان سے پار وسطی ایشائی ریاستوں تک جاتی ہے تو دوسری طرف ہندوستان کی سرحدی ریاستیں(بادر ہے کہ ہندوستان میں صوبے کو ریاست کہتے ہیں) اس سے اپنی ضرورت پوری کرتی ہے۔ تھرمیں برپا قحط کی ہولناکیاں اب کسی سے پوشیدہ نہیں اللہ بھلا کرے نجی ٹی وی والوں اور پریس کا جس نے سب اچھا کا پردہ چاک کیا اور اس انسانی بے حسی کے المیہ کی طرف درمندان قوم کی توجہ دلائی، بروقت اور سرعت رفتاری سے مثبت اقدامات کرنے کی بجائے ایک بار پھر فوٹو سٹیشن اور ٹی وی کوریج نے حکمران طبقے کی بے حسی کو بے نقاب کر کے عوام دوستی کا پول کھولا تو سند ھ کابینہ کے متاثرہ علاقے کے دورہ کے موقعہ پر کیے گئے اقدامات کا احوال روتی آنکھوں کو سیلاب دے گیا ابھی اس صدمے سے نہ سنبھلے تھے کہ بے حسی کے تابوت میں ایک آخری کیل ٹھکا ۔ سکون غارت ہو گیا جب عالم نیم خوابی میں، میں نے خود کو قحط زدہ علاقے میں 
بھوک اور پیاس سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑتے بچوں میں پایا۔
وزیر اعظم پاکستان کی رہائش گاہ جاتی عمرہ میں ڈیوٹی پر معمور پولیس افسروں کی غفلت کی وجہ سے ایک جنگلی بلا داخل ہوا اور انتہائی قیمتی مور کو کھا گیا جس کے نتیجے میں21پولیس اہلکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے گئے اور پولیس فورس کو حکم دیا گیا کہ جنگل میں آپریشن کیا جائے



Comments