آگہی.......منصُور شاہد راٹھور

posted Feb 2, 2013, 8:05 PM by PFP Admin   [ updated Feb 2, 2013, 8:16 PM ]

  ہمیں معلوم ہے سب کچھ

مگر ہم اسلئے خاموش رہتے ہیں

کہ جو کانوں میں روئی ٹھونس کر بیٹھے ہوئے

دنیا کے نقشے اپنی مرضی کے بنانا چاہتے ہوں

اُ نہیں اک بار کڑوا گھونٹ پی کر یہ سمجھنا ہے

کہ دنیا ظُلم کی کھینچی لکیروں سے نہیں بنتی

نہ ہاتھوں کی لکیریں جبر کے تیشے سے بنتی اور بگڑتی ہیں

رواداری ‘ محبت سے اگر نکلے

تو شائد مسئلوں کا حل نکل آئے

کہ شائد کب سے ٹھرا ’ آج ‘ ڈوبے ’ کل ‘ نکل آئے

ہمیں معلوم ہے

ہم کو ہماری نفرتیںَ 

ورثوں میں بانٹی جائیدادوں کی طرح

ہزاروں سال سے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہی ہیں

ہمیں معلوم ہے

حرفوں کی حُرمت میں

ہوس کے کس نے کتنے رنگ بھر ڈالے

کہ کس نے گل بکھیرے اور کس نے سنگ کر ڈالے


ہمیں معلوم ہے کہ

کیمروں کی آنکھ نے جو کُچھ دکھا یا ہے

وہی دنیا نہیں ہے

ہمیں معلوم ہے ہم سب

بزرگوں کی سُنائی داستانوں سے

ابھی باہر نہیں نکلے

ہمیں معلوم ہے

ہم نے گھروں کے آرکیٹیکچرمیں آنکھوں اور جسموں کیلئے تو

سب کا سب مختص کیا

مگر ذہنی بلوغت کیلئے کوئی دریچہ کوئی روشندان نہ رکھا

 

Comments