ایک معصوم بچے کا قتل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذمہ دار کون ۔۔۔؟

posted May 4, 2014, 4:33 PM by Zafar Iqbal   [ updated May 4, 2014, 4:41 PM ]
 

مغربی میڈیا کی یلغار بھی اس طرح کے واقعات کی ایک
 بڑی وجہ ہے۔ مغربی اور بھارتی ثقافت ہماری رگ پے ہیں اس طرح سرایت کر چکی کہ ہم اپنے مدہب، اسلامی تعلیمات، اپنی روایات اور کلچر کو بھول چکے اور وہ ثقافت ہم پر حاوی ہو چکی ، اس حوالے سے پیمرا اور ٹی وی مالکان کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہوں گی۔ ہم میں سے ہر شخص چاہے والدین ہوں، اساتذہ ہوں، اکابرین معاشرہ ہوں یا میڈیا کے نمائندگان، اپنی آنے والی نسلوں کو معاشرے اور ملک کا بہترین اور مفید شہری بنانے کے لئے اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہو گا۔ یہی واحد صورت ہے ، جس سے معاشرتی انتشار کو قابو کیا جا سکتا ہے۔ ہر صبح ہنوز شب گزیدہ ہے۔ لیکن سیاہ بادلوں کے اس پار ابھرتی ہوئی سفیدی امید کو زود نہیں ہونے دیتی ہم سب بہت سی غفلتوں کے مرتکب ہو رہے ہیں جن کی وجہ سے ہماری آنے والی نسلیں بے راہ روی کا شکار ہو چکی ہیں۔ لیکن اس دھرتی کی مٹی زرخیز ہے ، اس میں بہت سا نم باقی ہے اس کی باد نمو ابھی بابجھ نہیں ہوئی ۔ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر کے اپنی نئی نسل کو صراط مستقیم پر چلانا ہو گا۔ ان کی راہوں میں بکھرے سنگریزوں کو ہٹانا ہو گا۔ تا کہ بہتر منزل کی طرف پیش قدمی ہو سکے۔ اس سے پہلے کہ دست قضا بڑھکر تقدیر کے قاضی کا فیصلہ ہم پر نافد کر کے ہمیں اور راق تاریخ پر بطور نشان عبرت ثبت کر دے۔ اور تلافی مافات کی مہلت نہ ملے۔ آگے بڑھیے اور انعم جیسے انعام کی ناقدری والے ہاتھوں کی پیدائش کی راہوں 
کو مسدور کر دیجیے۔






 

والدین کے بعد معاشرے میں بڑھتی بے چینی اور انتشار کے ذمہ دار اساتذہ ہیں۔ کیونکہ علم روشنی ہے ایسی روشنی جو اپنا راستہ خود تراشتی ہے ، جو قلوب علم کی روشنی سے منور ہوں ، وہاں ظلمتوں کا وجود ناپید ہوتا ہے یہ روشنی سینہ بہ سینہ بڑھتی چلی جاتی ہے ، پورا معاشرہ استادکے گرد گھومتا ہے۔ استاد کی حیثیت ایک جوہری کی سی ہے جس کے ہاتھوں سنگ پارس بنتا ہے اور لوھا سونے کا روپ دھارتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ استاد کو معمار قوم کہا جاتا ہے کیونکہ جب استاد ایک طالب علم کو زیور علم سے آراستہ کرتا ہے تو در حقیقت ایک خاندان میں اپنی عزت و توقیر کا پرچم لہراتا ہے مگر آج بدقسمتی سے تعلیم کا پیشہ یا تو سیاست کی نذر ہو چکا یا محض پیسے کمانے کا ایک ذریعہ بن چکا۔ بچے بھاری بھر کم بیگز کے نیچے دبے ہوئے اسکول پہنچتے ہیں جہاں محض سلیبس کو مکمل کرنے کی دوڑ تک تعلیم محدود ہوتی ہے۔ سلیبس بھی ایسا جو امیر کے بچوں کے لئے الگ، غریب کے بچوں کے لئے الگ، جو صحیح معنوں میں عصری ضرورتوں سے بے نیاز اور اسلامی تعلیمات سے مزین اور جدید وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونے کی بناء پر بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کرنے سے قاصر ہے۔ قوم کی بیداری کے لئے عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ یکساں تعلیمی نصاب اولین شرط ہے یہ اساتذہ کرام کی ہی کوششیں تھیں جن کی بدولت علم کی قندیل سے ملت کے مقدر کے وہ ستارے روشن ہوئے جن کو عالمی افق پر قائداعظم ؒ ، علامہ اقبال اور چوہدری رحمت علی کے نام سے جانا گیا مگر آج اساتذہ کرام کے پیشہ وارانہ فرائض کے جذبے سے عاری ہونے اور پیشے پر سیاست کے حاوی ہونے کی وجہ سے تعلیم کے ساتھ تربیت کا وجود کہیں نظر نہیں آتا یہ غفلت آخر کار ایسے سانحات کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ 
معاشرے کا برسراقتدار طبقے پر بھی ایسے حادثات کی پوری ذمہ داری عائد ہوتی ہے آسمانی رفعتوں کو چھونا انہی قوموں کا مقدر ٹھہرتا ہے جن قوموں کے رہنما ذاتی خواہشات کو قوم کی ضروریات پر قربان کر دیتے ہیں ، اور اپنا کاٹھ بلند کرنے کے بجائے قوم کا قد بڑھانے کے جذبے کے ساتھ بلند اخلاق اور اعلیٰ سوچوں کے حامل ہوتے ہیں وہی قومیں ترقی کر سکتی ہیں ، جنہوں نے مثبت اور تعمیری فکر و عمل اختیار کیا بقائے باہمی اور اپنی اقدار سے وابستگی کا منطقی نتیجہ ترقی، خوشحالی اور عزت افزائی ہے ، مگر آج قوم کو ترقی کی راہ پر ڈھالنے کے لئے مثبت پالیسیاں مرتب کرنے کی بجائے ذاتی مفادات اور اقتدار کی ہوس اولین ترجیح بن چکی جب حالات یہ ہوں تو مماران قوم کی شخصیات کی نشوونما اور درپیش چیلنجز 
سے نبرد آزما کرنے کے لئے منصوبہ بندی کون کرے گا۔






                تحریر: راحت فاروق ایڈووکیٹ 
                 rahatfarooq4@gmail.com


یوں تو مادر وطن کی ہر صبح کا سورج اپنے ساتھ 
ہولناکیوں اور دل ہلا دینے والے حادثات و واقعات کے سات طلوع ہونا معمول ہی بن چکا ہے۔ نفسا نفسی اور مشکلات و مسائل سے گھری زندگی کی پریشانیوں سے نبرد آزما عوام اس قدر بے حس ہو چکے ہیں کہ ہولناک واقعات و حادثات کی خبروں کو معمول کی خبریں سمجھ کر ہی دیکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ آزاد کشمیر کا خطہ نسبتاً پرامن سمجھا جاتا تھا کہ جو اپنی روایات ، وضع داری اور مخصوص تمدن و ثقافت کی بنیاد پر منفرد پہچان رکھنا اور جرائم کی شرح نہ ہونے نہ برابر تھی مگر حال ہی میں یونیورسٹی کی طالبہ کے قتل نے تمام ذمہ داران معاشرہ کے لیے کئی سوالیہ نشان کھڑے کردیئے اس واقعہ کو رونما ہوئے کئی دن گزر چکے میں دیکھتی رہی کہ شاید کسی جانب سے اپنی مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہونے کا احساس کرتے ہوئے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی جائے، مگر ایسا نہ ہوا آخر کار اس پر قلم اٹھانا پڑا ۔ اگر حقیقت کی نظر سے جائزہ لیا جائے تو ایسے واقعات کے رونما ہونے کے سب سے بڑے ذمہ دار والدین ہیں۔ کیونکہ بچوں کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے ایک ایک عمل پر نظر رکھنا اور انہیں بہترین تربیت سے آراستہ و پیراستہ کرنا والدین کی اولین ذمہ داری ہے ، یہی وجہ ہے کہ ماں کی گود کو بچے کی پہلی درسگاہ کہا گیا مگر آج بدترین المیہ ہے کہ پرتعیش زندگی کی ہوس نے ہماری ترجیحات کو بدل کر رکھ دیا ، بچوں کو مہنگے ترین اسکولوں میں داخل کروا کر انہیں ٹیوشن سینٹرز اور ٹیوٹرز کے حوالے کر کے والدین خود کو اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش سمجھتے ہیں یہ تجزیہ کرنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی جاتی کہ ہمارا بچہ کیسی صحبت میں اٹھتا بیٹھا ہے۔ پڑھائی میں کتنی دلچسپی لے رہا ہے۔ ٹی وی پر کیسے پروگرامز دیکھ رہا ہے اور یہ سب چیزیں اس کی شخصت پر کس طرح اثر انداز ہو رہی ہیں ایسی ہی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ایک دن ایسے حادثات کی صورت میں سامنے آتا ہے
Comments