کنٹرول لائن پر کشیدگی---تحریر جلال الدین مغل

posted Jan 19, 2013, 12:12 AM by PFP Admin   [ updated Jan 19, 2013, 12:19 AM ]
 لائن آف کنٹرول پر پونچھ کے علاوہ وادی نیلم کے مختلف علاقوں میں بھی بھارتی فوج کی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور بھارتی میڈیا اس سلسلہ میں مسلسل پروپگنڈہ کر کے ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ پاکستانی میڈیا کی جانب سے ان واقعات پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ۔ ٹی وی چینلز اور اخبارات میں لانگ مارچ، دھرنے، وزیر اعظم کی گرفتاری، سیاسی جورتوڑ اور دہشت گردی جیسے موضوعات کو تو بھرپور توجہ دی جا رہی ہے تاہم کنٹرول لائن کی صورتحال اور دفاعی نوعیت کے امور پر پاکستانی میڈیا مسلسل چشم پوشی اور عدم توجہی کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔ 

بھارتی الزمات اور بڑھتی ہوئی بلا اشتعال کاروائیوں کے جواب میں پاکستانی میڈیا کی پر اسرار خاموشی ہے پاکستان کے سرحدی علاقوں اور آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بسنے والے عوا م کو اپنے تحفظ کے لئے فکر مند کر دیا ہے ۔ کنٹرول لائن پر فائرنگ کے واقعات او ر بھارت کی جانب سے دس سالہ سیز فائر کے غیر اعلانیہ خاتمے کے بعد آزادکشمیر کے سرحدی علاقوں، وادی نیلم، وادی لیپہ، چکوٹھی، عباسپور، نکیال، کھوئی رٹہ تتہ پانی، سماہنی اور دیگر علاقوں میں بسنے والے عوام کو اس فکر میں مبتلا کر رکھا ہے کہ کیا بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی انہیں ایک بار پھر حالت جنگ میں دھکیل دے گی ؟
ایک ایسے وقت میں جبکہ پاکستانی فوج مختلف محاذوں پر نبرد آزما ہے جبکہ ملکی سیاسی حالات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سیاسی قیادت میں اتحاد و اتفاق کا فقدان ہے اور حکومت کو مہنگائی، کرپشن، دہشت گردی اور سیاسی افرا تفری کا سامنا ہے ،سیاسی جماعتیں الیکشن کی تیاریوں میں مگن ہیں ان حالات میں بھارتی فوج کی جانب سے کنٹرول لائن پر کاروائیاں پاکستانی قوم، سیاسی قیادت اور افواج پاکستان کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔

 سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی، سیاسی خلفشار اور حکومت کی کمزوری کا فائدہ اٹھانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔اگر ایسا ہی ہے کہ اس وقت ملک کو لانگ مارچ ، دھرنوں اور انتخابات کی تیاریوں سے زیادہ دفاع کی ضرورت ہے اور سیاسی قیادت فروعی اختلافات بھلا کر وسیع تر ملک مفادات میں فیصلے کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایسے حالات میں جبکہ آپکا بدترین دشمن آپ کی سرحدوں پر تیار بیٹھا ہو فوج کو پارلیمنٹ کی جانب دعوت دینے کے بجائے سرحدوں کی جانب بڑھنے کی ترغیب دینے کی ضرورت ہے تاکہ ملکی سلامتی پر کوئی آنچ نہ آنے پائے۔ یاد رہے کہ افواج کا کام ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے جبکہ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت سیاسی اور مذہبی قیادت کی ذمہ داری ہے اگر دونوں طبقات اپنا اپنا کردار نبھائیں گے تو قومی دنوں طبقات کے پیچھے کھڑی ہو گی اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ موجودہ حالات میں پاکستانی حکومت اور میڈیا کا فرض بنتا ہے کہ کہ بھارت کے دھمکی آمیز بیانات کا بھرپور جواب دیا جائے اور بھارتی کی جانب سے عالمی سطح پر پروپگنڈے کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ اصل حقائق سامنے لانے کے لئے اقوام متحدہ کے ذریعے ان واقعات کی تحقیقات کروائی جائیں تاکہ سرحدی علاقوں کے عوام کو تحفظ کا احساس حاصل ہو ۔
یہ تمام تر حالات ایک جانب مگر دوسری جانب فکر انگیر بات یہ ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور فائرنگ کے مختلف واقعات میں اب تک تین پاکستان فوجی شہید ہو چکے ہیں جبکہ کچھ افراد کے زخمی ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں ۔بھارت کی جانب سے بھی یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے پاکستانی فوج کی جانب سے پونچھ سیکٹر میں بھارتی فوجی چوکیوں پر گولہ باری کی گئی ہے جس میں اب تک تین بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ ہے ۔ اس مسئلہ ہر پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کے درمیان وزرائے خارجہ اور ہائی کمشنرز کی سطح پر تبادلہ خیال ہو چکا ہے اور دنوں ممالک نے اپنے اپنے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے ذمہ داری دوسرے ملکوں پر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

عسکری قیادت کے درمیان بھی اب تک تین سے چار مرتبہ رابطہ ہو چکا ہے تین روز قبل پونچھ میں ہونے والی بریگیڈئر لیول کی فلیگ میٹنگ اور گذشتہ روزپاکستانی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کی جانب سے ہاٹ لائن پر اپنے بھارتی ہم منصب سے بات چیت کے بعداس مسئلہ کی سنگینی واضح ہو گئی ہے۔ 6جنوری کو بھارتی فورج کی جانب سے پونچھ سیکٹر میں پاکستانی چوکی پر فائرنگ کے نتیجے میں پاکستانی فوجی جوان کی شہادت پر پاکستان کی جانب سے شیدید احتجاج کیا گیا ۔تاہم بھارتی فوج نے احتجاج کے جواب میں الٹا پاکستانی فوج پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوج کی فائرنگ سے دو بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

 بھارتی فوج نے میڈیا کے ذریعے پروپگنڈہ کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی یہ باور کروانے کی بھرپور کوشش کی ہے کہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی ذمہ دار پاکستانی فوج ہے۔ اسی دوران بھارتی فوج کے سربراہ کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات سامنے آئے ہیں جبکہ بھارتی وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور حتیٰ کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے بھی اسکی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی ہے اور واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ کنٹرول لائن کی صورت حال کے پیش نظر پاکستان کے ساتھ معمول کے تعلقات برقرار نہیں رہ سکتے ۔


 کنٹرول لائن پر ہونے والے واقعات کے بعد پاکستان نے اپنا موقف واضح کر دیا ہے بھارت کو پیش کش کی ہے کہ کنٹرول لائن کی صورتحال کا تجزیہ او رفائرن کے واقعات کی تحقیقات کے لئے اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو دعوت دی جائے تاہم بھارت کی جانب سے اس پیش کش کا جواب دینے کے بجائے یکطرفہ بیان بازی اور اقدامات شروع کر دئے ہیں۔ ان اقدامات میں لائن آف کنٹرول پر پونچھ،چکوٹھی اور ٹیٹول کراسنگ پوائنٹ پر کراسنگ اور تجارت کی بندش، واہگہ بارڈ پر ویزا کے اجراء کی بندش شامل ہیں ۔ہائی پریمیئر لیگ میں شرکت کے لئے جانے والے پاکستانی کھلاڑیوں کی واپسی کے پیچھے بھی کنٹرول لائن کے واقعات کارفرما ہونے کے اشارے سامنے آ رہے ہیں 
 کیا بھارت پاکستان کے اندرونی خلفشار سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے ؟؟؟؟؟؟

سال 2013ء کا آغاز ہوتے ہی پاکستان میں ایک جانب سیاسی فضاء میں پہلے سے موجود کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ دوسری جانب دہشت گردی کے واقعات میں بھی کافی حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔ 2012ء کے اختتام پر پشاور ائیر پورٹ پر حملے کے واقعہ کے بعدخودکش حملہ میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے سنیئر وزیر بشیر احمد بلور کی درجنوں ساتھیوں سمیت شہادت اور اسکے بعد کوئٹہ بم دھماکوں میں ایک سو سے زائد افراد کی شہادت کے واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کے مختلف علاقوں خصوصاً خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا جبکہ کراچی میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

 کوئٹہ بم دھماکوں میں شہید ہونے والے ہزارہ برادری کے ایک سو سے زائد افراد کی جانب سے شہداکی میتوں کے ہمراہ تین روزہ احتجاج کے بعد بلوچستان حکومت کی برطرفی اور دو ماہ کے لیے گورنر راج کے نفاذ سے ملک کی سیاسی فضا ء میں بھی کچھ تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہوئی ہیں ۔ دوسری جانب تحریک منہاج القران کے سربراہ طاہر القادری 13جنوری سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کے دوران آج تیسرے روز بھی اسلام آباد میں ہزاروں کارکنوں کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ اگرچہ اس دھرنے میں کوئی سیاسی جماعت براہ راست شریک نہیں تاہم ایم کیو ایم ، تحریک انصاف ،تحریک مساوات سمیت متعدد دوسری سیاسی و پارلیمانی جماعتوں کی درپردہ حمائت حاصل ہے۔

 عین اسی وقت جب طاہر القادری اپنے ہزاروں کارکنا ن کے ہمراہ دارالحکومت میں پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیے ہوئے تھے سپریم کورٹ آف پاکستان نے رینٹل پاور پلانٹس کرپشن سیکنڈل کیس میں اس وقت کے وفاقی وزیر پانی و بجلی اور موجودہ وزیر آعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف کی گرفتاری کا حکم بھی دے دیا ہے۔ ان واقعات کا تسلسل اس بات کا غمازی ہے کہ پاکستان اسوقت سیاسی لحاظ سے اندرونی خلفشار سے دوچار ہے ۔ حکومت، سیاسی جماعتوں،قانون نافذ کرنے والے اداروں، فورسز اور خصوصاً پاک فوج کی توجہ مختلف امور پر بٹی ہوئی ہے ۔

 دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج پہلے ہیں مختلف محاذوں پر نبرد آزما ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد بلوچ عوام کے علاوہ بعض ملکی سیاسی قوتوں کا بھی خیال ہے کہ فوج کو کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر بڑے شہروں کا کنٹرول سنبھال لینا چاہے جبکہ سیاسی خلفشار کے بعد بعض سیاسی قوتیں فوج کی جانب سے بھی کسی نہ کسی’’ انٹروینشن‘‘ کی توقع رکھتی ہیں کچھ سیاسی قائدین نے تو فوج کو کردار ادا کرنے کی برملا دعوت بھی دے دی ہے ۔ کراچی کے حالات بھی فوج سے اسکا کردار ادا کرنے کا تقاضا کر رہے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن کی درخواست پر فوج کے ذریعے کراچی میں ووٹر لسٹوں کی تصدیق کا کام بھی جاری ہے ۔ 
Comments