شیخُ الاسلام اور مفاہمت

posted Jan 21, 2013, 2:20 PM by PFP Admin   [ updated Jan 21, 2013, 2:25 PM ]
شیخ جی کی اس تصویر کا دوسر ا رُخ یہ ہے کہ عراق ، مصر اور لیبیا کے سابقہ حکمران‘ صدّام حسین، حُسنی مبارک اور معمر قذافی اپنے آپ کو شیخ کہلانا اپنی توہین تصور کیا کرتے تھے ، اسی ضمن میں ذاتی تجربہ کی بنا پر یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ مرحوم یاسر عرفات کے خیالات بھی شیخ کے حوالے سے کچھ ایسے ہی ہوا  پچھلے پچاس ساٹھ سالوں میں جتنی مادی اور روحانی ترقی برصغیر کے کروڑوں جیتے جاگتے ، بھاگتے دوڑتے حقیقی اور اصلی شیخوں نے مل جل کر کی‘ اس سے کہیں گنا زیادہ ترقی بیٹھے بٹھا�أ فقط مردہ سا اکیلا لفظ ’’ شیخ ،، کر گیا، اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس لفظ کے ساتھ مذہبی
تاریخ کے اوراق میں شیخ کی ایک اور تصویربھی موجود ہے ، جو شیخ کی سابقہ تصویروں کے مجموعی ادراک سے بھی زیادہ طاقتور اور بھاری ہے ، اس میں رندوں کے ساتھ ساقی اور مقتدیوں کے ساتھ امام بھی سر جھکا�أ دست بستہ شیخ کی بارگاہ میں مثل ایاز حاضر ہیں ، یہاں شیخ جی نے بڑی حکمت سے ذرا پیچھے کی طرف ایک قدم سر کایا تو اس اد ا کو ’’ تصور شیخ ‘‘ کا نام دیا ، جو در اصل کسی شیخ طریقت کی متابعت میں ہی ممکن ہے ، تصور شیخ کی پختہ ریاضت کے بعد سالک کے لیے ’’ فنا فی الشیخ ،، اور ’’ فنا فی اللہ ،، کے مقامات جیسے درجات رفیعہ سے آشنایئ کا شعور بخشا ، بندے کو تلقین کی کہ شیخ جی تو فنا فی اللہ ہیں ، تم پہلے فنا فی الذات اور فنا فی الشیخ کی منازل طے کرو اگر کامیاب ہو گی�ئ تو شیخ جی تمیہں فنا فی اللہ کی منزل تک خود بخود پہنچا دیں گے ، حسین بن منصور الحلاج کے اعصاب ان کے اشتیاق اور اقرار کے آگے جب سرنڈر ہوگیئ تو وہ اپنے وقت کے شیخوں کی آواز کے ساتھ اپنی صدا ہم آہنگ کرنے سے نا صرف انکار کر بیٹھے بلکہ انا الحق کی سی نرالی صدا بلند کر دی، بھلا شیخ کی اجازت کے بغیر ’’ فنا فی اللہ ‘‘ ہو جانا ‘ شیخ جی کو کب گوارا تھا ! چنا نچہ حلاج کی اس بغاوت پر اپنے وقت کے شیخ الاسلام نے انکے قتل کا فتویٰ جاری کر دیا ، انکے خون کے ہر قطرے سے اناالحق ، انالحق کی صدایں بلند ہوتی رہیں 
مگر شیخ جی ساری حقیقت جانتے ہوے بھی سر بجبیں بیٹھے خاموش کے خاموش رہے ، امیر خسرو اپنے شیخ کی تلاش آسمانوں میں کرتے کرتے شیخوں کی ایک 
مجلس میں ’’ لامکاں ،، تک پہنچ گیء، اور پھر لامکان سے لوٹ کر آنے کے بعد امیر خسرو نے بتایا کہ خدا کی صدارت میں ہونے والی اس محفل میں‘ جہاں سُو بسوُ رقص بسمل کا سماں تھا ، وہاں پری پیکر ، سراپا دل اور نبی پاک ﷺ کے ساتھ ساتھ محفل کے اندر میں بھی موجود تھا ، 
خدا خود میر مجلس بود ‘ اندر لا مکاں ’ خسرو
محمد‘ شمع محفل بود ‘ شب جاأ کہ من بودم 
امیر خسرو کا یہ کلام اناالحق والے جملے سے کہیں زیادہ گرفت کے قابل تھا مگر چونکہ یہ فنا فی الشیخ کی متابعت میں کہا گیا ، اس لی�ئ امیر خسرو نہ یہ کہ شیخ کے فتوی ٰ قتل سے بچ گی�ئ بلکہ انعام و اکرام کے بھی مستحق قرار پا�أ ، اور آج تک امیر خسرو کی یہ دلکش صدایئں فضاوں میں یونہی گونج رہی ہیں ، مولانا روم جب شیخ کا شکار ہو�ؤ تو اپنی کتب کو پانی میں غرق کر دیا اور بولے کہ ’’ ہست قرآں ‘ در زبانِ پہلوی ،، سید عط�أاللہ شاہ بخاری جناب آغاشورش کاشمیری کی معیت میں جب شیخ کے تیر کا نشانہ بنے تو اپنی جوش خطابت کی تمام تر رنگینیاں بھول گی�ئ اور پکار ا اٹھے کہ ’’ میری گگھری نُوں لا دے گھنگھرُوں ’جے تو میری ٹور ویکھنی ‘‘ ان تمام تر واقعات میں آپ نے دیکھا کہ شیخ الاسلام کس طرح خاموش رہا ، واہ شیخ ایک ہی رنگ میں کیسے دو رنگی سمو دی ! گویا بزعم خویش ‘ خدا فقط ’’ طالبان ‘‘ کے قبضہ میں ہی نہیں بلکہ اس معاملے میں شیخ بھی در پردہ شریک طالبان ہیں ، اسی طرح اگر امام ابو حنیفہ،امام احمد بن حنبل کے ساتھ امام ابن تیمیہ اور شیخ احمد سرہندی جیسے افراد کے انجام کو مد نظر رکھا جاے تو اج کل کے دور میں عافیت اسی میں ہے کہ شیخ الاسلام سے کسی طرح مفاہمت ہو جاے ، چاہے یہ مفاہمت ‘‘ اسلام آباد لانگ مارچ ڈیکلیریشن ،، کے نام سے ہی کیو ں نا ہو ؟
چل بُھلیا ، چل اتھ ے چلیئ ‘ جتھے وسدے انّے
نا کویئ ساڈی ذات پہچانے نا کویئ سانوں منّے 
مکے کے سیانوں نے جب ہجرت کی رات نبی پاکﷺ سے مستقل چھٹکارا حاصل کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے طریق�ۂکار پر ابوجہل بن ہشام ، امیہ بن خلف اور عتبہ و ربیعہ پسران شیبہ جیسے سیانے بھی کسی ایک تجویز پر متفق نہیں ہو پا رہے تھے ، یہاں بھی منصوبہ بندی کرنے والوں پر ایک ہیجان اور اضطراب کی کیفیت طاری تھی اور فیصلہ کا وقت رفتہ رفتہ ہاتھوں سے نکلا جا رہا تھا اسی کشمکش کی کیفیت میں اچانک ایک ضعیف العمر شخص اہل مکہ کے ’’ دارالندوہ ،،کے در پر نمودار ہو کر مکہ کی مختلف پارٹیوں کے راہنماؤں کے مذاکرات میں شامل ہو گیا ، اور کچھ ہی دیر میں مختلف تجاویز پر ان سب راہنماؤں کو سب سے بڑے سیانے‘ ابو الحکم کہلانے والے 
ابو جہل کی طرف سے پیش کی جانی والی اقدام قتل کی تجویز اور اس کے طریق�ۂ کار پر متفق کر لیا ، جب مکہ کہ ان سیانوں نے اس ضعیف العمر اجنبی محسن سے پوچھا کہ تو کون ہے ! تو اس نے بڑے فخرسے جواب دیا کہ میں ’’ شیخ النجد ،، ہوں اور میرا نام شیطان ہے ، 
مغل باشاہ شاہجہان کی حکمرانی کے دور میں کچھ اسی طرح کے مشائخ اور ان کے تصرفات کی کہانیوں پر مبنی سرگرمیوں نے جب پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو اس کا اپنا بیٹا اورنگزیب عالمگیر اقتدار پر قابض ہو گیا ، اس نے ممتاز محل سمیت اپنے باپ شاہجہاں کو بھی آگرہ کے تاج محل کے سامنے قید کردیا اور اپنے بھایئ دارا شکوہ کو جو اس قسم کی سرگرمیوں کا پرچارک تھا قتل کردیا ۔ موسیقاروں کے احتساب کے بعد جعلی عاملوں جیسے دھندھوں میں شریک تمام طرح کے سرکردہ اور نامور لوگوں کے احتساب کی باری آی�ئ تو اورنگزیب عالمگیر نے ایک شاہی فرمان کے تحت سب سے پہلے ان شیخوں کو بلایا اور عزت و احترام کے ساتھ پیش آنے کے بعد ہر ایک شیخ کو اپنا اپنا تعارف کرانے کا حکم دیا ، جب یہ تعارفی تقریب اختتام کے قریب پہنچی تو اورنگزیب عالمگیر اپنے سینکڑوں معزز مہمانوں سے مخاطب ہوا، ’’آپ میں سے کون کون سی وہ مقدس شخصیات ہیں جو میرے سامنے ’ آنے والے تین دنوں کے اندر اندر اپنے اپنے تصرف اور کمال کا ثبوت پیش کر سکیں ؟ ‘‘ بادشاہ وقت کی یہ بات سنتے ہی پوری مجلس پر سکتہ طاری ہوگیا ، شیخی سے تنی ساری گردنیں جھک گئیں ، فصاحت و بلاغت کے عکس و آہنگ سے رنگی نطق وتکلم کی ساری صلاحتیں یکدم ان سارے شیخوں کا ساتھ چھوڑ گئں، پھر اس کے بعدجب تک اورنگزیب عالمگیر زندہ رہا ‘ شیخوں کے ’’چراغ زا ر ، بے نار و بے نُور رہے،
منصور حیدر راجہ ، راولپنڈی
Cell : 0333-5715 088
Email : almunsour@gmail.com

عربی میں بنیادی طور پہ شیخ کا لفظ بڑھاپے میں ایک خاص عُمر تک پہنچنے والے فرد کے لیے وضع ہوا، بڑے اور شریف کے معانی سے گزرتا ہوا ا حترام اور تقدیس کی اصطلاحوں تک جا پہنچا ، جب تیل کے کنؤیں دریافت ہو�ؤ تو دولت اور اسکے تقاضوں نے اسے یرغمال بنا لیا، مسٹر ، جناب ، محترم ،سایئن ، سردار، وڈیرہ کے بعد یہ لفظ دولت پر مبنی دبدبوں کے دیگر معانی میں بھی استعمال ہونے لگا، اور یوں یہ لفظ حرم سے میخانے تک جگہ جگہ پھیل گیا ، پھرجب تیل کی دولت کے ساتھ قوت اور یکتای�ئ ایسی برتری کا احساس انسان کے اندر مچلنے لگا تو اس کے یہ تمام معنی ٰ تنگئ دامن کا شکار ہو گیے اور اس لفظ کی جگہ ’’ مَلَک ،، نے لے لی ،چنانچہ سعودی عرب کی رُولنگ فیملی کے لیے لفظ مَلَک ہی استعمال کیا جاتا ہے، آپ انہیں شیخ نہیں کہہ سکتے ، یہ انکی ناراضگی کا باعث بنے گا یہی وجہ ہے کہ آپ شاہ فیصل اور شاہ خالد کو ’’جلالہ الملک کہیں گے فقط شیخ یا الشیخ کہنے سے اس شاہی دربا رمیں بات نہیں بنے گی ، اسی طرح کوی�ئ دوسری عرب سٹیٹ جس کے تعلقات سعودی عرب کے ساتھ اچھے ہیں وہ اپنے حکمرانوں کو جلالتہ الملک نہیں کہہ سکتی کہ اس طرح کہنے سے سعودی عرب جو اپنے اثر ورسوخ کے علاوہ بھی ایک بڑی ریاست ہے اس کے حکمرانوں کے اندر موجود ا حساس برتری کا نشہ چور چور ہونے لگتا ہے ،، 
چنانچہ ایک خاموش مفاہمت کے تحت دیگر تمام عرب ریاستوں کے شیوخ اس معاہدے کی باقاعدہ پابندی کر رہے ہیں، کویت ، بحرین ، قطر اور متحدہ عرب امارات کے اُمرأ شیخ کہلا نے پر ہی اکتفا کرتے ہیں ، البتہ عمان اور اردن کا معاملہ 
ذرا مختلف ہے ، 

اسی حوالے سے یہ جاننے کی بھی ضرورت در پیش ہے کہ سعودی عرب میں آل شیخ کے نام سے قبیل�ۂ بنو تمیم کی شاخ کا ایک خاندان بھی موجود ہے جو دراصل آل سعود سے رشتہ داری کے بعد وجود میں آیا ’ حالانکہ ان دونوں قبائل کا بنیادی تعلق تو نجد سے ہے مگر یہ دونوں اس وقت خطہ حجاز کی سیادت و قیادت کو اپنا مذہبی اور سیاسی شعار بنا�أ ہو�ؤ ہیں ۔ جس کے تحت ’’ فتویٰ ،، کا اختیار اپنے جملہ حقوق سمیت صرف ’’ آل الشیخ ،،کے پاس محفوظ ہے ،جبکہ حق حکمرانی کے دیگر تمام اختیارات آل سعود کے نام رجسٹرڈ ہیں ۔ کچھ اسی قسم کا معاہدہ اگر لاہور کے شیخ اور لاڑکانہ کے حکمران خاندانوں میں طے پا گیا ہو تو کیا بعید از قیاس ہو سکتا ہے ! اگر آپ صرف ایک صدی پیچھے پہلی عالمی جنگ کے دور میں چلے جایئں تو آپ دیکھیں گے گے اس وقت برطانیہ‘ امریکہ کی جگہ فیصلے کیا کرتھا تھا ، اسلامی مملکتوں کے زوال میں اس وقت برطانیہ کے پاس موجود ’’ و رلڈ آڈر ،، کے اختیار نے ایک اہم رول پلے کیا تھا ، آج بھی انگریزی بولنے والی سفید فام اقوام کے دلوں پر برطانیہ ہی را ج کر رہا ہے مگر جغرافیا ی�ئ پس منظر کی مشکلات کی وجہ سے ان سفید فام گوروں کی سوچ کے اظہار کا مرکز اب برطانیہ سے امریکہ منتقل ہو چکا ہے ، اور امریکی سینٹ کی کونسل کو عربی میں ’’ مجالس الشیوخ ،، کہا جاتا ہے ، اس لیے یہ نکتہ ذہن نشیں رہنا چاہیے کہ پھر کویئ ’’ لارنس آف 
عربیہ ‘‘ ہمارا شیخ نہ بن جا�أَ ،
تصورات کی جتنی بھی رنگ برنگی تصویریں تھیں وہ ساری کی ساری بڑی مہارت اور ہنر مندی سے اس طرح چسپاں کر دی گئی کہ شیخ ہر طبقہ فکر کی سمعی، بصری اور فکری لذتوں اور در ماندگیوں کا مرکز اور محور بن گیا ، در حقیقت اس شیخ کے دھرنے کے لی�ئ قیامت کا یہ میدان اس قدر وسیع و عریض ہے کہ مستقبل میں اس طرح کی دیگر لاکھوں تخلیق کی جانے والی ممکنہ تصویروں کو شیخ کے آستانے پر سجانے میں کسی قسم کی دشواری پیش آنے کا دور دور تک کویی امکان نہیں رہا ؟ ستم بالا�أ ستم یہ کہ ان تمام القابات کی یلغار صدیوں سے اسلام کی تشریح و توضیح کے دعویدا ر تمام قابل ذکر مکاتب فکر نے اپنے اپنے اکابرین کے لیے استعمال کیے ہیں ، کس کس کی شکایت ‘ کس سے کی جاے ؟ ایک حیرت کدہ ہے جہاں سوا�أ گم صُم رہنے کے اور کوی�ئ چارۂ کار نہیں بچا؟
دریں میدانِ پُر نیرنگ‘ حیراں است دانایی 
کہ یک ہنگامہ آرای�ئ ‘ و صد کشور تماشای�ئ
ئ 
 کرتے تھے ، موصوف اپنی بات چیت اکثر انگریزی میں کیا کرتے تھے ، یاسر عرفات نے بھی فلسظین کی آزادی کے لیے جہاد کے نام پر دھرنا دیا رہا اور کام ساری عمر شیخ والا کرتے رہے ، مرحوم اسامہ بن لادن کے ساتھی اور پیروکار بھی انہیں شیخ اسامہ ہی کہتے ہیں اور اور سعودی عرب سے شایع ہونے والی امام ابن تیمیہ کی کتب پر تو انہیں بھی ’’ شیخ الاسلام ‘‘ کا لقب دیا گیا ہے ، اس وقت بھی تھایئ لینڈ کی حکومت نے وہاں بسنے والے مسلمانوں کے مذہبی معاملات کی رکھوالی کے لیے ، ترکی اور نظام حیدرآباد دکن کی حکومتوں کی طرح ،، شاہی فرمان کے تحت ،، شیخ الاسلام ،، کا با ضابطہ ایک منصب قایم کر رکھا ہے ۔ 
آپ ان چند ایک مثالوں پر نظر ڈالی�ئ اور خدا را فیصلہ کیجئے کیا میں غلط کہہ رہا ہوں ، شیخ الشیوخ ، شیخ المشائخ ، شیخ الحدیث، شیخ التفسیر، شیخ القرآن، شیخ العرب،شیخ العجم، شیخ الہند، شیخ الاسلام ، شیخ الاکبر ، شیخ الاشراق ، شیخ الاسرار ، شیخ الحقائق ، شیخ العالَم، شیخ الکُل ، اب ان تمام شیخوں سے بچ نکلیں تو شیخ الجامعہ سے واسطہ پڑتا ہے اور اگر اس ساری صورت حال کی پیچیدگی سے عاجز ہو کر آپ میخانے کا رخ کر یں تو یہاں بھی شیخ جی کو سلام کیے بغیر آپ میخانے کے اندر مطأن ہو کر نہیں جا سکتے ،

منصور حیدر راجہ

اسلام آباد کا دھرنا تو ختم ہوگیا ‘ مگر اس کے اثرات کے ختم ہونے کا امکان نا ہونے کے برابرہے۔میڈیا کی موثر قوت اور ہمہ جہتی گرفت نے اس لانگ مارچ میں اس قدر رنگ بکھیر دیے ہیں کہ اس لانگ مارچ کے اثرات کی ہر تصویر جلوۂ جاناں کی طرح سامنے آ گئ ہے ، دیکھنے والی آنکھ بھی قیامت کی نظر رکھتی ہے ، کویئ اسے لیلی ٰ مجنوں والی نظر سے دیکھ رہا تھا تو کسی کو معرکہ حق و باطل لگ رہا تھا ، کسی کی نگاہ اگر منظر پر تھی تو اس کا ادراک پس منظر کی تلاش میں محو تھا ، میڈیا نے اپنا لانگ مارچ اس طرح لانچ کیا کہ مارکیٹیں اور بازار ویران ہو گی�ئ ؟ لانگ مارچ ایک ایسا کڑوا گھونٹ تھا جو ہر ایک نے چکھا اور جس کا خمار ہر رند میں ہمیشہ باقی رہے گا، بچے ابھی بھی پوچھ رہے ہیں کہ اب اگلا لانگ مارچ کب ہو گا ؟ مگر اس قصے کو ایک طرف رکھتے ہوے مجھے شیخ کے بارے میں کچھ کہنا ہے ، اگر میں اس جگہ شیخ الاسلام کہوں تو آپ پھر چونک جایئں گے، اور میرا کچھ کہنا بھی رائگاں جا�أ گا ، ویسے بھی میرا خیال ہے کہ اسلام کو آپ جانتے ہیں، لفظ شیخ الاسلام میں اسلام وہی ہے جو آپ کے دلوں اور دماغوں مین موجود ہے البتہ امکانی حد تک اس لفظ کی ترکیبی صورت میں یہ ابہام ضرور موجود ہے کہ کہیں آپ شیخ الاسلام میں استعمال ہونے والے شیخ کو غلط معنی نہ دے دیں ۔ اسی ابہام کو دور کرنے کے لیے آ ی�ئ مل جل کر ’’ شیخ ،، کو سمجھنے کی کوشش کریں 
میں نے جب ہوش سنبھالا تو سب سے پہلا شیخ، جس سے میں متعارف ہوا وہ ایک تاجر پیشہ،پرہیزگار اور متحرک قسم کی شخصیت تھے ، میرے سکول جانے سے پہلے موصوف ہمارے گھر کے قریب سے پیدل لانگ مارچ کرتے ہو�ؤ تقریباً چار کلومیٹر دوری پر واقع اپنی دکان پر پہنچا کرتے تھے،وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ میرے علم میں یہ اضافہ ہوا کہ موصوف محترم کو شیخ اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ انکی نسبی یا خاندانی شناخت ہے اور جہاں انکا دولت خانہ ہے اس جگہ کو شیخوں کا محلہ کہا جاتا ہے،پرایمری تعلیم کے بعد مجھے ایک اور شیخ صاحب کا سامنا کرنا پڑا، یہ صاحب اپنی جسامت سمیت کردار کے حوالے سے بھی سابقہ شیخ سے یکسر مختلف اور متضاد شخصیت کے مالک تھے ،آپ انہیں اگر شیخ رشید سمجھ لیں تو معا ملہ فہمی آسان ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی عین نوازش ہوگی !
شیخ کا لفظ سنتے ہی ذہن میں پہلا تصورکسی عرب شیخ کا ابھرتا ہے حالانکہ شیخ کا یہ مفہوم ومعنی ہی اصل حقیقت نہیں ؟ مگر بھلا ہو مرحوم ذُوالفقار علی بھٹو کا کہ جن کی سیاسی اور معاشی حکمت عملی پر مبنی بالغ نظری نے نے لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرس کے انعقاد کی صورت میں عرب و عجم کے مسلمانوں کو یکجا کیا تھا ، انہوں نے اس اسلامی سربراہی کانفرنس کے نتیجے میں جہاں شاہ فیصل اور معمر قذافی جیسے مخلص اور نڈرسیاسی قاأدین کو پاکستان کے عوام و خواص سے متعارف کرایا وہاں متحدہ عرب امارات کے سربراہ جناب شیخ زائد بن سُلطان النیہان کو بھی کچھ ایسا شرف قبولیت بخشا کہ شیخ کا لفظ سنتے ہی زاأد کا خیال خود بخود پیدا ہو جاتا ، گو کہ یہ دونوں الفاظ اپنے معنے اور مخارج کے اعتبار سے خاصے مختلف ہیں اور اختلاف کی انتہائیں اتنی پختہ اور بلند ہیں کہ ان دونوں لفظوں میں میں اتحاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ! مگر نا صرف یہ دونوں متحد ہو ؤے بلکہ ایسے یکجان ہو�ؤ جس کے بعد یہ ممکن نا رہا کہ شیخ کا لفظ تو سماعت سے گذرے مگر اس سے مراد شیخ زائد کے علاوہ کوی�ئ دوسرا فرد ٰ یا شخص ہو ! اب معاملہ کچھ اس طرح ہو گیا کہ 
من تُو شُدم تُو من شُدی من تَن شُدم تو جاں شُدی
تا کَس نا گوئید بعد ازاں من دِیگرم تُو دِیگری
شیخ موصوف کو یوں خراماں خراماں چلتے اس معروف اور ممتاز مقام تک پہنچنے کیلے سرگوشی کے سے انداز میں فلمسٹار عالیہ اور ان پر پکچرائز کیے جانے والے اس مدھر نغمے کی گنگناہٹ نے بھی بڑا موثر رول پلے کیا تھا ، 
میری چیچی دا چھلّا ماہی لا ‘ لیا ، گھر جا کے شکایت ’ لاواں گی
مینوں بدو بدی پچھے پچھے لا لیا، گھر جاکے شکایت لاواں گی،
خیال رہے کہ اس وقت ان عرب شہزادوں کی رحیم یار خان والی مشہور شکار گاہ اپنی تکمیل کے ابتدایی مراحل سے گذر رہی تھی اس لیے ان کی جلوہ افروزیوں کا مرکز لاہور تھا اور لاہور کی فلم انڈسٹری بھی اپنے عروج کی موجوں میں مست ہوا کرتی تھی ۔ تب پنجاب کے شیر غلام مصطفےٰ کھر کہلاتے تھے اور میڈا سائں والی محترمہ تہمینہ کا دور دور تک نام ونشان بھی نہ تھا۔تب سے اب تک ان عرب شیخوں کا تصور عوام الناس کے دلوں میں گُد گُدی سی پیدا کرتا رہتا ہے، میں نہیں کہتا کہ شیخ الاسلام والے شیخ اور شیخ زائد بن سلطان النیہان والے شیخ میں کوی�ئ ظاہری یا باطنی مماثلت یا مطابقت پایئ جاتی ہے پر لفظ زائد اور زرداری میں صرف حرف ’’ ر ،، کا ہی فرق ہے ، اب حرف ’’ ر ،، کی وضاحت کو مزید آگے نہیں لے جا سکتے کیوں کہ اس حرف میں خود ہی تکرار کی صفت پای�ئ جاتی ہے تاہم یہ اشارہ کافی ہے کہ شیخ اور زائد یا زرداری میں پہلے سے ہی مطابقت موجود ہے ! حالانکہ آج کی طرح اس وقت بھی پاکستان میں حکومت پی پی کے ہی پاس تھی ۔
شیخ کے سا تھ جب اور جہاں بھی اسلام شامل ہو تو عوام و خواص کو اپنی تمام تر توجہ شیخ پر رکھنا چاہی�ئ ۔کیونکہ اسلام از خود امن کا ضامن اور پیامبر ہے،اس سے کسی کو کوی�ئ خطرہ لاحق نہیں ، اور نہ ہی اسلام اتنا کمزور ہے کہ یہ اپنا دفاع نہ کر سکے ، ا لبتہ شیخ جی کو کچھ ہو گیا تو ’’ہمارااسلام ، ضرور خطرہ میں پڑ جا�أ گا ۔ اسلام آباد والے لانگ مارچ کے تناظر میں اس نقطۂ نظر کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہی�ئ ، یوں تو شیخ پوری دنیا حتیٰ کہ امریکہ، آسٹریلیا ،یورپ ، صومالیہ ،مصر اور دیگرافریقی ممالک کے علاوہ کنیڈا میں بھی موجود ہیں۔ ان میں مسلمانوں کے علاوہ عیسایئ شیوخ بھی شامل ہیں جنکی تعداد تقریباً ایک کروڑ کے قریب ہے ، مگر اس وقت جو بات پیش نظر ہے اس کا تعلق ان شیخوں سے ہے جو مسلمان یا ہمارے ہم وطن ہیں۔اگر ہم اپنے ہم وطن شیخوں پر نگاہ ڈالیں تو ان کی اکثریت ان لوگوں پر مشتمل ہے جو پہلے برہمن ،کھتری ،راجپوت اور گجر کہلاتے تھے ، اسلام قبول کرنے کے بعد برہمن اور کھتری کہلانا تو چھوڑ دیا البتہ اب راجپوت اور گجر والی شناخت کو برقرار رکھتے ہو�ؤ شیخ کہلاتے ہیں، برصغیر میں ان شیخوں کی مجموعی تعداد بیس کروڑ سے بھی زاید شمار کی جاتی ہے ۔ طبعی طور پر یہ طبقہ جاگیر داری سے زیادہ سرمایہ داری کی طرف راغب رہا اور کاروباری سوجھ بوجھ کی فطری صلاحیت کی بناپر آج پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی ماند شمار ہوتا ہے۔چنیوٹ سے کوچ کرنے والے شیخوں نے توکراچی کی معیشت پر آج بھی اپنی گرفت خاصی مظبوطی کے ساتھ برقرار رکھی ہویئ ہے، اس کے علاوہ میاں منشاہ اور ستارہ گروپ کی بہترین کاروباری ساکھ سے کون واقف نہیں ، اسی طرح علامہ اقبال سے احسان الہی ظھیر تک اہل علم کی بھی ایک طویل قطارانہی شیخوں پر مشتمل ہے،یہ اصلی اور نسلی شیخ ہیں اسلیے ان کی خدمات قابل صد تحسین ہیں۔ 
Comments