حوا کی بیٹی آخر کب تک تشّدد کی زد میں۔۔۔۔۔؟؟

posted Dec 7, 2012, 12:45 PM by PFP Admin   [ updated Dec 7, 2012, 1:14 PM ]

اپنے فرائض کو پورا کرنے والی حوا کی بیٹی کو سوسائٹی سے کتنا اپنا حق ملتا ہے؟دین اسلام نے عورت کو مکمل مذہبی آزادی دے رکھی ہے اور اسے حقوق دے کر نہ صرف اس کی عزت،عظمت میں اضافہ کیا ہے بلکہ اسے معاشرے کا ایک اہم ستون بھی مانا گیا ہے جس کے بنا معاشرے کی اکائی خاندان کا وجود بھی ممکن نہیں ۔
معاشرے کی فرسودہ رسم و رواج کو پورا کرنے کیلئے کب تک یہ بیچاری حوا کی بیٹی ان فرسودہ رسوم کی بھینٹ چڑھتی رہے گی؟ کب تک ظلم و تشدد کے پہاڑ سہتی رہے گی؟ انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والے ادارے اور تنظیمیں فائلوں کے پیٹ بھرنے،ایک دوسرے سے سبقت لینے کی دوڑ سے نکل کر انہیں عملا خواتین کے حقوق کیلئے نہ صرف میدان میں آنا ہوگا بلکہ زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے سو سائٹی میں لوگوں کے اندر شعور و آگاہی کے پودے اگانے ہوں گے اور انہیں باور کروانا ہوگا کہ عورت جسے آج بھی فرسودہ ذہنیت کے حامل لوگ اسے پاؤں کی جوتی سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہیں ا نہیں یہ بتانا ہوگا کہ عورت پاؤں کی جوتی نہیں یہ وہ مالا ہے جسے طریقے سے گلے میں سجایا جائے تو آدمی کی قدرو منزلت کو نہ صرف بڑھاتی ہے بلکہ اس کی عزت،عظمت،رفعت کو بھی بحال رکھنے میں معاون و مدد گار ہوتی ہے جس دن لوگوں کے اندر یہ شعور بیدار ہو گیا 
پھر کوئی مائی کا لعل حوا کی اس بیٹی کا دامن داغدار نہیں کر سکے گا۔
بنت حوا کو مسائل کی دلدل میں دھکیلنے والے کوئی اور ہی نہیں اس کے اپنے ہی ہوتے ہیں 

کیوں جور  و   جفا  کو مقدر  میرا  بنا     دیا 
بڑا وہ کون سا جرم ہے جو سر میرے لگا دیا 

موجودہ دور میں اگر حقائق سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوگی کہ آج کی عورت کی ذمہ داریاں اور کام مردوں کے مقابلے میں زیادہ اور مشکل بھی ہیں جن کی انجام دہی کیلئے وہ دن رات کوشاں نظر آتی ہے 
کبھی تیزاب پھینک کر اس کے نازک جسم کو جھلسا دیا جاتا ہے تو کبھی یہ حوا کی بیٹی غیرت کے نام پر کٹی اور سسکتی دکھائی دیتی ہے اور کبھی اسے گھریلو تشدد و ناروا سلوک کو خندہ پیشانی سے قبول کرنا پڑتا ہے 
اگر ایک عورت ڈاکٹر ہے تو وہ ایک ذمہ دار بیوی بھی ہے جو ایک ذمہ دار اور کامل ماں کی ذمہ داریاں بھی بخوبی نبھاتی ہے اگر وہ ٹیچر ہے تو جہاں اتنے سارے بچوں کی کردار سازی کرتی نظر آتی ہے تو وہاں اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت سے بھی غافل نہیں رہتی اور اگر وہ وکالت کے پیشے سے منسلک ہے تو وہ دوسروں کو انصاف دلانے کیلئے سرکرداں دکھائی تو دے گی مگر گھر کی دہلیز پار کرتے ہی اس کی راہوں میں کانٹے اور رکاوٹیں اس کی منتظر رہتی ہیں، 
یہاں یہ سوال بھی تو پیدا ہوتا ہے کہ بنت حوا جو دوسروں کی خدمت خاطر کیلئے صبح سے رات تک خود کو حاضر رکھتی ہے اسے اس کے کام کے بدلے میں کیا ملتا ہے؟ ذلت،رسوائی،مار پیٹ،جنسی تشدد،ہراساں کرنا وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
تحریر: نجمہ بتول
بیٹی ہوں میں حواکی ازل سے ستم سہتی آئی ہوں
 ہردور کے حاکم سے  داستان  اپنی کہتی آئی ہوں
اگر ہم تاریخ پر غور کریں تو ہمیں یہ بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب حوا کی بیٹی کا وجود اس دنیا میں آنا ہی اس کا سب سے بڑا جرم سمجھا جاتا تھا پھر اس جرم کی سزا اسے زندہ درگور کی صورت میں سہنا پڑتی اور شاہد یہ ہوا کی بیٹی پر تشدد کی ابتدا تھی پھر شاہد اس کو اس شرط پر زندگی کی بھیک بخشی گئی کہ جورو جفا کو اس کا مقدر بنا دیا گیا یعنی حوا کی بیٹی ازل سے ظلم و تشدد برداشت کرتی چلی آئی ہے حالانکہ اسلام نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھ کر عورت کو بہت اعلٰی و ارفع مقام عطا کیا ہے لیکن یہاں یہ لمحہ فکریہ ہے کہ کیا آج کے دور جدید میں عورت پر ظلم و جبر سے اسے استثنٰی مل گیا ہے ؟اگر ہم غور کریں تو ہر انسان بحیثیت مسلمان اپنی خود احتسابی کو یقینی بنائے کہ آیا اسلام نے جو حقوق عورتوں کیلئے متعین کئے ہیں ہم ان پر کتنا عمل پیرا ہوتے ہیں؟ ایک عورت اپنی زندگی گزارتے ہوئے کن کن پر خطر نشیب و فراز سے گزرتی ہے ایک عورت جو ماں بھی ہے،بہن، بیوی اور بیٹی کا مقدس روپ بھی دہارے ہوئے نظر آتی ہے اسے زندگی کے جس سانچہ میں ڈالیں ڈھلتی ہی چلی جائے گئی ان بدلتے لمحات میں اسے کس کرب و بلا سے گزرنا پڑتا ہے ؟اسے بے شمار مصائب و آلام کو سہنا پڑتا ہے کبھی تیزاب پھینک کر اس کے نازک جسم کو جھلسا دیا جاتا ہے تو کبھی یہ حوا کی بیٹی غیرت کے نام پر کٹی اور سسکتی دکھائی دیتی ہے اور کبھی اسے گھریلو تشدد و ناروا سلوک کو خندہ پیشانی سے قبول کرنا پڑتا ہے بنت حوا کو مسائل کی دلدل میں دھکیلنے والے کوئی اور ہی نہیں اس کے اپنے ہی ہوتے ہیں ،آج بھی دنیا میں کوئی چیز بکتی ہے تو وہ عورت ہے، عزتیں پامال چادر اور چار دیواری کی حرمت مٹتی ہے تو اثر ایک عورت پر ہی پڑتا ہے، کہنے کو تو ہم نے عورت کو صنف نازک سے تعبیر کر دیا ہے مگر جن مظالم کو وہ سہتی ہے اگر وہ کسی مضبوط اعصاب کے مالک پر روا رکھے جائیں تو یقیناًوہ بھی اپنے حوش و ہواس کھو بیٹھے،
کیا کبھی آپ نے یہ پڑھا یا سنا ہے کہ چولہا پھٹنے سے کسی مرد کی موت واقع ہوگئی ہے؟ تیزاب ڈالنے سے کوئی مرد جھلس گیا ہو یا پھر غیرت کے نام پر مرد کو سولی پر لٹکا دیا گیا ہو؟ نہیں ناں۔۔۔۔۔؟؟ پھر یہ ساری صعوبتیں،ایک عورت کے مقدر میں ہی کیوں؟سوچنے کی بات ہے ناں کہ ان ساری اذیتوں کو عورت کے نام سے ہی کیوں منسوب کر دیا گیا ہے ؟
Comments