چند تصویریں اہل بینا کے نام

posted Oct 18, 2012, 7:11 PM by PFP Admin   [ updated Oct 18, 2012, 7:39 PM ]
سیرت النبی (ﷺ) کہ یہ وہ واقعات ہیں جن کا تعلق ابتداء و آزمائش اور دنیاوی لحاظ سے قدرے ایک کمزور عہد کے ساتھ ہے ۔آئیے اسوہ حسنہ کا ایک اورر نگ دیکھتے ہیں جب پیغمبراسلام (ﷺ) نے اپنے مخالفین پرسیاسی اور عسکری غلبہ حاصل کرلیا تھا۔ شہر مکہ فتح ہو چکا ہے ، ماضی کی تمام تعذیب ،گستاخیوں اورجور و جفاکاحساب برابر کرنے کا اس سے بہتر موقع اور کوئی نہیں ہو سکتا،لیکن انسانیت کے محسن کے دل میں کوئی جذبہ انتقام نہیں ، نفرت نہیں، غیض و غضب نہیں، غصہ نہیں، گالیاں نہیں، طاقت کا غلط استعمال نہیں، بلکہ دل سوزی ہے، ہمدردری ہے ، شفقت ہے، رحمت ہے ، زندگی کا پیغام ہے ، طاقت کا استعمال ہے تو کم سے کم ہے ، بقدر ضرورت ہے ،مگر اگر ضرورت کسی بات کی ہے تو اس بات کی ہے کہ دل مسخر ہوں، لوگ پیدا ہوں جو حق پر آ جائیں، آج نہ ہوں تو کل ہوں، فرمایا : تم سب آزاد ہو ۔یعنی وہ سب معاف ہو گئے ، جو محض گستاخ ہی نہیں جانی دشمن تھے ، طائف کے لونڈے اورسردار جنہوں نے طعنوں کے نشتر او رپتھر مارے تھے ، ابو سفیان کی بیوی جنہوں نے چچاحضر ت حمزہ کا کلیجہ چاک کر کے چبا ڈالا تھا، حبر بن الاسود جس نے آپ کی بیٹی کو اونٹ سے گرا کر زخمی کیا تھا، ابولہب جو آپ کو جھوٹا اور وہ تمام جو آپ کو پاگل، جادو گر اور مجنوں کہتے تھے اوروہ بھی جنہوں نے غریب الوطنی کی اندوہ نا ک زندگی میں دھکیل کرپیغمبراسلام (ﷺ) اور ان کے جاں سپار ساتھیوں کوپتے، چمڑا اور جڑی بوٹیاں کھانے پر مجبور کیا تھا۔
قارئین! سیرت النبی کی یہ وہ مبارک تصویریں ہیں جو گزشتہ کئی دنوں سے میرے ذہن کی سکرین پر بار بار ابھر رہی ہیں، جب سے ایک متنازعہ امریکی فلم نے دنیا بھر میں مسلمانوں کے جذبہ عشق رسالت کو جگایا ہے ، اور اس شدت عشق میں علماء کی زبانوں پر شعلے ، عوام کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور سوشل میڈیا میں دکھائی جانے والی تصویروں میں بچوں کے ہاتھوں میں تلواریں اور خنجر ہیں ۔ اس وقت پورے عالم اسلام میں سوائے ہندوستان کے مولانا وحید الدین خان کے علاوہ ، ایک بھی آواز نہیں ہے کہ جو امت کویہ پیغام دے کہ ایسی صورت میں اس راستے کو اپنایا جائے جو پیغمبر اسلام نے اپنے اعمال اور کردار سے انسانیت کو بتایا ہے اور وہ راستہ ہے حکمت، دعوت اور بھلائی کا راستہ ، مگر غیض وغضب میں ڈوبی ہوئی امت مسلمہ یہ فراموش کر چکی ہے کہ اسکی جنگ مرض سے ہے ، مریض سے نہیں، نبی اکرم (ﷺ) کا اسوہ مبارک اپنے اعمال کو کھول کھول کر یہ بتا رہا ہے کہ برے انسان کو اس وقت کاٹ کر پھینکا جاتاہے جب ہدایت اور شفاء کی امید ختم ہو جائے ۔مگر سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ہدایت سے بھٹکے ہوؤں کو دعوت کا پیغام کون دے گا؟
متنازعہ فلم ساز اوروقت کے ابو جہل نکولا باسلے ( Nakoula Basseley )کے دیس امریکہ میں اس وقت دو ملین سے زائد مسلمان قیدی ہیں اور ان کی تعداد میں 3.7فی صد سالانہ کے اعتبار سے اضافہ ہو رہا ہے ،پیغمبر اسلام کے خاکے چھاپنے والے میگزین کے فرانس میں جیلوں کی کل آبادی میں سے نصف صرف مسلمانوں پر مشتمل ہے برطانیہ میں مسلمان کل آبادی کا تین فیصد ہیں لیکن جیلوں میں مسلمانوں کا یہ تناسب 12.6فیصد ہے اور ان تمام قیدیوں میں فراڈ ، چوری ، ڈکیتی اور جرائم میں ملوث مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ایسے مسلم علمائے کرام بھی شامل ہیں جو انھی مساجد اور مدارس میں کمسن بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب ہیں جہاں منبر رسول پر بیٹھ کر وہ عشق رسول کا درس بھی دیتے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر دو گھنٹے میں ایک عورت کی عصمت لٹتی اور ہر آٹھ گھنٹے کے بعد ایک گینگ ریپ کا واقعہ ہوتاہے ، جیلوں میں
پڑے قیدیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے ، صرف 2012ء میں پاکستان میں پندرہ ہزار کلمہ گو انسان عام جھگڑوں میں موت کے گھاٹ اُتارے گئے پیغمبر اسلام نے گورے اور کالے کا امتیاز ہمیشہ کیلئے مٹادیا ہے ،لیکن پاکستان میں صرف شہر کراچی میں اس سال ستمبرتک 1279کلمہ گو انسان عصبیت کے نام پر مارے گئے ، اہل ایمان کی سرزمین شام میں 33ہزار 435مسلمان اپنے ہی بھائیوں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اُتار دیے گئے ، محمد عربی کے جد امجد کے وطن فلسطین سے پچاس لاکھ مسلمان کئی دہائیوں سے در بدر لیکن مڈل ایسٹ کے مسلم حکمرانوں کی زبانیں کنگ ہیں ۔یمن میں دو لاکھ 67ہزار بچوں سمیت 44فی صد مسلم آبادی بھوکی ہے ، برما کے مسلمانوں کی اشک شوئی کرنے والی ترکی کی خاتون اول اورمسلم حکمرانوں کے ہاتھ 70ہزارکرد مسلمانوں کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں، ان کے علاوہ پندرہ لاکھ مسلمانوں کو عراق اور ترکی کے مسلم حکمرانوں کے ظلم اور جبر نے دنیا بھر میں مہاجرین کی زندگی بسرکرنے پر مجبور کیا ہے لیکن امت مسلمہ چپ ہے۔
اس جرم کو سب نے دیکھ لیا جو تم نے سر بازار کیا
اس جرم کو دنیا کیا جانے جو تم نے پس دیوار کیا


سیرت طیبہ کاایک اورمنظر دیکھتے ہیں : آپ حرم میں مصروف نماز ہیں کہ اتنے میں ابو جہل بولا، اس وقت کوئی جاتا اور اونٹ کی اوجھ نجاست ، سمیت اٹھالاتا تا کہ جب محمد (ﷺ) سجدے میں جائے تو اس کی گردن پر ڈال دے ‘‘ عقبہ نے کہا کہ بندہ اس خدمت کیلئے حاضر ہے اور واقعی غلاظت سے لتھڑی ہوئی اوجھری لائی گئی اورآپ ؐ کی گردن مبارک پر پھینک دی گئی.

 اسی حرم کا ایک اور واقعہ ہے کہ دوران نماز عقبہ نے چادر آپ کے گلے میں ڈال کر خوب مروڑ کر گلا گھونٹا یہاں تک آپؐ گھٹنوں کے بل گر پڑے اتنے میں حضرت ابوبکرصدیقؓ نے آپ کو چھڑایا، آپ کے پڑوسیوں نے تضحیک ودشنام اور القاب طرازی کی تمام حدیں پھلانگ دی تھیں ، قرآن پاک پڑھنے کی حالت میں آپؐ کو، قران پاک کو اوراللہ تعالیٰ کو گالیاں دی جاتیں ، قریش میں بعض خبیث بدتمیزی کی اس حد تک پہنچے کہ آپ کے رخ انور پر نفرت سے تھوک دیتے تھے ، مردوں کے ساتھ اہانت رسول (ﷺ) میں خواتین بھی پیش پیش تھیں، ابو لہب کی بیوی آپ کے راستے میں بلا ناغہ غلاظت، کوڑا کرکٹ اور کانٹے جمع کرکے ڈالتی تھی، ام جمیل تو ایک پتھر لے کر اس ارادے سے آئی کہ ( نعوز باللہ)آپ کا کام تمام کر دے ۔
نبی اکرم (ﷺ) کا یہ معمول تھا کہ جب کوئی ہدیہ بھیجتا تو اسے محفل میں موجود صحابہ کرام کو پیش کرتے۔

 شہر مکہ فتح ہو چکا ہے ، ماضی کی تمام تعذیب ،گستاخیوں اورجور و جفاکاحساب برابر کرنے کا اس سے بہتر موقع اور کوئی نہیں ہو سکتا،لیکن انسانیت کے محسن کے دل میں کوئی جذبہ انتقام نہیں ، نفرت نہیں، غیض و غضب نہیں، غصہ نہیں، گالیاں نہیں، طاقت کا غلط استعمال نہیں، بلکہ دل سوزی ہے، ہمدردری ہے ، شفقت ہے، رحمت ہے ، زندگی کا پیغام ہے ، 

ایک مرتبہ ایک یہودی نے زہر بھرا گوشت آپ 
کی خدمت میں بھیجا ، یہ گوشت پہلے صحابی رسول بشر بن البسرۃ نے کھایا ،حضورؐ نے ایک دولقمے لئے تو زہر کی آمیزش کا اندازہ کر کے صحابہ کرام کو کھانے سے روک دیا ، بعد میں اس یہودی عورت نے کھانے میں زہر کا یہ کہہ کر اعتراف کیا کہ اگر آپٌ  خداکے حقیقی پیغمبر

ہوتے تو زہر کا آپ پر کوئی اثر نہیں ہو گااور اگر خدا کے رسول نہ ہوئے تو لوگوں کو ایک جھوٹے پیغمبر سے نجات مل جائیگی( نعوذباللہ )
اس پر صحابہ کرام نے اجازت طلب کی اس عورت کو قتل کر دیا جائے ، تو آپؐ نے منع کر دیا اور معاف کر دیا ، بعد ازاں زہر کے اثرات کی وجہ سے صحابی رسول (ﷺ) کی موت واقع ہو گئی تو اس اس 
عورت کو سزا دی گئی ۔

متنازعہ فلم ساز اوروقت کے ابو جہل نکولا باسلے ( Nakoula Basseley )کے دیس امریکہ میں اس وقت دو ملین سے زائد مسلمان قیدی ہیں اور ان کی تعداد میں 3.7فی صد سالانہ کے اعتبار سے اضافہ ہو رہا ہے

تحریر:ظفر اقبال
 
موسم گرما میں عرب کے ریگزاروں میں د و مسافر تپتی ہوئی گرمی میں پیادہ پا چل رہے ہیں، دونوں کی منزل طائف ہے ، لیکن دس سال مکہ میں ٹھکرائے جانے کے بعد جو امیدیں طائف سے وابستہ کی گئیں تھیں وہ اس وقت چکنا چور ہو گئیں، جب امارت و طاقت کے نشے میں چور سردار نے دعوت کو ٹھکرا دیا ، ٹوٹے ہوئے دل کیلئے پہلا تیر تو یہ تھا جب ایک سردار نے کہا: اللہ کوتمہارے سوا رسول بنانے کیلئے کوئی اور نہیں ملا، جسے سواری کیلئے گدھا تک میسر نہیں، زہر میں بجھے ہوئے تیر تھے جو انسانیت کے محسن کے سینے میں پے در پے پیوست ہوتے چلے گئے لیکن آپ نے نہایت صبر و تحمل سے یہ زخم سہہ لئے ۔

میں مایوس نہیں ہوں کہ اللہ ان سے ایسے لوگ پیدا کرے جو اللہ کی بندگی کریں اور اس کے 
ساتھ کسی اور کو ساجھی نہ بنائیں

زخمی دل کے ساتھ سرداروں کی محفل سے نکل کر آپ باہر آتے ہیں، تو شہر کے لچے لفنگوں اور غنڈوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا جاتاہے جو آ پ پر پتھروں کی بارش کردیتے ہیں، 
اتنے میں رفیق سفر حضرت حارثؓ عرض کرتے ہیں’’ ان ظالموں کیلئے دعا کیجئے ‘‘ رحمت مجسم نے فرمایا :’’ میں ان لوگوں کیلئے بد دعا کیوں کروں ، اگر یہ لوگ خدائے واحد پر ایمان نہیں لاتے تو مجھے امید ہے کہ ان کی نسلیں ضرور خدا کی پرستار ہوں گی ، اتنے میں پہاڑوں کا فرشتہ حاضر ہو کر اجازت طلب کرتاہے کہ اے محمد (ﷺ) آپ کا حکم ہو تو میں ان پہاڑوں کو اُٹھا کر شہر طائف کو پیس کر رکھ دوں ‘‘
فرمایا :میں مایوس نہیں ہوں کہ اللہ ان سے ایسے لوگ پیدا کرے جو اللہ کی بندگی کریں اور اس کے 
ساتھ کسی اور کو ساجھی نہ بنائیں۔

حوالہ جات :
۱) سیرت النبی ( جلد اول ) مولانا شبلی نعمانی ، ۲) محسن انسانیت ،( مولانا نعیم صدیقی، ۳) سیرت خاتم الانبیاء ( مولانا مفتی شفیع عثمانی )۴) چند تصویریں سیرت کے البم سے ( مولانا خرم مراد۵) ماہنامہ الرسالہ ( نئی دہلی ) مدیر: مولانا وحید الدین خان ، ویب سائٹ ، سنٹر برائے امن و روحانیت( . انڈیا)
[ کالم نگار ظفر اقبال قیام امن کے لیے کوشاں غیرسرکاری ادارے پریس فار پیس کے بانی سربراہ ہیں۔]

Back to Conversion Tool

 
Comments